قرضے، وعدے اور ذخائر - مزمل احمد فیروزی

حال ہی میں ایک رپورٹ نظروں سے گزری جس کے مطابق پاکستان کا ہر بچہ بشمول پیدا ہونے والے کے کم و بیش ایک لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ میاں صاحب کی موجودہ حکومت نے وطن عزیز کی تاریخ کاغیر معمولی قر ضہ لیا جوکسی بھی حکومت کی جانب سے1برس کے دوران سب سے زیادہ لیا جانے والا قر ضہ ہے۔\r\n\r\nاسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2015-16 کے اختتام تک وفاقی حکومت کے قرضے کا بوجھ 16.96سے بڑھ کر 19عشاریہ ایک کھرب ہو گیا ہے جو اسٹیٹ بینک کے قر ضوں میں21کھرب کا خالص اضافہ ہے. سرکاری شعبے کے اداروں کی جانب سے حاصل کردہ مالی ذمے داریوں اور قرضوں کے علاوہ مالی سال 2013-14 سے2014-15کے دوران مقامی ذرائع سے حاصل شدہ قرضوں اور واجبات کی مالیت1ہزار 374ارب جبکہ 2014-15سے 2015-2016 کے دوران 1ہزار ارب روپے کے مستقبل قرضے حاصل کیے گئے، جس کے بعد حکومت کے ذمہ مقامی ذرائع سے حاصل کردہ مستقل قرضوں کی مالیت 5ہزار936 ارب تک پہنچ چکی ہے جبکہ وزارت خزانہ کی قرضوں کے متعلق جاری کردہ رپورٹ کے مطابق قرضہ181 کھرب روپے تک جا پہنچا ہے۔ پاکستان پر ملکی اور غیر ملکی قرضے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور رواں مالی سال میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 900 ارب روپے بڑھا ہے۔ پاکستان پر مجموعی قرضہ181 کھرب سے بھی تجاوز کرگیا جبکہ غیرملکی قرضوں کا بوجھ 53 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار کے وقت قرضوں کا کُل حجم 48 ارب دس کروڑ ڈالر تھا، موجودہ حکومت میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ قانون کے مطابق پاکستان کے قرضے جی ڈی پی کا 60 فیصد سے کم ہونے چاہییں۔\r\n\r\nقرضوں کے موجودہ اعداد و شمار پڑھنے کے بعد چنیوٹ کے مقام رجوعہ پر ادا کیے گئے میاں صاحب کے تاریخی جملے یاد آگئے ’’پوری پاکستانی قوم کو مبارک ہو، اللہ کے فضل سے ہم ہمت ہارنے والے نہیں، کشکول ضرور توڑ دیں گے۔ لوہے کی تلاش میں نکلے تھے، سونے اور تانبے کے ذخائر مل گئے، اب کشکول ٹوٹ جائےگا، ہم اب کشکول لے کر نہیں بلکہ سونا، لوہا اور تانبا لے کر باہر جایا کریں گے، جس سے ہمارے قومی عزت اور وقار میں اضافہ ہوگا۔‘‘ چنیوٹ، پنجاب کا ایسا شہر ہے جو معدنی ذخائر سے مالامال ہے۔ برازیل اور روس میں پایا جانا والا بہترین لوہا رجوعہ کے مقام سے برآمد ہونے والے لوہے کے برابر ہے۔ 2007ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہی نے ان معدنی خزانوں کا ٹھیکہ اپنی منظورنظر کمپنی کو بغیر ٹینڈر کے دے دیا تھا۔ چھوٹے میاں صاحب وزیراعلیٰ بنے تو اْنہوں نے عدالت سے رجوع کیا، عدالت عالیہ نے اس فرم اور ٹھیکیداروں کونااہل قرار دے دیا جس کے بعد ڈاکٹر ثمرمند مبارک کی سربراہی میں نیا بورڈ آف گورنرز تشکیل دے کر چینی اور جرمن کمپنیوں کو باقاعدہ ٹھیکے دیے گئے تاکہ ان ذخائر کی مقدار اور معیار کے بارے میں سروے کیا جا سکے۔ تقریباً گیارہ مہینے کی کھدائی اور تجربات کے نتیجے میں چینی ماہرین نے 28مربع میل کا سروے مکمل کیا۔ جہاں بھی کھدائی کی گئی، بہترین کوالٹی کے خام لوہے اور کاپر کے وسیع ذخائر ملے۔ سونے، چاندی، تانبے اور لوہے کے یہ ذخائر 2ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہیں جبکہ اس وقت 28مربع میل تک کھدائی کی گئی تھی۔ چینی ماہرین کے مطابق ملنے والی معدنیات کے نمونے قدروقیمت میں کِسی بھی طرح ریکوڈک سے کم نہیں. ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ قیمت اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے۔ شریف برادران نے یہ بات کئی بارکہی کہ اس معدنی خزانے پر صرف پنجاب نہیں، پورے ملک کا حق ہے، وطن عزیز کے 18کروڑعوام اس سے مستفید ہوں گے۔ مگر یہ سب باتیں ہوا ہوئی اور اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وطن عزیز کے عوام ان ذخائر سے مستفید نہ ہوسکے اور نہ جانے یہ ذخائر کہاں چلے گئے. کہیں پھر زمین واپس نگل گئی یا آسمان کھا گیا یا ہوا میں گل ہو گیا. موجودہ حکمران عوام سے مذاق کرتے آئے ہیں اور یہ بھی شاید ایک مذاق ہی تھا جو ہوا ہو گیا.\r\n\r\nکشکول توڑنے کے دعوے کرنے والوں نے سب سے زیادہ قرضہ لینے کا اعزاز حاصل کر لیا. قرضہ لینے میں میاں صاحب کی حکومت نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے.21کھرب روپے کا غیر معمولی قرضہ جو اب تک پاکستان کی کسی بھی حکومت کی طرف سے لیا جانے والا سب سے بڑا قرضہ ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیرونی قرضوں کی بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر قرضے لینے کا رجحان ایسے ہی جاری رہا اور مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے تک قرضوں کا حجم خام ملکی پیداوار کے 65 فیصد تک پہنچ جائےگا. ضرورت اس امر کی ہے کہ واقعی میں کشکول کو توڑا جائے اور اپنے یہاں سے نکلنے والے معدنی ذخائر پر اکتفا کر کے ان پر اچھے طریقے سے کام کیا جائے اور طیب اردگان نے کہا تھا کہ میں نہ صرف قرضہ اتاروں گا بلکہ اس وطن کو قرضہ دینے کے قابل بنائوں گا اور اس نے ایسا کر دکھایا بالکل اسی طرح اپنی کہی ہوئی بات کو پورا کر کے دکھایا جائے کہ قرضوں سے بھی جان چھوٹ جائے اور دوسروں کو قرضہ دینے کے قابل بھی ہوا جائے۔

Comments

مزمل احمد فیروزی

مزمل احمد فیروزی

مزمل احمد فیروزی بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی روزنامہ آزاد ریاست سے منسلک ہونے کے ساتھ شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.