ساتھ اور لباس کہانی - نورین تبسم

تین اندھیروں میں سفرِ دُنیا کا تنہا آغاز کرنے والے نفس کی ”ساتھ“ کہانی روشنی کی دنیا میں پہلے سانس سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ زندگی کی شاہراہ پر بڑھتے قدم سے زندگی کے کینوس پر بکھرتے ہر رنگ تک اس ساتھ کی جہت، اہمیت، ضرورت اور کیفیت پل پل رنگ بدلتی ہے۔ دُنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک رشتے کی قید میں جنم لیتا ہے۔ یہ بعد کی بات ہے کہ وہ پیدائش کے اولین لمحے دُنیا کے کوڑے دان کی خوراک بن جائے یا مالِ غنیمت کی طرح اجنبی چہروں کے حوالے کر دیا جائے۔ اسی طرح دُنیا سے جانے والا ہر انسان کسی نہ کسی انسان کے سہارے کے بغیر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو ہی نہیں سکتا چاہے وہ اُس کا قاتل ہو یا پھر قبر پرمٹی ڈالنے والا کوئی اجنبی۔ یہ دُنیا کے اصول ہیں۔ طےشدہ ضابطے ہیں جو ازل سے چلے آ رہے ہیں۔\n\nپہلی سانس اور آخری سانس کے بیچ دائرے کے اس سفر میں انسانی جان کی بقا کی بنیادی ضرورت حرارت ہے جو خوراک اور لباس کے خارجی وسیلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ جس کے لیے رشتوں، تعلق اور جنس سے قطع نظر صرف اور صرف انسانیت بلکہ اکثر محض احساس کا رشتہ اولیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس لمحے کا احساس جو معجزانہ طور پر انسانی جان کے لیے جانوروں میں دیکھنے کو بھی مل جاتا ہے تو کبھی انسان کو خوف یا پھر بےحسی اور بےبسی کے پاتال میں دھکیل کر اپنے شرف کا لباس اتارنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کسی بھی عام انسان کا ایک کمزور جان کے ساتھ یہ تعلق سراسر یکطرفہ ہوتا ہے کہ اس کے جواب میں وہ ننھا وجود احساسِ تشکر تو کیا بےنام مسکراہٹ بھی دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ زندگی کی گاڑی دھیمی رفتار سے سرکتی ہے تو شیرخوار کی معصومیت کی بدولت بڑے سے بڑے سخت جان کی مٹی میں بھی اُنسیت کی کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ رفتہ رفتہ ”میں اور تُو“ کی اس کہانی میں ترجیہات جنم لیتی ہیں۔ جبلی خواہشات اور جسمانی ضروریات کا دائرہ وسیع ہونے سے انسان دوسرے انسانوں کی جانب مائل ہوتا ہے۔عمر کے بڑھتے سالوں میں ہر رشتہ اور تعلق لین دین کے اُصول پر بنتا اور بڑھتا ہے۔ پھر جبلی اور فطری خواہشات، آسائشات، ترجیحات اور ترغیبات انسانی رویوں اور کردار کے رُخ کا تعین کرتی ہیں۔\n\nدُنیا میں آنے کے بعد انسان کی پہلی ضرورت جس کا وہ دوسرے انسان سے تقاضا کرتا ہے لباس ہے۔ ساری زندگی وہ اس محور کے گرد چکر لگاتا ہے یہی اُس کا دُنیا سے پہلا اور آخری تعلق بھی ہوتا ہے۔ سانس لیتے جسم کی ضرورت کبھی ایک کپڑے کے لباس سے پوری نہیں پڑتی۔ اسے سر کے لیے ردا اور بدن کے لیے قبا بھی چاہیے۔ صرف مردہ جسم ہی ہر قسم کے احساس سے عاری ہو جاتا ہے۔ جسے مٹی میں ملنے کے لیے صرف ایک چادر کی اوٹ درکار ہوتی ہے۔\n\nلباس کا تعلق بدن سے ہے اور تعلق لباس کی طرح ہوتا ہے۔ یہ لباس ہی ہے جو ہر رشتہ بناتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ آنکھ کھولنے کے بعد دُنیا میں ملنے والا ہر رشتہ فقط ایک لباس ہے جس میں ہماری مرضی اور پسند کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، جب پسند کا کوئی اختیار نہیں تو ناپسند کرنے کا حق کیسے ہمارے ہاتھ میں ہو سکتا ہے۔ جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر ہمیں رشتوں کو قبول کرنا چاہیے جیسے کپڑے کے لباس میں اگر کوئی مسئلہ ہو جائے تو اُسے اُتار کر پھینک نہیں دیا جاتا یا اُس کے مزید چیتھڑے نہیں اُڑائے جاتے، اپنے لباس کی برائیاں نہیں بیان کی جاتیں بلکہ اُسے ممکن حد تک سنوار کر اپنے جسم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ اگر کوئی انسانوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنا چاہے، اُن کو مجسم شکل میں پرکھنا چاہے، تو انسان اور لباس کے تعلق پر غور کرے۔ لباس وہ چیز ہے جس کے بغیر ہم سوچنے کا تصوربھی نہیں کر سکتے۔\n\nچند لباس بنیادی ہیں جو کہ ہرحال میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے اپنانے ہیں اس میں ہماری پسند ناپسند کا کوئی دخل نہیں۔ کچھ اس لیے ضروری ہیں کہ موسموں کی دست بُرد سے بچاتے ہیں۔ چند ایسے ہیں کہ جب چاہا پہن لیا جب چاہا اُتار دیا۔ کچھ لباس موسمی ہیں جو موسم کے مطابق تو متاع ِجاں ہیں لیکن بعد میں اِن سے چھٹکارا پا کر ہی سکون ملتا ہے۔ کبھی کوئی لباس بہت نازک ہوتے ہیں۔رنگ بھی کچے ہو سکتے ہیں اور کچھ برسوں دھلائی کے بعد بھی اپنی اُسی آب وتاب سے نظر آتے ہیں ۔ کچھ کو ہم وزنی صندوقوں میں رکھ کر بھول جاتے ہیں۔ کوئی لباس ہمارے لیے اور ہم اُس کے لیے ایسے لازم و ملزوم ہو جاتے ہیں کہ ہمارے جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایسے بھی ہیں کہ ہم پہنتے رہتے ہیں لیکن اُن سے ہمارا جی کبھی نہیں بھرتا۔ چند ایسے ہیں جو دُنیا کی نظر میں ہمارا بہترین لباس ہوتے ہیں پراُن کی چُبھن صرف ہمیں ہی محسوس ہوتی ہے کیونکہ باہر سے تو وہ اور ہوتے ہیں اور ہمارا تعلق لباس کی اُلٹی طرف سے ہوتا ہے اس لیے شکوہ بےمعنی ہے۔ لباس پہننا اوربات ہے اور اُس کو محسوس کرنا اور بات۔ لباس وہی اپنا ہوتا ہے جو تن کے ساتھ من کو بھی سرشار کرے اور ہمارا دست ِطلب اُس کا دھن دینے کا اہل بھی ہو۔\n\nلباس وہ بھی ہوتا ہے جسے ہم سجی سجائی بیش قیمت دُکانوں کے ٹرائی روم میں بار بار پہنتے ہیں، آئینے میں دیکھتے ہیں، اپنے آپ کو سراہتے ہیں، کبھی کسی دوست کی آنکھوں سے بھی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کی جھلک تلاشتے ہیں۔ اپنی جیب کے مطابق اُسے خریدنے کی خواہش کرتے ہیں یا پھر کسی اور کے سپرد کر کے ہمیشہ کے لیے بھول جاتے ہیں۔\n\nکوئی لباس صرف دکھاوے کے لیے بھی پہنے جاتے ہیں، بیش قیمت، زرق برق لباس وقتی طور دیکھنے والے کو مرعوب کر سکتا ہے، نگاہوں کو خیرہ کر سکتا ہے، پر جسم کا راز جسم کو جاننے سے ہی کُھلتا ہے۔ اس کے لیے اپنے جسم کے اسرار سے آگاہی پہلی شرط ہے۔ لباس کی شکنیں رات کی کروٹوں کی غمازی کرتی ہیں تو بےداغ، بےشکن لباس روزِ روشن کی طرح اندر کی کہانی سناتا ہے، ذات کے بھید کھولتا ہے۔\n\nالغرض لباس کی جتنی بھی قسمیں، جتنی بھی رنگا نگی ہے، وہ سب ہمارے حسب ِحال ہے۔ پیدا ہونے سے لے کر وقتِ آخر تک ہم جتنے بھی لوگوں سے ملتے ہیں، وہ صرف ہمارا لباس ہیں، ایک ظاہری لبادہ، ایک اٹل حقیقت۔ ہم جتنا بھی اس سے دور بھاگیں، کتنے ہی آدم بیزار کیوں نہ بن جائیں، اپنے آپ کو ان میں غیرمحسوس کریں، پھر بھی اِن سے فرار ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو کہ ہم نے پیدا ہوتے ہی اُٹھا لیا ہے، اب چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اس کا اور ہمارا سفر ایک ہی ہے۔ ہمیں اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے.اس کی حفاظت، اس کی مرمت، اس کی دھلائی، اس کی صفائی، اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ایسے کام ہوتے ہیں کہ ان میں ہی عمر تمام ہو جاتی ہے، پھر خیال آتا ہے کہ ہمارا آنے کا مقصد کیا تھا کہ ہم نے صبح شام اس فانی چیز کے لیے ایک کردیا ہے، ایسی فانی چیز جو ماں کی کوکھ کی طرح کچھ دیر تو اپنے بچھڑ جانے والے کا انتظار کرتی ہے، پھر نئے مسافر کے لیے آراستہ ہو جاتی ہے۔\n\nرشتوں اور لباس کی انھی بھول بھلیوں میں بھٹکتے ہوئے روشنی کی ایک کرن نظر آئی۔ ایک ایسا سِرا ہاتھ آیا کہ اُلجھی ڈور جو کہ بس ہاتھ سے چھوٹنے ہی والی تھی، اُس پر اعتماد بحال ہوا۔ لباس کا تعلق فقط جسم سے ہے، پھر ہم کیوں اپنی روح کا تعلق لباس سے جوڑتے ہیں، اس طرح نہ صرف اپنے جسم بلکہ اپنی روح کو بھی بلا وجہ کی اذّیت اور پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔\n\nروح کا تعلق صرف اور صرف اپنے خالق ومالک سے ہی جوڑ کر ہم ابدی اطمینان اور سکون حاصل کر سکتے ہیں۔ لباس کے علاوہ بھی ایک تعلق ہے جو کہ ہماری ذات سے ہٹ کر ہے، وہ ہے ہمارا سایہ۔ یہ وہ ساتھی ہے جو کہ ہر پل ہر آن ہمارے ہمراہ ہے، ہم اس کا احساس کریں یا نہ کریں، ہمیں اس کے لیے کوئی تردّد نہیں کرنا پڑتا۔ ہماری ذات پر اس کا کوئی بوجھ نہیں، ہمیں اس کے لیے کوئی بھاگ دوڑ نہیں کرنی۔ بس یہ ہمارا ہے، ہمارے لیے ہے، یہی بہت ہے۔ سائے کو عام حوالے سے دیکھیں تو یہ انسانی تعلقات میں ہمالہ کی طرح کھڑا ملتا ہے۔ سایہ بھی ہر وقت ہمارے ساتھ نظر نہیں آتا، یہ صرف سفر کا ساتھی ہے۔ ہم رُک گئے تو یہ رک گیا۔ وقت کے ساتھ گھٹتا بڑھتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ ہمارے سفر کو محسوس کرتا ہے، بوجھ تو ہم نے خود ہی اُٹھانا ہے۔ بات مختصر کروں تو لباس رشتہ ہے اور سایہ تعلق، یہ وہ ساتھی ہے جو دکھتا تو ہے پر چھوا نہیں جا سکتا۔\n\nلباس اگر جسم کی پہلی بنیادی ضرورت ہے تو سوچ روح کی غذا۔ انسان جسم کی ضروریات دوسرے انسانوں کے ساتھ بانٹ سکتا ہے لیکن روح کی تسکین صرف اپنے آپ سے اپنے اندر سے ملتی ہے۔ جسم کی ضرورت وقتی ہے جیسے برستی بارش میں ایک چھتری کے نیچے چند قدم کا ساتھ، جیسے موسموں کی شدت میں ذرا دیر کو کوئی مہربان آغوش، جیسے آنکھ میں اُترنے والی نمی بن کہے کسی احساس میں جذب ہوجائے طاور جیسے کوئی خاموش کاندھا۔\n\nجسم کا لباس اور جسم کی طلب صرف وقت کے حساب کتاب تک ساتھ دیتی ہے اس کے بعد نئے موسم کی نئی ضرورتیں سب بھلا دیتی ہیں۔ وقت بدلتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان جسم کی ہر طلب سے بےنیاز ہو جاتا ہے، ظاہری طور پر سانس کا رشتہ ٹوٹنے سے جسم کی تمام ضروریات فنا ہو جاتی ہیں۔ مٹی کا جسم مٹی کے حوالے کرنے تک آخری ضرورت ان سلی سفید چادر رہ جاتی ہے۔ رہ جانے والوں کی طرف سے جانے والے کو آخری تحفہ اور آخری سلام۔\n\nیوں انسان کے پہلے سانس کی کہانی جو لباس سے شروع ہوئی تو لباس پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ہوش و حواس کے درمیانی وقفے میں کتنے ہی لباس اُترتے چڑھتے رہے؟ کوئی لباس کب تک ساتھ دیتا رہا؟ اور کس لباس نے کتنا سکھ دیا اور اس سے کتنے دکھ ملے؟ یہ سب سوچنے کی ہمارے پاس فرصت کہاں۔ ہم تو اکثر بنا تشکر کے من چاہا لباس پہنتے رہتے ہیں تو بلا کسی افسوس کے ایک کے بعد ایک لباس اس اُمید پر بدلتے چلے جاتے ہیں کہ شاید کبھی کوئی ایک تو ہمارے بدن کی زیبائی جان سکے اور یا پھر بدنمائی ڈھانپ لے۔ اسی کشمکش میں زندگی گذر جاتی ہے اور جسم تختۂ مشق کی صورت وہیں رہ جاتا ہے، یہاں تک کے ایک تختے پر لٹا کر اکڑے ہوئے جسم کی کہانی کا ہر باب بند ہوجاتا ہے۔\n\n(میں ایک مستند لکھاری بالکل بھی نہیں ،سوچ کو لفظوں میں پرو کر اپنے بلاگ اور فیس بک صفحے پر سجا دیتی ہوں۔ میری اہلیت صرف ”اہلیہ“ اور ”ماں“ ہے۔)

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں