ہوم << جمہوری بادشاہوں کے سامنے حقیقی بادشاہوں کی خدمت خلق کی ایک جھلک - ابومحمد مصعب

جمہوری بادشاہوں کے سامنے حقیقی بادشاہوں کی خدمت خلق کی ایک جھلک - ابومحمد مصعب

ابومصعب دبئی میں عود میثاء روڈ پر ایک بہت بڑی پاکستانی مسجد ہے جس میں ہر جمعہ کو اردو میں خطبہ ہوتا ہے۔ اکثر پاکستانی، جمعہ کی نماز پرھنے کے لیے وہیں جاتے ہیں، جہاں نہ صرف اردو میں دین سیکھنے کو ملتا ہے بلکہ پاکستانی دوستوں سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے۔
دبئی ہیلی کاپٹر مسجد کے بالکل سامنے ہی دبئی کا مشہور سرکاری اسپتال ہے جس کا نام ’’شیخ راشد اسپتال ہے‘‘۔ یوں تو مسجد کی طرف جانے کے لیے کئی راستے ہیں مگر ایک راستہ اس اسپتال سے گزر کر بھی جاتا ہے۔ میں نے کئی بار اسپتال سے گزرتے ہوئے ایک ہیلی کاپٹر وہاں کھڑا دیکھا ہے۔ معلومات لینے پر پتہ چلا کہ یہ اسپتال کا ہیلی کاپٹر ہے جو کہ فضائی ایمبولنس کا کام کرتا ہے۔ کئی بار نماز پر جاتے ہوئے میں نے اس ہیلی کاپٹر کو زخمیوں کو اسپتال لاتے ہوئے دیکھا ہے۔ دبئی پولیس کے پاس بھی ایمرجنسی اور ایمبولنس ہیلی کاپٹرز ہیں جو فوری طور پر زخمیوں کو اسپتال منتقل کرتے ہیں۔
دبئی یا امارات حکومت کے پاس صرف ایک ہیلی کاپٹر نہیں ہے جو حادثات کے زخمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہو بلکہ اس طرح کے کئی اور ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ ابھی چند ماہ قبل میں جبل علی کے انڈسٹریل ایریا میں گاڑی چلا رہا تھا کہ ایک دور افتادہ علاقہ میں ایک ٹریفک سگنل پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھیں۔ وہاں میں اکثر جایا کرتا ہوں اور ٹریفک جام ہونے کی کوئی وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آئی کیوں کہ وہ بہت کھلا علاقہ ہے۔ میں نے گاڑی سے اتر کر دیکھا تو مجھے سگنل کے ساتھ ہی کچی زمین پر ایک ہیلی کاپٹر کھڑا نظر آیا۔zakhmi لوگوں نے بتایا کہ کسی فیکٹری میں کام کرنے والا مزدور کسی حادثہ کا شکار ہوگیا ہے اس لیے یہ ایمبولنس ہیلی کاپٹر اسے لینے کے لیے آیا ہے۔ دس سے پندرہ منٹ تک طبی عملہ زخمی کو وہیں فرسٹ ایڈ دیتا رہا اس کے بعد اسے لے کر فضا میں بلند ہوتے دیکھا گیا۔ چوں کہ ہیلی پیڈ موجود نہ تھا بلکہ روڈ کے ساتھ ہی کچی زمین پر ہیلی کاپٹر نے لینڈ کیا تھا اس لیے اس کے بلند ہوتے ہیں گرد و غبار کا ایک دھواں فضا پر چھا گیا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ ہوتی ہے انسانی جان کی قدر و قیمت۔
بہت پہلے، کچھ دوستوں کے ساتھ دبئی سے ابوظبی جا رہا تھا۔ دونوں شہروں کے درمیان ایک شاندار موٹر وے ہے جس کا نام شیخ زید روڈ ہے۔ اس شاہراہ پر رات میں اتنی زیادہ روشنی ہوتی ہے کہ اگر آدمی اپنی گاڑی کی ہیڈ لائٹس بجھا دے تو بغیر کسی تکلیف کے ڈرائیو کر سکتا ہے۔ ہائی وے کے دونوں اطراف کو مسلسل ایک باڑ کے ساتھ بند کردیا گیا ہے تاکہ کوئی جانور روڈ پر آکر کسی حادثہ کا باعث نہ بن جائے۔ جب ہم ابوظبی اور دبئی کے تقریباََ درمیان میں پنہچے تو ایک دوست نے اپنے دائیں طرف ایک شاندار کامپلیکس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ جانتے ہو کہ یہ کس چیز کی عمارت ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ کہنے لگا یہ ایک بہت بڑا اسپتال ہے جو یورپ یا امریکہ کے کسی بھی اعلیٰ اسپتال سے کم نہیں جہاں حادثات کے شکار افراد کو ایمرجنسی میں لایا جاتا ہے۔ اس اسپتال میں ہر طرح کی سہولیات ہیں۔ جس میں ہڈیوں کا وارڈ دنیا کے کسی بھی جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال سے کم نہیں۔ پھر دوست نے پوچھا کہ جانتے ہو کہ جنگل میں یہ منگل کس طرح معرض وجود میں آیا۔ میں نے پھر لاعلمی کا اظہار کیا۔ کہنے لگا کہ ایک بار اس ہائی وے پر گاڑیوں کا حادثہ ہوگیا تھا۔ اسپتال دور ہونے کی وجہ سے کچھ زخمی جاں بحق ہوگئے تھے۔ پھر شیخ زید مرحوم نے جائے وقوعہ کا وزٹ کیا اور پوچھا کہ یہاں سے اسپتال کتنی دور ہے؟ بتایا گیا کوئی چالیس پچاس منٹ کے فاصلہ پر۔ مرحوم نے وہیں کھڑے کھڑے حکم دیا کہ ہائی وے پر یہ ایک بڑا شاندار اسپتال بنایا جائے جہاں حادثات کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کے علاج کا مکمل بندوبست ہو۔ انہی کے حکم پر ہر بیس منٹ یا آدھے گھنٹہ کے فاصلہ پر ایک ایمرجنسی مرکز قائم کیا گیا جہاں فرسٹ ایڈ سمیت ایک ایمبولنس چوبیس گھنٹے چوکنا رہتی ہے۔
یہ سب باتیں میرے علم میں تو تھیں پر بھول چکا تھا۔ مگر آج تب دوبارہ ذہن میں تازہ ہوگئیں جب میں نے اپنے وطن کے درجنوں مزدوروں کے آگ میں جلنے کی خبر سنی۔ حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے مگر حکومت کا کام یہ ہوتا ہے کہ اول تو حادثات کے امکانات کو کم سے کم کرے دوئم یہ کہ جب حادثہ ہو جائے تو اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔ آگ میں جھلسے مزدوروں کو اپنے پاؤں پر اسپتالوں کی طرف دوڑتے دیکھ کر مجھے یکایک یہاں والی ہیلی کاپٹر ایمبولنس سروس ذہن میں آگئی۔ مگر ہماری قسمت شاید ابھی نہیں جاگی۔ ہم اس ملک کے باسی ہیں جہاں کے صوبائی وزیر اعلیٰ کے لیے تو نیا ہیلی کاپٹر خریدنے کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کا بجٹ منظور کیا جاتا ہے مگر آگ میں جلھسے لوگ اور حادثات میں زخمی افراد اپنے پاؤوں پر دوڑ کر اسپتال پنہچتے ہیں۔
سچ کہا تھا کسی شاعر نے:
حال اب تک وہی ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

Comments

Click here to post a comment