ایک بے ہودہ سوال ٍ، پڑھتا جا شرماتا جا - محمد معاذ

محمد معاذ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گردش کرتی نظر آرہی تھی. جس میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا میٹرک لیول Spring2016 کا پرچہ جس میں ایک بہت ہی بیہودہ سوال بچوں سے کیا جا رہا ہے. ابتدا میں تو میں نے اس پو سٹ کو یہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ یہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مضبوط معیار کو نقصان پہنچانے کی گھناﺅنی حرکت ہے. اور میں نے اپنے دل و دماغ کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ الحمد اللہ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جو خالصتا اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور ایسے ملک کے تعلیمی ادارے میں اتنی گھناﺅنی حرکت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔\r\n\r\nرفتہ رفتہ عوام کا یہ احتجاج بھی شدت اختیار کرنے لگا اور عوام کی اکثریت اپنی آواز اعلی حکام تک پہنچانے اور احتجاج کرنے میں دیگر پاکستانیوں کو شامل ہونے کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔ احتجاج کی بڑھتی شدت نے مجھے اس سوال کو اہمیت دینے پر مجبور کر دیا. اس پیپر کے حوالے سے تھوڑی بہت ریسرچ کی اور علامہ اقبال اُوپن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک دوست سے اس سوال بارے تصدیق کرنے کی کوشش کی لیکن اس دوست نے لاعلمی کا اظہار کیا اور ریسرچ مجھے مطمئن نہ کر سکی۔\r\n\r\nقارئین سوال یہ لکھا گیا ہے کہ جو کہ سوال نمبر پانچ اور آخری سوال ہے Describe the personality of your elder sister keeping the following aspeets in view Age, Physique, Height,Looks,Attiude etc اپنی بڑی بہن کے بارے میں مضمون لکھیں اور خاص کر کے یہ بتائیں کہ بہن کی عمر کیا ہے؟ جسمانی سائز کیا ہے؟ قد کتنا ہے؟ دیکھنے میں کیسی ہے؟ رویہ کیسا ہے؟\r\n\r\nمیرا سوال یہ ہے کہ اس اس بے ہودہ سوال جس نے ملک بھر کی عوام کو حیران و پریشان کر دیا ہے کا تعلیم سے کیا تعلق کیا ہے؟ایک معزز رشتہ کی اس طرح سے تشریح طلب کرنا کہاں کی تعلیم کا حصہ ہے ہاں اگر فزیک ٹیست بہت ہی ضروری تھا تو کسی بھائی وغیرہ کے متعلق بھی تو سوال ہو سکتا تھا نا.\r\n\r\nروز ٹی وی کے اینکر آصف محمود صاحب جو روزنامہ نئی بات میں کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ روز ٹی وی پر عرصہ دراز سے انالائسیس ود آصف کے نام سے پروگرام کرتے آرہے ہیں. انہوں نے اپنے پروگرام میں گردش کرنے والے اس سوال کو موضوع بنایا اور جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر رسول شاہ بہرام نے اس سوال کی اشاعت کی تصدیق کی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کہیں ہم پر مغربی اقدار کو مسلط کرنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی؟ کیا وطن عزیز پاکستان جیسی اسلامی ریاست میں مغرب کی بے ہودہ تہذیب اور آزاد خیالی کا سبق پڑھانے والوں کوقانون کب اپنی گرفت میں لے گا؟ مگر افسوس کہ اس عظیم دھرتی کے حکمراں خوابِ غفلت میں ہیں. اقتدار اور کرسی کی ہوس کی خاطر یہودی و غیر مسلم آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے ایک مسلم ریاست کے حقوق و نظریہ کے تحفظ کی بجائے غیر ملکی ایجنڈوں پر عمل پیرا ہے پاکستان کے اداروں میں بہن جیسے معزز رشتے کی تذلیل کرنا سوچی سمجھی سازش ہے.\r\n\r\nعلامہ اقبال اوپن یونیورسی کے ریجنل ڈائریکٹر رسول شاہ بہرام سے جب روز نیوز کے اینکر آصف محمود نے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تو ان کے جواب سے میرے چودہ طبق روشن ہو گئے موصوف نے فرمایا کہ یہ سوال پوچھنے کا مقصد تو یہ تھا کہ آج کہ اس دور میں ایک بھائی اپنی بہن کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟\r\n\r\nجناب ایک بھائی اپنی بہن کو کس نظر سے دیکھتا ہے یہ دنیا کہ کس مضمون میں ہے؟ بیہودگی کی انتہا کو چھوتے اس سوال کے دفاع میں ڈائریکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اس سوال میں کوئی چیز ہی غلط نہیں تب مجھے ڈائریکٹر صاحب کی جاہلیت پر ترس آیا ایک سوال کے جواب میں رسول شاہ بہرام فرمانے لگے کہ ایک بھائی اپنی بڑی بہن کی وضع قطع، صحت، وہ کیسی نظر آتی ہے؟ اس کے انداز وغیرہ کے پوچھنے میں کیا حرج ہے.\r\n\r\nسوال آپ کے سامنے ہیں۔ علامہ اقبال یونیورسٹی کی انتظامیہ کا مؤقف بھی آپ کے سامنے ہے ابھی فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کیا آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسی عظیم ریاست میں کاغذ کے ٹکڑوں پر اپنی بہنوں کی تذلیل گوارہ کرسکتے ہیں.\r\n\r\nلمحہ فکریہ ہے کہ اگر ایچ ای سی ملک کے کسی تعلیمی ادارے سے جعلی ڈگری کے بارے میں پوچھ سکتی ہے تو یہ بے ہودہ سوالات ملک کی نئی نسل کو بے راہ کرنے اور بے حیائی کو فروغ دینے والی یونیورسٹیوں، کالجوں، اور سکول کی انتظامیہ سے کیوں نہیں پوچھتی؟ ایچ ای سی کو چاہیے کہ وہ تعلیمی اداروں کے لئے اخلاقیات کی حدود متعین کر کے قوانین بنائے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کرے.