شاباش خیبر پختون خواہ اسمبلی-انصار عباسی

Ansar-Abbasi-1\n\nخیبر پختون خواہ اسمبلی کو خراج تحسین جس نے سود کے خاتمہ کے لیے قانون سازی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں چاہے وہ تحریک انصاف ہو یا پیپلز پارٹی، ن لیگ ہو، قومی وطن پارٹی یا عوامی نیشنل پارٹی سب نے ایک ایسے مسودہ قانون کی مکمل حمایت کی جس کا مقصدصوبہ بھر میں سود کے کاروبار کوخلاف قانون قرار دینا اور اس میں ملوث افراد اور نجی کمپنیوں کو دس سال تک سزا دینے کی تجویز ہے۔ خبر کے مطابق گزشتہ ہفتہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن فخر اعظم، قومی وطن پارٹی کے سلطان محمد خان اور تحریک انصاف کے محمود جان نے اس سلسلے میں ایک مسودہ قانون خیبر پختون خواہ اسمبلی میں پیش کیا جس کی اسمبلی میں موجود تمام اراکین نے حمایت کی۔\n\nاس مسودہ قانون کو فوری پاس ہو جانا تھا لیکن فیصلہ یہ ہوا کہ مشاورت کے بعد مسودہ میں مزید بہتری لائی جائے اور دوبارہ اسمبلی میں پیش کر کے قانون سازی کی جائے۔ اسمبلی میں موجود حکومت اور اپوزیشن کے تمام رہنمائوں نے سودی کاروبار کے خاتمہ کے لیے اس کوشش کو سراہا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ خبر کے مطابق اسپیکر پختون خواہ اسمبلی اسد قیصر نے اراکین کو بتایا کہ انہیں کئی افراد\nنے شکایت کی کہ کس طرح سودی کاروبار میں شامل افراد اور نجی کمپنیاں لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔\n\nاسد قیصر کے مطابق سودی کاروبار میں استحصال کی یہ حالت ہے کہ انہیں ایک شخص ملا جس نے شکایت کی اُس نے ایک فرد سے چار لاکھ روپیہ قرضہ لیا لیکن واپس چوبیس لاکھ روپیہ کرنا پڑے۔ یعنی چار لاکھ کے قرض پر اُس شخص کو بیس لاکھ روپیہ سود ادا کرنا پڑا۔ ایک اور شخص نے شکایت کی کہ اُسے سود پر آٹھ لاکھ کی گاڑی پچاس لاکھ میں فروخت کی گئی۔\n\nخیبر پختون خواہ اسمبلی نے اسی سیشن کے دوران ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر پیش کی جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قانون سازی کے ذریعے سودی کاروبار کو پاکستان بھر میں خلاف قانون قرار دیا جائے۔ سود کے خاتمہ کے لیے اگرچہ وفاقی حکومت کا کردار قلیدی نوعیت کا ہو گا لیکن خیبر پختون خواہ اسمبلی جو کرنے جا رہی ہے وہ نہ صرف ایک حوصلہ افزا اقدام ہے بلکہ دوسروں کے لیے قابل تقلید بھی۔ ہو سکتا ہے خیبر پختون خواہ اسمبلی کو دیکھ کر ہی دوسرے صوبے اور مرکز کو بھی احساس ہو جائے کہ سودی کاروبار کرنے والوں کے چنگل سے کس طرح انگنت شہریوں کو بچایا جائے۔\n\nسود کی لعنت کا مسئلہ کسی ایک صوبہ کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے۔ اس لعنت نے کئی افرادکی جانیں تک لے لیں، خاندان کے خاندان اجڑ گئے، اچھے خاصے کھاتے پیتے افراد کو سود نے گھر سے بے گھر اور مانگنے پر مجبور کر دیا۔ سود کے بھنور میں پھنسے مجبور افراد مختلف قسم کی معاشرتی برائیوں کے علاوہ جرائم تک میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں۔ سود کے خاتمہ کے لیے جو کام ایک صوبائی اسمبلی کرنے جا رہی ہے وہ پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ کو بہت پہلے کر دینا چاہیے تھاکیوں کہ جو آئین سود کے خاتمہ کی بات کرتا ہے وہ آئین اسی پارلیمنٹ کا بنایا ہوا ہے۔\n\nاگر ایک صوبائی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اس بارے میں اتفاق کر سکتی ہیں تو یہی اتفاق وفاق اور دوسرے صوبوں اور متعلقہ اسمبلیوں میں ممکن کیوں نہیں ہو سکتا۔ میری رائے میں نجی طور پر سودی کاروبار کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی بنکوں کو بھی سود سے پاک بنکاری کرنے کے بارے میں قانون سازی کی جائے۔ اس سلسلے میں خیبر پختون خواہ اسمبلی کے پاس سنہری موقعہ ہے کہ وہ سود کے خاتمہ سے متعلق مجوزہ قانون سازی میں خیبر بنک کو بھی شامل کر دے۔ کوئی صوبہ وفاقی قانون کے مطابق چلنے والے بنکوں کے بارے میں تو فیصلہ نہیں کر سکتا لیکن صوبہ کے ماتحت چلنے والے بنکوں کے ضابطہ کار اور پالیسی کو بنانے اور اُسے تبدیل کرنے کا حق اُسے حاصل ہے۔ اگر پاکستان کے ایک صوبہ کو سود سے پاک کر دیا جائے تو یہ عمل اُسے دوسرے صوبوں اور علاقوں کے مقابلہ میں نکھار دے گا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ صوبہ خیبر پختون خواہ اسمبلی کو اس کوشش میں کامیاب کرے اور دوسروں کو بھی اپنی اپنی حدود میں سود کے خاتمہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

انصار عباسی

انصار عباسی

انصار عباسی انگریزی روزنامہ دی نیوز کے ایڈیٹر انوسٹی گیشن ہیں، روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے ہیں۔ اسلام پسند خیالات کے حامل ہیں، کھل کر اظہار کرتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.