ہمارے دانش ور - مہتاب عباسی

ہمارے معاشرے میں تجزیہ نگاروں، دانشوروں اور حکماء کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اللہ کے فضل سے اس میدان میں ہم خودکفیل ہیں۔ یہ تجزیہ نگار محلے کی دکانوں، تھڑّوں سے لے کر چوپالوں تک اور حجام کی دکان اور ہوٹل سے لےکر اخبارات اور ٹیلی ویژن کے دفاتر تک ہر جگہ باآسانی مل سکتے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے ایسے بھی ہیں جو اپنے مشوروں اور تجزیوں کی کوئی’’مشورہ فیس‘‘ بھی نہیں لیتے بلکہ ہر وقت ’’فی سبیل اللہ‘‘ قوم کی خدمت کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک پیسہ، دولت کی اس غریب قوم کو کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا یہ ہر وقت عقل کی خیرات لٹانے میں مصروف رہتے ہیں۔\n\nدانشوروں کو دو طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو خلافت اور نشاطِ ثانیہ کی باتیں کرتے ہیں، ہر وقت اپنے شاندار ماضی کو لے کے بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کے نظریات ٹھیک ہیں یا غلط، وہ اپنی جگہ، مگر اپنے نظریات کے نفاذ کے لیے جو طریقہ استعمال کرتے ہیں، وہ غلط ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنے والے دانشوروں کا تعلق زیادہ تر جن جماعتوں سے ہے انہوں نے اپنے اپنے مسلح ونگ بنائے ہوئے ہیں جو اکثر ’’جہادی ‘‘ کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں۔\n\nدوسری قسم کے تجزیہ کار بھی اپنی ایک الگ ہی فلاسفی رکھتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے نزدیک شراب پینا فیشن کی علامت ہے۔ شلوارکرتا پہننا، اردوبولنا اور خلافت ِراشدہ ماڈل کی باتیں کرنا جہالت، بہت بڑی بیوقوفی اور ’’پینڈوپن‘‘ ہے۔ سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی اِن کے پسندیدہ ادیب اور فنکار ہیں۔ بیشک وہ اچھے ادیب تھے مگر ان دانشوروں کے نزدیک منٹو کی سب سے اچھی خوبی یہ ہے کہ وہ شراب پیتا تھا۔ یہ طبقہ اپنی ہر بات میں دلیل کے طور پر وارث شاہ اور بللھے شاہ کا حوالہ دے گا مگر یہ ان دونوں کے نام کے علاوہ ان کے متعلق اور کچھ نہیں جانتے۔ اس طبقہ کے نزدیک ماضی کے اسلامی ہیروز اور اسلامی فاتحین کو ڈاکو، قاتل قرار دینا اور پاکستان کی موجودہ آرمی کو مطلقاً گالیاں دینا ثواب کا کام ہے۔ اس طبقہ میں انگریزی کھانے، انگریزی لباس، انگریزی زبان اور انگریزی شراب کو سٹیٹس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس قسم کے دانشوروں کو خیرات کا بھی بہت شوق ہوتا ہے لہذا یہ مختلف قسم کی NGO's کی بھی سرپرستی کرتے ہیں مگر ان NGO's کے دائرہ کار میں اکثر غریب عوام نہیں آتے۔\n\nاپنے ملک میں یہ تجزیہ نگار دوستی کا ایک وسیع کا حلقہ رکھتے ہیں مگر 70 سال سے اس قوم کے دوستوں کو پرکھنے کے بعد یہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان ’’تلوں میں تیل نہیں‘‘ اس لیے اب یہ سرحد پار، حتیٰ کہ سات سمندر پار دوستی اور بھائی چارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اندر قربانی کا جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کو یہ بالکل پروا نہیں ہے کہ’’سرحدپار کے دوست‘‘ ہمارے ساتھ اور ہمارے ملکی نمائندوں کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں۔ ویسے تو سرخ رنگ ان دانشوروں کا پسندیدہ ہوتا ہے مگر چونکہ طبیعت بڑی حسّاس اور نفیس ہے اس لیے انہیں خون زیادہ پسند نہیں ہے لہذا یہ ہر وقت ’’خونی لکیروں‘‘ کو مٹانے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ اس قسم کے طبقہ کو میرے ایک محترم دوست ’’بِندیّا والے تجزیہ نگار‘‘ کہتے ہیں۔\n\nملکی ترقی اور ملکِ پاکستان کو درست سمت میں آگے لے جانے کے لیے ہمیں اپنے اعمال و افعال کے ساتھ اپنے دانشوروں پر بھی نظرِثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں نہ تو مذہبی شدّت پسندوں اور ُملاّؤں کی ضرورت ہے اور نہ ہی سیکولر انتہاپسند ذہنیت کی۔ ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے ہمیں معتدل قسم کی قیادت کی ضرورت ہے جو صحیح اسلامی عقائد اور نظریہِ پاکستان پر قائم رہتے ہوئے موجودہ دور کے تقاضے نبھانا جانتی ہو تاکہ اسلام کا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔