مسائلِ وراثت - عبداللہ امانت محمدی

دین اسلام اس طریقے کا نام ہے جس نے نہ صرف زندگی کے ہر پہلو بلکہ موت کے بعد پیش آنے والے معاملات پربھی نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وراثت کا مسئلہ جو انسان کی موت کے بعد پیش آتا ہے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور عام طور پر معاشرے کے دو کمزور طبقے یعنی (یتیم) بچے اور عورتیں تقسیمِ وراثت کے وقت ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس سے قطع رحمی اور لڑائی جھگڑے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جس طرح گن پوائنٹ پر قیمتی سازو سامان چھیننا جرم ہے، اس سے بھی بڑا جرم ہے وراثت میں حصہ داروں کو ان کا حصہ نہ دینا۔\n\nعلم میراث ہر گھر کی ضرورت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن علوم کا سیکھنا ضروری ہے وہ تین طرح کے ہیں جبکہ دوسرے علوم کا سیکھنا فضیلت کے باب میں آتا ہے۔ اور وہ یہ ہیں کہ قرآن کی آیات احکام کا سیکھنا، دوسرا سنت نبوی کا علم، تیسرا فرائض یعنی وراثت کا علم جو سارے کا سارا حق پر مبنی ہے، (ابوداؤد،جلددوم،حدیث:1118)۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، یقیناًیہ آدھا علم ہے اور یہ بھلا دیا جائے گا، اور یہ پہلا علم ہوگا جو میری امت سے اٹھا لیا جائے گا، (ابن ماجہ ، جلد دوم، حدیث:878)۔ علم الفرائض سیکھنا اور سکھانا بہت بڑی نیکی ہے۔\n\nاللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورۃ النساء کی آیت نمبر7تا14 اور آیت نمبر176میں واضح کر دیا کہ کس کس وارث کو کتنا کتنا حصہ ملنا ہے۔ میت کے کفن، دفن کے بعد سب سے پہلے اس کے قرض کی ادائیگی کریں ۔اس کے بعد وصیت کو پورا کیا جائے اور خیال رکھیں کہ وصیت، دین (Loan)کی ادائیگی کے بعد تہائی (1/3)حصہ سے کم ہو اور وصیت کسی وارث اور حرام کام کے لیے جائز نہیں۔ ان مراحل کےبعد مال کو اصحاب الفروض میں تقسیم کر دیا جائے۔ یاد رکھیں جس طرح وقت پر نماز پڑھنا، روزہ رکھنا اور حج ادا کرنا ضروری ہےاسی طرح میراث کو بانٹنے میں تاخیر نہ کریں کیونکہ دیر کرنے سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ قاتل مقتول کے ترکے سے حصہ نہیں پائے گا۔ وراثت میں حصہ دینا زکوۃ دینے سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی زندہ شخص وراثت تقسیم کرتا ہے تو جتنا بیٹے کو دے گا اتنا ہی بیٹی کو دینا پڑے گا کیونکہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر مرنے کے بعد ہے، زندگی میں یکساں ہی تقسیم کرنا پڑے گا۔ کسی بیٹے یا بیٹی کو عاق نامہ کی وجہ سے میراث سے محروم کرنا غلط ہے۔ مسلم غیر مسلم اور غیر مسلم مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ بعض کہتے ہیں ہماری بہن نے ہمارے لیے اپنا حق چھوڑ دیا ہے، یہ بلکل غلط اور مال ہڑپ کرنے کا بہانا ہے، کیونکہ چھوڑے گی تو تب، جب اس کا مال پر قبضہ ہوگا۔ وہ تو رشتہ داریاں ٹوٹنے کے ڈر سے کہہ دیتی ہے کہ بھائی میرا حق بھی آپ ہی رکھ لیں۔ اس کے اتنے ہی ہمدرد ہو تو اپنے مال میں سے اسے دو کہ بہن، مجھے تم سے ڈبل ملا ہے لہذا میرا کچھ مال تم رکھ لو۔\n\nکتاب و سنت نے قانونِ وراثت سے منہ پھیرنے والوں کو خبردار فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ نے میراث کے متعلق قواعد و ضوابط بیان فرمانے کے بعد کہا: یہ (تمام احکام) اللہ کی حدیں ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم)کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ پاک اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکل جائے گا اس کو اللہ تعالیٰ دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا (النساء:13تا 14)۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے وارث کی میراث سے راہ افرار اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ روز قیامت جنت سے اس کی میراث منقطع فرما دیں گے (ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:862)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرد اہل خیر کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ظلم اور نا انصافی کرتا ہے، تو اس کے برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے اور ایک مرد ستر سال تک اہل شر کے اعمال کرتا ہے پھر وصیت میں عدل و انصاف سے کام لیتا ہے تو اس اچھے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے. ( ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:863)۔\n\nذرا سوچیے: اگر کوئی آپ کا مال چھینے جس طرح آپ دوسروں کے حقوق دبا رہے ہیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے۔ جس دولت پر آپ نے قبضہ کیا ہے، یہ نہ ہوتی تو اخراجات کس نے پورے کرنے تھے۔ کبھی غور کیا کہ یہ پیسہ ختم ہونے والا ہے اور اس کے بدلے دنیا و آخرت میں عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر حکمرا دباؤ ڈالیں کہ حصہ داروں کو ان کا حق دو تو فوراََ دے دو گے، اس کا مطلب دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر نہیں بلکہ ان فرمانرواؤں کا خوف ہے جنہیں اللہ پاک نے اختیار عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وصیت کو چھوڑ کر اپنی بات کو بلند کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ کیا قرآن نہیں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، یاد رکھوجو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا (الاحزاب :36)۔ اور فرمایا: سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے(النور: 63)۔\n\nحکومت کو چاہیے کہ مسائلِ میراث کے حل کے لیے مناسب اقدام کرے اور وراثت کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائےاور جہیز کو ختم کر کے ترکے میں حصہ یقینی بنایا جائے کیونکہ جہیز کی چھری سے حقوقِ وراثت کے گلے کاٹے جا رہے ہیں۔ وراثت میں حصہ دینے سے اخوت و ہمدردی اور محبت و مروت بڑھتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کا حکم اور پیارے پیغبر صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی ہےاور اللہ پاک کے احکامات سے بغاوت اس کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */