ترکی میں ناکام بغاوت سے ملنے والے چند سبق - ابن حجر

اگر کوئی گروہ اٹھ کر حکومت کے خلاف بغاوت کر دے اور وہ گروہ اسلام کا نام لے تو سیکولرز و ملحدین کی نظر میں وہ خارجی اور واجب القتل ہوتا ہے ، چاہے وہ گروہ کسی فوجی آمریت کے خلاف ہی کیوں نہ بغاوت کرنے لگے ، بلکہ اگر وہ گروہ فوج کے اندر سے ہی صرف بیرونی طاقتوں کی غلامی سے نکلنے کی خواہش کا ہی اظہار کر دے تو وہ خارجی ہے اور اس کو جیل میں ڈال دیا جائے گا. دوسری طرف اگر کوئی گروہ اٹھ کر حکومت کے خلاف بغاوت کر دے اور وہ گروہ اسلام دشمن ہو، اور حکومت چاہے سیکولر ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر حکومت ذرا سا بھی اسلام کی طرف رجحان رکھتی ہو، تو سیکولرز کی نظر میں حکومت ہی مجرم قرار پاۓ گی، چاہے وہ حکومت جمہوری طور پر اکثریتی ووٹ لے کر ہی کیوں نہ منتخب ہوئی ہو ، اور بغاوت کرنے والا گروہ ہی ہر حال میں حق پر ہو گا

کوئی مسلم حکمران چاہے جتنا مرضی مخلص ہو، چند سال کے اندر اندر اسلامی اصلاحات کر کے عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی جانب گامزن ہو، ہمارے خلافتیوں کی نظر میں وہ حکمران کافر اور زندیق ہے ، اس لیے کہ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلے دن خلافت خلافت کے نعرے کیوں نہیں لگانے شروع کر دیے. بھیڑیوں کے غول میں گھرے ہوۓ بھیڑوں کے گروہ کو کوئی جادو کی چھڑی گھما کر خلافت پلیٹ میں رکھ کر کیوں نہیں دے دی. اس "مردود " کو پتا نہیں تھا کہ خلافت کے لیے سالہاسال تیاری نہیں کرنی پڑتی، نظام بدلنے میں وقت نہیں لگتا، بلکہ خلافت کسی پکی پکائی دیگ کا نام ہے جو صرف اس کا نام لینے سے تیار حالت میں آسمان سے نازل ہو جاتی ہے. مزید یہ کہ ، نہ صرف یہ حکمران اقتدار میں آ کر خلافت خلافت کی راگنی نہیں الاپ رہا ، بلکہ یہ جمہوری ووٹ لے کر اقتدار میں آیا ہی کیوں؟ اس کو چاہیے تھا کہ حکومتی طاقت اور اتھارٹی حاصل کیے بغیر ہی، حکومت سے باہر بے اختیار بیٹھا مسلمانوں کی لاشوں پر سے مکھیاں جھل جھل کر ہر تھوڑی دیر بعد "خلافت خلافت " پکارتا رہتا، حتیٰ کہ خلافت طشتری میں دھری آسمان سے نازل ہو جاتی.

یہ بھی پڑھیں:   ترکی: فندق کی برآمد سے ایک بلین 578 ملین ڈالر کا زرمبادلہ

ترکی میں حالیہ جاری کشمکش سے ہمارے اسلامسٹ دوستوں کی آنکھیں کھل جانی چاہییں کہ ایسے ماحول میں کہ جہاں خطرات ہی خطرات ہوں اور مخالفین اقتدار پر قبضے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہے ہوں، بیرونی سہارا بھی کوئی نہ ہو، تو اس صورت میں اپنے سارے کارڈز دکھا کر اپنے آپ کو ایکسپوز نہیں کر دیا جاتا، تبدیلی ہمیشہ وقت مانگتی ہے. آپ اسلامی حکومت کے خواب ضرور دیکھیں لیکن بتدریج اس کی طرف سفر کریں. اس کے لیے صبر کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے اور لوگوں کی اکثریت کو اعلیٰ تر مقصد کے لیے جانی اور مالی قربانی دینے کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے