خاتون خانہ، کھانا اور اہلِ خانہ - نورین تبسم

عورت گھر کے کارخانے میں ایک مشین سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی، جسے اپنی رفتار اُس مشین کو چلانے والوں کے حساب سے ایڈجسٹ کرنا پڑتی ہے، لیکن چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، عورت گھر کے نظام کی سب سے طاقتور اکائی ہے، وہ غیرمحسوس طریقے سے افرادِ خانہ کی پسند ناپسند اپنی اہلیت اور سوچ کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔\r\nسب سے پہلے بچوں سے شروع کیا جائے تو بحیثیت ماں بچوں کے رویے بنانا مکمل طور پر اس کے ذمے ہے۔ اگرچہ بچے کے مزاج اور خواہشات پر گھر کے ماحول اور خصوصاً باپ کے خصائل و عادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ماں بچے کی پہلی درس گاہ یا انسپریشن ضرور ہے۔ معذرت کے ساتھ کہوں کہ اگر ماں چٹوری اور کھانے پینے کی شوقین ہوگی تو کیسے وہ اپنے بچے کی عادات میں سادگی کی امید رکھ سکتی ہے۔ عمر کے پہلے سال سے ہی گھر کی بنی چیزوں اور سب کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر عام کھانا کھانے والے بچوں میں یہ فرق نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔\r\n\r\nبچوں کو شروع سے ناشتے میں سادی روٹی گھی سی چپڑی ہوئی یا پراٹھوں کی عادت باآسانی ڈالی جا سکتی ہے، بچپن کی یہ عادت ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچی ہوئی یا سوکھی روٹی پانی لگا کر تلنا اور کسی بھی سبزی میں آٹا گوندھ کر اس کے پراٹھے بنا کر بچوں کو کھلائے جا سکتے ہیں۔ چھوٹے بچے مکمل طور پر ماں باپ کی عادتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے جائیں ان کے رویے تو بدلتے ہیں لیکن بنیادی عادات اپنی جڑیں گہری کر لیتی ہیں۔ بڑھتے بچوں کے ساتھ ماں کا رویہ قدرے بدل جاتا ہے کہ بچوں کے پاس صرف ایک ماں ہی تو ہوتی ہے جس سے وہ جھگڑتے اور نخرہ کرتے ہیں اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں صرف یہی وقت ہی اُن کے سکون کا ہوتا ہے۔ آنے والی زندگی میں معاشی اور معاشرتی مسائل انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں دیتے۔ اب یہاں بیٹوں اور بیٹیوں کے حوالے سے ماں کے رویے میں فرق بظاہر بہت نامناسب بلکہ سخت قابلِ اعتراض دِکھتا ہے خاص طور پر جب بیٹی بھی کہے کہ آپ کے شہزادے ہیں کہ نہ تو چھٹی والے روز جلدی اٹھنے کا کہتی ہیں اور نہ ہی کسی خاص کھانے پر اصرار کرتی ہیں۔ ماں بغیر بحث کیےسنی ان سنی کر جاتی ہے۔ اب کیا کہے کہ بیٹیوں نے گھر سنبھالنا ہوتا ہے، اُن کی عادات سنوارنے کے لیے ان پر جبر کرنا پڑتا ہے جبکہ بیٹوں کو غیرمحسوس طریقے سے اپنے ڈھب پر لایا جاتا ہے۔ مردوں کا ایک خاص جملہ جو عورتیں بھی بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ وہ تو پانی بھی اٹھ کر نہیں پیتے، کھانا پکانا یا کچن میں جانا تو دور کی بات ہے۔ دیکھنے میں تو یہ مرد کی خوبی ہے لیکن دراصل مرد کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی بھوک پیاس مٹانےکے لیے دوسروں کا محتاج ہے اور وہ بھی کسی عورت کا۔ مانا کہ مرد کے ذمے کمانا اور گھر کے کام کرنا عورت کے فرائض ہیں۔ لیکن رشتوں کی قیمت پر گھر کی عورت خانساماں اور ماسی نہیں۔ اور کیا ہم اپنی زندگی میں کسی کی بیٹی کو اس لیے بھی شامل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مؤدب غلام کی طرح کھانے کی ٹرے سجا کر پیش کرے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے اپنے باپ کا ایسا طرزِ عمل دیکھتے ہیں تو وہ پہلے پہل اپنی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے ہیں، اپنی زندگی میں تو بعد کی بات ہے۔ بیٹیوں کی طرح بیٹوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھانا بنانا ضرور آنا چاہیے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ اپنے لیے تو کچھ بنا سکیں۔ ہلکے پھلکے انداز میں بچوں کے حوالے سے بات کو سمیٹوں تو بڑے بلکہ بہت بڑے ہو کر یہی بچے اپنی ماؤں کو زیادہ تر کھانے کےحوالے سے ہی تو یاد کرتے ہیں۔ وہی کھانا جسے بچپن میں بنا کسی خاص لگاؤ یا ترغیب کے بس کھا لیا جاتا تھا۔\r\n\r\nدوسری طرف ایک وہ کلاس ہے جہاں خاندان کےساتھ چھٹی کے روز یا شام کی سب سے بڑی تفریح نت نئے ریستوران میں کھانا کھانے جانا ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مست پھرتے ماں باپ نہیں جانتے کہ وہ اپنے بچوں کی عادات میں کس زہر کی آمیزش کر رہے ہیں۔ باہر کے چٹخارہ دار کھانوں کی مشکوک غذائی نوعیت اور ان کے اصراف سے ہٹ کر ایک اہم خرابی تو یہ ہے کہ بچوں میں محنت سے کمائے گئے روپے پیسے کا درد ختم ہوجاتا ہے، دوسرے معاشرے میں عام لوگوں کی تکالیف اور ان کی بھوک پیاس سے بےحسی طاری ہوجاتی ہے۔گھر سے باہر اپنے خاندان کے ساتھ سیر و تفریح کرنا اور کبھی کبھار اچھے کھانے کھانا بری بات نہیں لیکن اسے عام سمجھ کر معمول بنا لینا نہایت غلط رویہ ہے۔\r\n\r\nاب بات کروں گھر کے کرتا دھرتا گھرکے مرد کی جس کی عمر کے اس دور تک آتے آتے عادات پکی اور ذہنیت پختہ ہو چکی ہوتی ہے، اسے اپنے سانچے میں ڈھالنا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے۔ رہی بات سادہ کھانے پکانے اور بنانے کی تو اس کے لیے غیرمحسوس طریقے سے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ وہ عورت ہی کیا جو ایک مرد کو نہ بدل سکے، مرد بھی وہ جو صرف چند گھنٹوں کے لیے گھر کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ مرد کی پہلی ترجیح گھر کا سکون ہے تو دوسری گھر میں پکا ہوا کھانا۔ اور یہ دونوں عورت کے اختیار میں ہیں، بس اس کے لیے صرف اپنی انا، اپنی خواہشات اور اپنی زندگی میں اپنے وقت کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ عورت تو وہ ہستی ہے جسے صرف چاہ کی نظر بھی نہیں بلکہ اس کا احساس ہی کافی ہوتا ہے جس کے عوض وہ اپنی ساری زندگی بڑی خاموشی سے دان کر دیتی ہے۔ اور اسی عورت کو جب ناقدری کا گہن لگ جائے یا ناسمجھی کی دیمک اس کے وجود میں گھر کر لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر بیٹھتی ہے بلکہ خود سے وابستہ رشتوں کی پہچان بھلا دیتی ہے، بقول شاعر ”گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“۔\r\n\r\nایک گھر ایک خاندان کا آغاز کرتے ہوئے جب اپنا آپ کسی کے حوالے کر دیا تو اپنی عادتیں بھی کسی کے ساتھ شئیر کرنا پڑتی ہیں اور اسی طرح دوسرے کی عادات اپنانا ہوتی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے رنگ میں رنگنے والی بات ہے۔ اب یہی اصل امتحان ہے کہ مرد و عورت کس طرح دوسرے کی بری عادتیں برداشت کرتے ہوئے اپنی اچھی عادتیں اس میں منتقل کریں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز وقت مانگتی ہے اور عمر کا خراج چاہتی ہے۔ اور انسان جلدباز واقع ہوا ہے، یہ جلدبازی اس کی فطرت اور جبلت کا خاصہ ہے۔ زندگی کے سبق اکثر ہمیں زندگی گزار کر ہی سمجھ آتے ہیں اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔\r\n

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں