ہوم << وزیراعظم صاحب کے نام کھلا خط - ریحان اصغر سید

وزیراعظم صاحب کے نام کھلا خط - ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید جناب وزیراعظم صاحب
السلام علیکم !
ہم بہت عرصے سے آپ سے گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ بہت سی باتیں ہیں جو آپ کے گوش گزار کرنی ہیں، بہت سے شکوے شکایتیں ہیں جو آپ تک پہنچانی ہیں، کچھ سوال ہیں جو آپ سے پوچھنے ہیں اور کچھ تجاویز ہیں جو آپ کو پیش کرنی ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ آج فائیو-جی 5G کے اس دور میں بھی ہمیں آپ سے ہم کلام ہونے کے لیے خط کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ آپ کے حواریوں نے آپ کو اتنے بلند قلعوں کے پیچھے قید کر رکھا ہے کہ جہاں تک نہ ہماری رسائی ہو پاتی ہے اور نہ ہی آپ کو ہماری آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس لیے آج یہ خط ہم آپ کو اس امید پر لکھ رہے ہیں کہ شاید آپ کا کوئی پی اے اسے پرنٹ کر کے دیگر اخباری تراشوں اور خبروں کے ساتھ آپ کی ٹیبل پر رکھ دے اور شائد آپ تک ہمارے جذبات پہنچ جائیں۔
جناب وزیراعظم!
آپ نے بطور کاروباری شخص کے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ آپ کے محترم والد مرحوم ایک سیلف میڈ انسان تھے۔ آپ پنجاب کے وزیر خزانہ رہے، پھر وزیراعلی منتخب ہوئے۔ بعدازاں پاکستان کی عوام نے آپ کو تین بار اپنے ووٹوں کی طاقت سے آپ کو وزیراعظم بنوایا۔ نیز آپ اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ آپ مختلف سیاسی اتحادوں اور تحریکوں کا حصہ رہے۔ آپ کو مختلف آرمی چیفس اور اعلی عدلیہ کے ججوں سمیت ہر طرح کی بیوروکریسی کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ کچھ سال چھوڑ کر عملاً آپ کی پارٹی پچھلے تیس سال سے پنجاب میں برسر اقتدار ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ اس وقت پاکستان کے سب سے زیادہ تجربہ کار اور زیرک سیاستدان ہیں ، تو یہ قطعاً غلط نہ ہوگا۔ اس لیے جب ہم آپ سے مخاطب ہیں تو ہم ایک سسٹم سے، ایک سیاسی جماعت، ایک نظریے سے مخاطب ہیں۔ اس حکومت کے بطور وزیراعظم بے شک آپ کو تیین سال ہوئے ہیں لیکن آپ عملاً پچھلے تیس سال سے پنجاب کی حد تک برسر اقتدار ہیں جو کہ پاکستان کی کل آبادی کا تقریبا نصف ہے۔ اس لیے آپ پاکستان بالخصوص پنجاب کی ہر خوبی و خامی کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر ذمہ دار تصور کیے جاتے ہیں۔
جنابِ وزیراعظم!
ہم روزانہ ٹی وی و اخبارات پر آپ کی اور پنجاب حکومت کی اعلی کارکردگی کے تعریفی اشتہارات دیکھتے ہیں۔ ان کروڑوں اربوں کے اشتہارات کی ادائیگی اس غریب اور مقروض ملک کے قومی خزانے سے کی جاتی ہے۔ ہماری حکومتوں کی اعلی کارکردگی کو جانچنے کے لیے کچھ دیگر ادارے بھی ہیں جو فی سبیل اللہ ہمیں یہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔ جن کی رپورٹس کا لب لباب یہ ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم خوراک کی خطرناک حد تک کمی کا شکار ممالک میں سرفہرست دس ممالک میں شامل ہیں۔ خطرناک موسمی تبدیلیوں اور مستقبل میں شدید خشک سالی اور پانی کی کمی کا شکار ہونے والے پہلے دس ممالک میں بھی ہمارا ذکر کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ بدامن اور غیر محفوظ پہلے دس ممالک میں کی فہرست میں بھی اپنی پوزیشن پکی ہے۔ کرپشن، بیڈ گورئنس اور ٹیکس کولیکشن میں بھی ہم آخری نمبروں پر ہیں۔ ہمارا لٹریسی ریٹ اور نظام تعلیم شرمناک ہے۔ انتالیس فیصد عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں کی حالت ابتر ہے۔ طبعی سہولیات برائے نام اور ناقص ہیں۔ ملک کی بیشتر عوام بیماریوں کی بنیاد بننے والا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کا لوئر جوڈیشنری نظام دنیا کے کرپٹ ترین اور سست ترین نظاموں میں شامل ہے۔
پاکستان اور بالخصوص پنجاب پولیس کا تاثر انتہائی کرپٹ اور ظالم ادارے کا ہے۔ سرکاری محکمے رشوت خوری اور بدنظمی کا گڑھ بن چکے ہیں جہاں روزانہ عوام کی تذلیل کی جاتی ہے اور انھیں رشوت دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ٹریفک کے مسائل، گندگی، پولوشن، اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ، گرانی، بے روزگاری، میرٹ کا قتل عام، اقربا پروری سمیت درجنوں مسائل ہیں جن سے روازنہ ایک عام آدمی کا پالا پڑتا ہے اور وہ اس نظام کی بربادی کی دعا کرتا ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب اخبارات میں مالی پرشانیوں سے تنگ آئے ہوئے عوام کی خودکشیوں کی خبریں نہیں چھپتی۔ کہیں ماں بچوں سمیت نہر میں کود جاتی ہے تو کہیں باپ بچوں کو زہر کھلا کر مار دیتا ہے اور کہیں کوئی اپنے بچے بیچنے سڑکوں پر آ جاتا ہے۔
جناب ! ہمارا سوال آپ سے صرف اتنا ہے کہ ان مسائل کو کون حل کرے گا؟ اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے آپ کو مزید کتنے عشرے درکار ہیں؟؟؟ کیونکہ پچھلے آٹھ سال سے مسلسل آپ کے برادر خورد اور آپ کی ہی پارٹی کی پنجاب میں حکومت قائم ہے جبکہ مسائل ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ کیا عام آدمی یہ سوچنے میں حق بجانب نہیں کہ آپ کی حکومت ظلم و جبر پر مبنی یہ نظام بدلنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی یا پھر اس کو بدلنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔
جنابِ وزیراعظم !
2013ء کے عام انتخابات کی الیکشن کمپئین میں آپ نے زرداری حکومت کے احتساب کا نعرہ لگایا تھا ! آپ نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا ! آپ نے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا عظم دکھانا تھا ! آپ نے طاہر لاہوتی کو باعزت رزق کی فراہمی کا مژدہ سنایا تھا۔ وزیراعظم بننے کے بعد آپ نے پہلی تقریر میں فرمایا تھا کہ نہ خود کرپشن کریں گے اور نہ کسی کو کرنے دیں گے۔ آپ نے وفاقی کابینہ کی کارکردگی کو مستقل بنیادوں پر جانچنے اور خراب کارکردگئی والوں کو فارغ کرنے کی بھی نوید سنائی تھی ! آپ نے کہا تھا کہ آپ قومی اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی کا ایک جدید اور شفاف طریقہ کار متعین کریں گے۔ آج آپ کی حکومت کو تین سال سے زائد ہو چکے ہیں، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟؟؟ پنجاب اور مرکز میں آپ کی حکومت ہے، کوئی بھی قابل ذکر سیاسی جماعت اس صوبے کی مخالف نہیں ہے، پھر ہم جان سکتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں کیا امر مانع ہے ؟
لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنے میں حکومت واقعی متحرک نظر آتی ہے لیکن بجلی کے منصوبوں میں کرپشن، ناقص منصوبہ بندی، غلط ترجیہات اور نااہلی کی بازگشت مسلسل سنائی دے رہی ہے۔
آئی پی پی پیز کو بغیر آڈٹ کے دیے گئے پانچ سو ارب روپے، نندی پور پاور پروجیکٹ، قائداعظم سولر پلانٹ، ساہیوال تھر کول پلانٹ اور قطر ایل این جی معاہدے کے سلسلے میں مکمل تفصیلات عوام کے سامنے کیوں پیش نہیں کی جاتی؟ اب پھر یہ نوید سنائی جا رہی ہے کہ آئی پی پی پیز کا گردشی قرضہ دوبارہ تین سے چار سو ارب تک جا پہنچا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟؟؟ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کا احتساب کیوں نہیں کیا گیا؟؟؟ ملک پر اندرونی و بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہر معاشیات پاکستان کے مستقبل کی انتہائی افسوسناک تصویر کشی کر رہے ہیں۔ آخر اتنے بھاری قرضے کیوں لیے جا رہے ہیں، آپ اس معاملے میں قوم کی تشویش کیوں دور نہیں کرتے۔۔؟
جنابِ وزیر اعظم!
پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیادی اکائی تصور کی جاتیں ہیں۔ نہایت افسوس اور دکھ سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ آپ کی جماعت سمیت ہماری بیشتر سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی بجائے آمریت رائج ہے، یہاں طوعاً و کرہاً انڑا پارٹی الیکشن کروائے بھی جائیں تو وہ خانہ پوری اور مجبوری کے تحت کروائے جاتے ہیں، آپ پیچھلے تین عشرے سے پارٹی کے سربراہ ہیں آپ کے برادر خورد تین دفعہ پنجاب کے وزیر اعلٰی اور آپ تین دفعہ وزیر اعظم منتحب ہو چکے ہیں۔ کیا یہ فرض ہے کہ آپ دونوں بھائیوں کے علاوہ کوئی وزیر اعظم یا وزیر اعلی نہیں بن سکتا؟ اس وجہ سے سیاسی جماعتوں میں ترقی کا پیمانہ قابلیت، صلاحیت، حب الوطنی، محنت و دیانت کی بجائے پارٹی راہنماوں کی ذاتی وفاداری، خوش آمد اور چاپلوسی قرار پا چکا ہے۔ اسی وجہ سے ہی نا اہل اور کمتر صلاحیت کے وزیر مشیر جنم لیتے ہیں۔ جس سے اہل قیادت اور نوجوان نہ صرف سیاست اور سیاست دانوں سے متنفر ہو رہے ہیں بلکہ یہ جمہوریت کے لیے بھی اچھا شگون نہیں ہے۔ کیا سبب ہے کہ امریکہ میں ایک کالا ملک کا صدر بن جاتا ہے لندن میں ایک تارک وطن مسلمان کا بیٹا مئیر منتحب ہو جاتا ہے۔ حتی کے انڈیا میں ایک چائے بیچنے والا سیاسی کارکن ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچ جاتا ہے لیکن اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں نسلی اور موروثی سیاست کا دور ہے کہ ختم ہونا کا نام نہیں لے رہا۔ جناب کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ مریم نواز ،حمزہ شہباز اور دوسرے شاہی خاندان کے افراد کسی قانون و آئین کے تحت امور مملکت میں براہ راست مداخلت کرتے ہیں اور سرکاری اجلاسوں کی صدارت فرماتے ہیں؟ آخر ہر اہم عہدے پر کیوں آپ اپنے خاندان کے اور اپنے ذاتی وفاداروں کو ہی تعینات کرنا چاہتے ہیں؟ اقربا پروری کی کوئی حد ہے بھی یہ نہیں؟
جنابِ وزیر اعظم!
آپ کی حکومت بننے سے پہلے عام تاثر یہی تھا کہ جلا وطنی نے آپ پر بہت مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ آپ نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔ عام انتحابات کے بعد آپ نے خیبرپختون خواہ اور بلوچستان میں جس طرح دیگر سیاسی جماعتوں کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا وہ آپ کی اخلاص اور معاملہ فہمی کا ثبوت تھا۔ آپ عمران خان صاحب کے پاس چل کے گئے آپ نے چار حلقوں میں دھاندلی تحقیقات کا مطالبہ تسلیم کیا، آپ کے وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی کے فلور پر چالیس حلقے کھولنے کی پیشکش کی، پھر کیا سبب ہے کہ اس ایشو کو اتنا سنجیدہ بنا دیا گیا کہ عمران خان صاحب کو مسلسل احتجاج اور دھرنا دینا پڑا، پانامہ لیکسں کے معاملے میں بھی یہی راویت دہرائی گئ، آپ نے ٹی وی پر اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں خود کو تحقیقات کے لیے پیش کرنے کی پیش کش کی پھر اپوزیشن کو اتنا زچ کر دیا کہ وہ احتجاج اور اسلام آباد کو بند کرنے پر تل گئ۔ کیا دھرنوں اور احتجاجوں سے ہونے والے نقصان میں حکومت برابر کی قصوروار نہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ آپ کی پیچھلی دو حکومتوں کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئ، آپ کو معزول کر کے گرفتار کیا گیا اور پھر جلا وطن کر دیا گیا۔ ملڑی اسٹبلشمنٹ سے آپکے تحفظات اور کھنچاو ایک فطری امر ہے۔ بلا شبہ آپ سول بالادستی کے شدید حامی ہیں لیکن کیا یہ اس طرز حکومت سے ممکن ہے جو آپ نے اختیار کر رکھا ہے؟ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا سبب ہے کہ ایک جمہوری ملک میں ایک آرمی چیف ایک منتحب وزیر اعظم سے زیادہ مقبول کس طرح ہو جاتا ہے؟ سول بالادستی اخباروں میں خبریں فیڈ کروانے اور چالبازیوں سے ممکن نہیں اسکے لیے آپ کو گڈ گورنس کے ذریعے ڈلیور کرنا ہو گا۔ قومی ادروں کو سیاسی دباوٴ سے آزاد اور خود مختار بنانا ہو گا۔ قومی مفاد کے لیے ذاتی اور سیاسی مفادات کو قربان کرنا ہو گا ۔ جب تک سیاسی قیادت اپنی اہلیت، دیانت داری اور خلوص ثابت نہیں کرتی طاقت کا کھویا ہوا توازن حاصل کرنا ناممکن ہے۔ آپ سے گزارش ہے تب تک مزید ایڈونچرز سے باز رہیں اور سسٹم کو چلنے دیں۔
جنابِ وزیراعظم!
آپ ناصرف ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ آپ بذات خود بھی صوم صلاة کے پابند مسلمان ہیں۔ یہ بات ہمارے آئین میں بھی لکھی ہے اور بطور مسلمان یہ ہمارا ایمان بھی ہے کہ اصل حاکم اعلیٰ اور اختیارت کا منبع الله تعالی کی ذات ہے۔ بطور حکمران آپ کی ذمہ داری ایک نائب اور عوام کے خادم کی ہے۔ ایک مسلمان حکمران کے لیے حکمرانی کا بوجھ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کیوں کے ہمارے سامنے نبی کریمﷺ سے لیکر خلفا راشدین کے طرز حکمرانی کی روشن مثالیں موجود ہیں۔ جناب ہم آپ سے یہ نہیں چاہتے کہ آپ سایئکل پر سفر کیا کریں یا آپ پیوند لگے کپڑے پہنے کریں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ خود اپنا محاسبہ کریں اور اپنے طرز حکمرانی پر غور کریں۔ زندگئ موت الله کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے گرد یہ سیکورٹی کی فیصیلں کم کریں عوام سے رابطے بڑھائیں۔ الله نے آپ کو بہت عزت، دولت شہرت دی ہے آپ نے ایک بھرپور زندگئی گزاری ہے کیا اب آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ اب قوم کو ریڑن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ خدارا اپنا سارا تجربہ اور مہارت اس ملک اور اسکی عوام کی بہتری اور فلاح کے لیے صرف کر دیجیے۔ ،ماڈل ٹاوٴن میں جو چودہ مرد و زن بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔ انکی تحقیق و تفتیش کے لیے ہر ممکن کوشش کیجے۔ ایسا نہ ہو انکے پس ماندگان کی آہیں آپ کے اقتدار اور دولت کے سورج کو لے ڈوبیں۔ اگر ان کو اس دنیا میں انصاف نہ ملا تو اگلی دنیا میں تو ملے گا ہی۔ ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اور اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے۔ میدان حساب میں نہ بیٹے کام آتے ہیں نہ مال دولت اور نہ وزیر مشیر۔
سکندر جب دنیا سے گیا تھا تو اسکے دونوں ہاتھ خالی تھے۔
ہمیں اور کچھ بھی نہیں کہنا جناب۔
والسلام۔
آپ کی مجبور اور سسکتی رعایا