کھول آنکھ - ابومحمد

کائنات کے ابتدائی سائنٹفک ماڈل قدیم یونانی اور ہندوستانی فلسفیوں نے بنائے، جن کے مطابق زمین کو کائنات کے مرکز میں رکھا گیا۔ صدیوں فلکیات کے مشاہدے نے ماہرین فلکیات کو heliocentric model ماڈل بنانے میں مدد کی جس کے مطابق سورج اس سولر سسٹم کا مرکز ٹہرا یہ دریافت بھی ہوئی کہ ہمارا کرہ ارض اور کئی اور سیارے اس سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اپنے سامنے چائے کی پرسکون پیالی رکھے شاید ہمیں یہ احساس ہی نہیں کہ ہمارا کرہ ارض سورج کے گرد 107,000Km/hr یعنی ایک لاکھ سات ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ مزید مشاہدات نے ماہرین فلکیات کو یہ احساس دلایا کہ ہمارا یہ پورا نظام شمسی ایک کہشاں میں واقع ہے اور نہ صرف اس جیسے کئی نظام شمسی اس کہکشاں میں موجود ہیں بلکہ اس جیسی ان گنت کہکشائیں اس کائینات میں واقع ہیں۔ اس دریافت نے ماہرین کو یہ فرض کرنے پر مجبور کر دیا کہ اس طرح کی لاتعداد کہکشائیں کسی ایک یونیفارمڈ طریقے سے پھیلی ہوئی ہیں جن کا نا کوئی کنارہ ہے اور نا کوئی مرکز و محور۔ بیسویں صدی کے اوائل میں سائینسدان اتنا دریافت کر پائے کہ بہرحال یہ کائنات اک ابتدا رکھتی تھی، اور ابتدا کیا تھی ۔۔۔ بگ بینگ ۔

کائنات ؟؟؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں شماریات کے دفتر ختم ہو جائیں اتنے سیارے، جہاں پر گنتی ختم ہو جائے اتنے ستارے، جہاں ہندسے چلا اٹھیں اتنی کہکشائیں، جہاں اعداد کی سانسیں ٹوٹ جائیں اتنے چھوٹے سیارے، ہزاروں لاکھوں چاند، خلا اور خلا کے مندرجات، اور مادے اور توانائی کے نا ماپے جا سکنے والے ذخائر اس کائنات میں شامل ہیں. کائنات کا سائز تو نامعلوم ہی ہے لیکن اشرف المخلوقات نے اپنی بساعت کے مطابق جتنی کائنات کو مشاہدہ کرنے کا دعوی کیا ہے اس قابل مشاہدہ کائنات کا قطر تقریبا 91 ارب نوری سال ہے، ان اکانوے ارب نوری سالوں کو بہت آسانی سے ناپا جا سکتا ہے۔ ایک نوری سال چھ ملین کلومیٹر یعنی ساٹھ لاکھ کلومیٹر کے برابر ہے۔ ہم اسی لامحدود کائنات میں موجود ارب ہا ارب کہکشاوں میں سے ایک کہکشاں کے ایک سولر سسٹم کے ایک سیارے پر رہتے ہیں جسے "زمین" کہتے ہیں۔ زمین کا قطر 40008 یعنی چالیس ہزار آٹھ کلومیٹر، زمین کے سورج کے گرد مدار کا کل سائز 149,598,262 km یعنی چودہ کروڑ پچانوے لاکھ اٹھانوے ہزار دو سو باسٹھ کلومیٹر ہے جس کے طے کرنے کا کل وقت 365 دن کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زمین کیوں ہلتی ہے؟ مولانا محمد جہان یعقوب

اس دُنیا میں پائے جانے والے جانداروں کی اقسام تین کروڑ سے بھی ذائد ہیں۔ 2016 میں دنیا میں انسانوں کی کُل آبادی کا تخمینہ سات ارب چار کروڑ سے ذائد اور پاکستان کی کل آبادی کا تخمینہ بیس کروڑ کے لگ بھگ لگایا گیا ہے۔ پاکستان کا کُل رقبہ 796095sq/km یعنی تقریبا سات لاکھ چھیانوے ہزار اسکوائر کلومیٹر ہے۔ پاکستان کے شہر ملتان کا کُل رقبہ 3721sq/km یعنی تین ہزار سات سو اکیس اسکوائر کلومیٹر اور اس شہر کی آبادی تخمینتہ پچپن لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ اس تین ہزار سات سو اکیس اسکوائر کلومیٹر اور پچپن لاکھ کی آبادی والے اس شہر کے ایک چھوٹے سے گھر میں شاید کہ کوئی ایسا شخص رہتا ہو جو اپنے آپ کو طاقت میں یکتا، یوسف ثانی اور فلسفے میں سقراط کا جانشین سمجھتا ہو۔ شاید کہ اس کا خیال ہو کہ اسی نے وقت کی طنابیں سنبھال رکھی ہیں۔

کھول آنکھ ۔۔!
کائنات کے اس نظام میں تیری حیثیت ہوا کے بے قابو بگولے میں اڑتے ایک زرے کے جتنی بھی نہیں۔ بے شک انسان نے اللہ کی قدر کو نہ پہچانا جس طرح اس کی قدر کو پہچاننے کا حق تھا۔

Comments

ابو محمد

ابو محمد

ابو محمد وکیل و مینیجمنٹ پروفیشنل ہیں، حالات حاضرہ اور ملکی و بین القوامی سیاست پر نظر رکھے ایک جہاں گرد ہیں دلیل کےلیے لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.