وہ قصہ، قصہ پارینہ ہوا - عشوا رانا

وہ اپنی جگہ سن ہو چکی تھی. اسے اپنے سنے پہ یقین نہیں آرہا تھا. مگر حقیقت تو حقیقت ہوتی ہے. یقین آئے یا نہ آئے مگر یقین ہو ہی جاتا ہے.\nیہ ان دنوں کی بات ہے جب اس نے نئی نئی فیس بک آئی ڈی بنائی تھی. اسے اپنی طرح کے لوگ پسند تھے. سیدھی بات نہ کرنے والے مگر سیدھا سوچنے والے، اپنی طرح کے ذہین لوگ.\nپھر ایسے میں اس سے بات ہو گئی. اسے اچھا انسان لگا تھا وہ. اس کی باتوں میں مزاح کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا. سر پھرا سا مگر عزت کر نے والا.\n”ہم بس دوست ہیں. یہ مت سمجھنا کہ میں تمہارے لیے مرا جا رہا ہوں. میرا ان باکس لڑکیوں کے میسجز سے بھرا پڑا ہوتا ہے. رکو ذرا تمہیں اسکرین شارٹس بھیجتا ہوں.“\nوہ اس کے میسج پہ مسکرائی تھی. اور پھر اسکرین شارٹس دیکھ کر بہت ہنسی تھی. وہ اعتماد کرنے لگی تھی اس پر. وہ بھولتی جارہی تھی کہ لڑکے کبھی دوست نہیں ہوتے. وہ بس آپ کے بھائی ہوتے ہیں اور بھائی ہمیشہ عزت کرتے ہیں.\n”تم ان لڑکیوں میں سے کسی سے بات کیوں نہیں کرتے.“ پریشے نے پوچھا تھا.\n”کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ تم اچھی دوست ہو. باقی کوئی بھی نہیں.“ اس کے جواب پر وہ مطمئن ہو گئی تھی. مگر اک احساس اس کے دل میں رہتا تھا کہ اس طرح سے بات کر نا ٹھیک نہیں ہے. وہ کوئی مذہبی قسم کی لڑکی نہیں تھی مگر مذہب سے لاتعلق بھی نہیں تھی.\nخیر دوستی بڑھتی گئی، شیطان کو موقع ملتا رہا کہ مرد و عورت جب تنہا ہوں تو شیطان ساتھ ہوتا ہے.\nوہ اسے سب با تیں بتانے لگی تھی، وہ سنتا تھا، مشورے دیتا تھا، سب ٹھیک تھا کہ ایک دن اس کی باتوں نے اسے حیران پھر پریشان کر دیا.\nوہ اس سے محبت کے دعوے کر رہا تھا. وہ اسے بتا رہا تھا کہ وہ شروع سے اسے پسند کرتا ہے حالانکہ کبھی دیکھا نہیں اس نے. عجب فلسفے تھے، عجب قصہ، عجب باتیں. گونجتی رہ گئی دماغ میں پرانی یادیں اور باتیں.\nوہ اپنی بات کہہ چکا تھا مگر پریشے کو ہوش اب آیا تھا.\nاس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اسے دوست سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی. سو یہی کہا اس نے.\nیہ میرا آخری میسج ہے. میں نے جو کہا مانتا ہوں غلط کہا مگر سچ کہا.\nپسند کوئی بھی کر سکتا ہے مگر پسند کو پسند کیا جانا چاہیے. غلط نہیں کر نا چاہیے. اور چھپ کر کیا جانے والا کام صحیح بھی ہو تو غلط ہوتا ہے.\nوہ چھوڑ گیا تھا مگر اپنے پیچھے سوال چھوڑ گیا تھا.\nپریشے کو سمجھ آگیا تھا کہ ہمیشہ ہر کوئی اتنے آرام سے چھوڑ کر جانے والا نہیں ہوتا، اور اعتبار کو اتنا آسان نہیں بنانا چاہیے کہ آپ کے لیے مشکل ہوجائے. تعلق ہمیشہ خونی رشتوں سے ہی ہوتا ہے. سب لوگ اچھے نہیں ہوتے، سب برے بھی نہیں ہوتے. اس نے اپنی پسندیدگی ظاہر کی تھی. پریشے نے موقع دیا تھا ظاہر کرنے کا. اور موقع بہت قیمتی ہوتا ہے. یہ صرف اسی کو ملتا ہے جسے خدا اپنے ساتھ رکھتا ہے.\nوقت بے مہار لگام کی طرح ہوتا ہے. یا ہاتھ مشکل سے آتا ہے یا ہاتھ آنے کے لیے آپ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتا ہے.\nسنبھل جاؤ کہ وقت ہے، ڈر جاؤ کہ وقت نہیں رہےگا، اور سوچ لو کہ وقت نہیں رہے گا تو کیا کرو گے.