نکاح، کاغذ کہانی - نورین تبسم

ابتدائے انسانی سے دُنیا میں ایک انسان کا دوسرے انسان سے پہلا رشتہ یہی تعلق ہے تو دوسرے لفظوں میں یہی وہ تعلق ہے جو ہر رشتے کی بنیاد رکھتا ہے۔ ایسا تعلق جو حدود کے دائرے میں سفر کرنا چاہے تو صرف اور صرف ایک انسان سے ممکن ہے، اور بےوزنی کی کیفیت میں اپنی کششِ سے نکل جائے تو اگر کوئی رکاوٹ نہیں تو کہیں قرار بھی تو نہیں۔\nاپنے خالق و مالک سے قرب اگر ہر رشتے کی نفی کرتا ہے تو ایک اجنبی سے جڑتا یہ تعلق ہر رشتے پر حاوی ہوجاتا ہے۔\nحیران کن بات یہ ہے کہ گرچہ مرد اور عورت کا یہ ربطِ باہمی بالکل ذاتی اور انتہائی نجی معاملہ ہے لیکن تہذیبی دُنیا کے ہر مذہب میں اسے ایک مقدس معاشرتی فریضے کے طور پر سرانجام دیا جاتا ہے۔\nشادی اگر انسان کی دُنیاوی زندگی کا انتہائی عجیب وغریب پہلو ہے تو اس سے بھی عجیب تر اس کی کاغذی شکل ”نکاح“ ہے جو دو اجنبی مرد اور عورت کے ساری زندگی ایک چھت، ایک گھر اور ایک بستر پر ساتھ رہنے کا معاہدہ ہے۔ یہ زندگی کا وہ موڑ ہے جس میں کوئی ”یوٹرن“ نہیں۔ بظاہر یہ بات لایعنی سی دکھتی ہے کہ زندگی میں تو کچھ بھی کبھی بھی حرفِ آخر نہیں۔ عقل کی رو سےکہا جائے کہ یہ تعلق کتنا ہی خاص اور مضبوط کیوں نہ ہو، صرف تین لفظ کہنے سے یوں نام و نشان کھو دیتا ہے جیسے ریت پر لکھی تحریر یا پانی پر بنا نقش۔\n”تین لفظ“\nحق تین لفظ کا نام نہیں ۔۔۔ اورحق محض تین لفظ دہرانے سےحاصل نہیں ہوجاتا، اور تین لفظ بول کر ختم بھی نہیں ہو جاتا۔ کسی پر حق جتانے یا منوانے کے لیے لفظ نہیں احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ کی اہمیت مسلّم ہے، پراحساس لفظ سے نہیں عمل سے ہے۔ لفظ کے دام میں حق جتانا بعض اوقات زبردستی یا زیادتی کی حدوں کو چھونےلگتا ہے جبکہ احساس کی گرفت میں انسان بنا کسی گھبراہٹ کےخوشی خوشی اپنی ہمت سے بھی زیادہ بوجھ اٹھا لیتا ہے۔\nکاغذی رشتوں کی اہمیت، اُن کے تقدس سے انکار نہیں، وہ فرد سے فرد کی بقا اور نسلوں کی پاکیزگی کے ضامن ہوتے ہیں اور اُن کے لیے باعثِ افتخار بھی۔ کاغذ پر بننے والا اور کاغذ پر ہی ختم ہونے والا حق اپنی گہرائی اور معنویت میں اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ یہاں تک کہ آخر میں کاغذ سلامت رہ جاتا ہے اورانسان فنا ہو جاتا ہے۔ اور اتنا معتبر کہ دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی رشتہ کسی اجنبی سے ممکن ہی نہیں۔\nیہ کاغذی رشتہ کاغذی پھولوں کی طرح ہے جس میں مشاق ہاتھوں کی کاری گری سے جتنے چاہو رنگ بھر لو، جیسے چاہو موڑ لو، جیسی خوشبو دینے کی استطاعت ہو اس میں جذب کر دو، چاہو تو اصل کو بھی مات دے دو۔ ایسے ایسے رنگ تخلیق کرو کہ دیکھنے والے سراہنے والے اصل نقل کا فرق بھول جائیں۔ اس کی یہی تو شان ہے کہ جس زاویے سے دیکھو مکمل دکھتا ہے، ہرموسم سے بےنیاز، جہاں جی چاہے رکھ دیں ہمیشہ نگاہوں کو خیرہ کرتا ہے۔ بنانے والوں، برتنے والوں کا ساتھ چھوٹ بھی جائے پھر بھی نسلوں کی صورت ان کی یادگارعلامت کے طور پرقائم رہتا ہے۔\nکاغذ پر بننے والا یہ رشتہ، یہ حق جتنا نازک جتنا حساس ہوتا ہے، یہ برتنے والے ہی جانتے ہیں۔ خواہشوں کی دیمک سے بچاتے ہوئے، سمجھوتوں کی پھوار کا چھڑکاؤ کرتے رہنے سے ہی تازگی ملتی ہے۔ کاغذ کی زندگی جیتے جاگتے انسان کی شخصی آزادی کا خراج مانگتی ہے۔ قطرہ قطرہ نچوڑتی ہے پر کہیں نام و نشان نہیں چھوڑتی۔ نہ لینے والے پر اور نہ دینے والے پر کبھی حرف آنے دیتی ہے۔\nبظاہر سادہ اور سہل دِکھتے اس بندھن میں وقت کے ساتھ کئی پیچیدگیاں درآتی ہیں اور یہ زندگی کا ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے۔ معاشرے کے حصار اور خاندان کی محبتوں کےسائے میں بننے والے اس خالص ذاتی احساس کو سمجھنا اور برتنا کبھی بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ حقوق و فرائض کے درمیان گردش کرتے اس بندھن کی بہت سی جہت ہیں جن میں سب سے اہم اور بنیادی کڑی اولاد کی صورت سامنے آتی ہے جس کے بعد سوچ و عمل کے زاویے یکسر تبدیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔\nازدواجی بندھن کی مضبوطی اور طوالت صرف سمجھوتوں سےعبارت ہے اور ہر دو میں سے کسی ایک کو یہ بارِگراں اُٹھانا ہی پڑتا ہے۔ یہ اور بات کہ دونوں اپنی جگہ سمجھتے ہیں کہ اصل سمجھوتہ وہی کر رہے ہیں۔\nغور کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اس تعلق میں بندھنے کے بعد جب ایک انسان کی ذات دوسرے فرد کے ساتھ منسلک ہو جاتی ہے تو پھر اس کی اپنی شخصیت اپنی ذاتی زندگی سب کچھ بٹ کر رہ جاتی ہے۔ ایک فرد کی زندگی اور ذات پر گہرے اثرات مرتب کرتے اس تعلق میں سکون و کامیابی کے لیے پہلی شرط اپنےسے زیادہ دوسرے کی خواہش، چاہت اور ارمانوں کو فوقیت دینا ہے اور سب جانتے بوجھتے ہوئے اپنی زندگی پر اپنا حق چھوڑ دینا ہی اصل امتحان ہے۔\nدنیا میں اس تعلق کے علاوہ اور کہیں بھی کسی بھی رشتے میں اس طرح انسان کا انسان پر تصرّف رکھنا جائز نہیں۔ اس رشتے کی سب سے بڑی مضبوطی اور انفرادیت بھی یہی ہے۔۔ ”خیال“ رکھنے کا مطلب صرف جسمانی اور مادی ضرورتوں کو پورا کرنا اور معاشرتی ذمہ داریوں سے انصاف کرنا ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ذہنی معیار کو نہ صرف سمجھنا اور قبول کرنا ہے جو ہم آہنگی اورسکون حاصل کرنے کا اصل راز ہے۔\nآخری بات \nایک کامیاب ازدواجی زندگی کا سفر صرف جگمگاتے پہلے صفحے اور اُس سے بڑھ کر انتہائی شاندار آخری صفحے کی کہانی ہے۔\nبیچ کون جانے کہ جب ہندسے ہی ثبوت ٹھہرے توحرف کی کیا مجال جو دخل اندازی کرے۔ جس کے پاس جو تھا وہی دے سکتا تھا اور دے بھی دیا! اب کچھ باقی نہیں کہنے کو۔\nپر ہم نادان ہیں، نہیں جانتے کہ آخری ورق لکھنے پر ہمارا اختیار نہیں اور یہ بھی کہ اگر کہانی پر لکیر سیدھی ہو جائے تو پھر کچھ باقی نہیں بچتا، نہ قرار نہ انتظار، نہ گلہ نہ شکوہ۔\nزندگی الجبرا کا سوال لگے تواُس کا جواب اگر مل بھی جائے تو ہمیشہ ایک ہی آتا ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!