نسلی شرف کی بحث - مولانا سید احمد یوسف بنوری

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، اس کے ثغور بلاحدود، اس کے افق ورائے فلک، کوئی رشتۂ و پیوند اس کی علاقہ بندی نہیں کرسکتا، زمان و مکان کی کوئی زناری اسے دامن گیر نہیں، وہ ہرعہد کے لیے تتق نیلی کا فرمانِ بلاریب ہے، یہ وہ بحر ِبےکنار ہے جہاں ملتیں مٹ جائیں تو اجزائے ایماں ہوجاتی ہیں، روم کا صہیب، حبشہ کا بلال اور فارس کے سلمان ایک بنیانِ مرصوص کی خشتیں ہیں، عربی کو عجمی اور عجمی کی عربی پر فضیلت کی ہر بنیاد چودہ سوسال قبل ہی ایک امی نے اپنے قدموں تلے روند ڈالیں. ایک میزانِ تقویٰ ہے جہاں ہر کہ و مہ اپنا حساب پاتا ہے، اور آدم کے بیٹے اپنا شرف طے کرتے ہیں، نسل و رنگ کے امتیازات یہاں شرک فی الخلق کہلاتے ہیں، اس کے گلستان میں گلہائے رنگارنگ زینتِ چمن کا باعث تو ہوتے ہیں، مگر ان کےالوان کی بنا پر باغباں ان میں تفریق نہیں کیا کرتا، یہاں موجیں لہروں سے مل کر کنارہ تلاش کرتی ہیں نہ کہ ان کی باہمی آویزش سے ایسا تلاطم جنم لیتا ہے جو سنگھاسنِ حیات کو ہی ڈبو دیتا ہے، غرض توحیدِ حقیقی کی امانت کا حامل یہ مذہب اپنے پیرووں میں جہاں بانی کا ایسا نظریہ پیدا کرتا ہے جو رنگ و نسل کی محدودیتوں کا پابند نہیں رہتا، بلکہ اس کا نعرہ پیکار تو اس سے کم پر بس ہی نہیں کرتا.\n\nہر ملک ملکِ ماست\nکہ ملکِ خدائے ماست\n\nلیکن ان تمام مسلمات کے باوجود اسلام کے بارے میں یہ آدھا سچ، ادھوری حقیقت اور ناتمام بیانیہ ہوگا، کیونکہ اس دین کی بنیاد فطرت کے مسلمات پر رکھی گئی ہے، وہ انسانی احسات کے زاویے بہتر تو بناتا ہے مگر انہیں مسخ نہیں کرتا بلکہ وہ خود اپنے آوامر و نواہی میں ان کی درست ترجمانی کرتا ہے، قوموں اور قبیلوں کو باہمی سببِ تعارف ماننے سے اس کو انکار نہیں، وہ ”مہاجرین“ و ”انصار“ کی تاریخی تقسیم سے صرف ِنظرنہیں کرتا بلکہ ان کی تحسین اس انداز سے کرتا ہے کہ بجائے خودیہ دو مختلف فضیلتیں قرارپاتی ہیں، خانوادہ نبوی سے ہونا اس کے ہاں جرم نہیں جس پر وقت کے یزید اقربا پروری کی پھبتی کسیں بلکہ صلّ علی پڑھتی امت کے لیے اس کے نبی کے اہل بیت تمسک بالحق کا ذریعہ بنتے ہیں، اولادِ آدم میں سے ”آل ابراہیم“ و”آل عمران“ کا ذکر آیات الہی میں ان کی فضیلتوں کا عنوان قرار پاتا \0ہے، خلافت بعد از نبوت کے لیے اس کے ہاں ”الائمۃ من قریش“ کے اشارے پائے جاتے ہیں اور دلیل بھی ایسی بتائی جاتی ہے کہ جو انسان شناسی کی معراج نظر آتی ہے کہ \n[pullquote]الناس تبع لقریش، برہم لبرہم و فاجرہم لفاجرہم[/pullquote]\n\nلہذا اسلام کے بارے میں یہ گمان کرنا اس کے ساتھ نادان کی دوستی ہوگی کہ وہ متنوع اقوام و ملل کے قیام اور ان کے باہمی امتیازات کی طبعی ،فطری اور تاریخی وجوہ سے بے بہرہ ہے\0.\n\nاسلام کی روشنی میں نسلی شرف کی منصفانہ حدود طے ہیں، اور اس کے صالح و غیر صالح اجزاء میں تفریق واضح ہے، بدقسمتی سے اس گزشتہ صد ی میں اس عنوان کے تحت مختلف انتہائیں سامنے آئی ہی ہیں، کہیں نسلی شرف کے ترانہ کی لے اتنی تیز ہوئی کہ انسان کو قومیت کی سان پر چڑھا کر ”العروبہ“ کی ایسی مے پلائی گئی کہ خلافت کی قبا ہی ترک ِ نادان کے ہاتھوں چاک ہوگئی، مگر دوسری جانب ایسے ناعاقبت اندیش بھی پائے جاتے ہیں جن کے نزدیک ملکی سرحدوں کا وجود حرام اور وطن کی محبت ہی ازروئے شرع گمراہی ٹھہری، یہ ارشاد تو اسلام کی اساس ہے کہ \n[pullquote]من بطاء بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ[/pullquote]\n\nمگر اس حقیقت کو بھی اس فیض ازلی ہی نے بیان کیا ہے.\n[pullquote]الناس معادن کمعادن الذھب و الفضۃ[/pullquote]