چھوڑ کر شہرِ ہوس عشق کے ویرانے میں - ریحان خان

ریحان خان1 ٹرین اڑی جارہی تھی.\r\nدروازے پر کھڑے ہو کر لہراتی بل کھاتی پٹریوں کو دیکھ کر محبوب کے ابرو کے پیچ و خم اور گردن کے حمائل یاد آئے. اردو شاعری کی رائج تشبیہات اس لیے یاد آئیں کہ ہماری منزل میر و غالب کی دہلی تھی. جہاں کا ایک کباب فروش بھی اپنے کبابوں کی تعریف اردوئے معلّی میں کرتا ہے.\r\n’’میرے کبابوں کی خوشبو جامع مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر وہاں سجدہ ریز مصلّیان کی نعلوں کا بوسہ لیتی ہے.‘‘\r\nکچھ رومانی موسم کی بھی کرم فرمائی تھی کہ صبح سے شہنشاہِ خاور بھی محجوب ہوئے بیٹھے تھے. بادلوں کی پھٹی ہوئی ردا سے کبھی کبھی کرنیں نمودار ہوتیں لیکن کسی جانب سے تیرتا ہوا بادل ان کرنوں کا محرم بن جاتا تھا.\r\nدلّی کا سفر طے شدہ نہیں تھا. عید کے روز عشاء بعد چند بے فکروں کے ساتھ ایکسپریس ہائی وے کی ایک ہوٹل پر چائے سے شغل ہو رہا تھا. عید کی چھٹیاں قریباً ایک ہفتے کی تھیں، انہی کو ٹھکانے لگانے کی فکر اس کارگہِ حیات میں ہماری اکلوتی فکر تھی.\r\nماہِ رمضان کی عبادات کے بعد ہم بالکل خمار بارہ بنکوی والی کیفیت میں مبتلا تھے.\r\nجتنی بھی میکدے میں ہے ساقی پلا دے آج\r\nہم تشنہ کام زہد کے صحرا سے آئے ہیں\r\nنگہِ انتخاب ارض گوا کے مرغزاروں پر ٹہر سی جاتی تھی، بوڑھے سمندر سے گھرے خوبصورت لہلہاتے اور اٹھلاتے جزیرے چشم تصوّر میں دعوتِ نظارہ دے رہے تھے،\r\nلیکن رمضان کے تقوی کا بھرم ایک دم سے گوا کے ساحل پر دفن کر دینا دل کو گوارا نہ ہوا.\r\nعامر عثمانی نے کہا تھا\r\nچھوڑ کر شہرِ ہوس عشق کے ویرانے میں\r\nکوئی وحشی کوئی دیوانہ نظر آیا ہے\r\nعشق کے ویرانے پر دلّی دل میں مچلنے لگی. سو ہم نے دوستوں کے بیچ دہلی کا شوشہ چھوڑ دیا. دوستوں نے یوں دیکھا گویا فدوی نے انہیں قیامت کی خبر دی ہو. دلّی اوور بجٹ تھی. اسی وقت ہم نے عزیزی کو فائنانسر کے طور پر آگے کردیا جس کی جیبیں چاند رات سے ہی پھولی نظر آرہی تھیں.\r\nسو عید کے تیسرے دن ہم پانچ دوست عامر، عبید، وسیم، ارمان اور فدوی شیرڈی سے حضرت نظام الدین ہوتے ہوئے کالکا جانے والی ٹرین میں تھے. عزیزی ہمارے ساتھ نہ آسکا کیونکہ دو دن بعد اسے ڈیوٹی جوائن کرنی تھی.\r\nعامر ایک بے فکرا شب گزیدہ نوجوان ہے. جب دوسروں کی گھڑی میں رات کے نو بج رہے ہوں تب اس کی گھڑی میں صبح کا نو بج رہا ہوتا ہے گویا دن ابھی نکلا ہو.\r\nوسیم کو قدرت نے وہ صلاحیت دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہتا ہے ہمارے درمیان بیٹھ کر اپنے کانوں کے ٹیون چینج کرکے کسی اور فریکوینسی سے فیض حاصل کرنے لگتا ہے. جھنجھوڑے جانے پر معصومیت سے ایک ’’کیا ہوا‘‘ سے نواز دیتا ہے-\r\nارمان ایک سیدھا سادا معقول اور بسا اوقات نامعقول سا بندہ ہے. اس کی ایک ہی تمنّا تھی کہ وہ کسی طرح فیروزآباد پہنچ جائے اور وہاں سے اپنی بیوی کےلیے چوڑیاں خرید سکے. ستم بالائے ستم کہ اس کے بیگ میں چوڑی کا سائز کا سیمپل بھی رکھا ہوا تھا.\r\nعبید ایک انجینئر ہے. اس کے حالات بھی انجینئروں کے حسبِ حال ہیں. اس کی انجینئرنگ کا پہلا سال شاہد کپور بن کر گزرا، دوسرا سال اکشے کمار، تیسرا سال سنیل شیٹھی اور آخری سال تک پہنچتے پہنچتے وہ گینگ آف واسع پور کا منوج واجپائی بن چکا تھا.\r\nفدوی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے.\r\nکسی عورت سے اسی کے انداز میں ہاتھ نچا نچا کر لڑنے کی تمنّا ایک مدّت سے تھی جو وطنِ مالوف میں پوری نہ ہوسکی تھی، وہ کالکا ایکسپریس میں متھرا کی ایک عقیدت مند سے لڑ کر پوری ہوئی. ٹرین میں وہ انجینئر کو اٹھا کر اس کی جگہ سونا چاہتی تھی-.انجینئر نے بےچارگی سے میری جانب دیکھا. اس عورت سے زبردست ڈوئل ہوئی. میں نے’’دلائل و براہین‘‘ کے ڈھیر میں اسے ایسا دفن کیا کہ وہ دھمکیاں دیتی ہوئی اپنی سیٹ پر ’’بمشکل‘‘جلوہ افروز ہوئی. لفظ ’’بمشکل‘‘ اس کے تن و توش کے اعتبار سے استعمال کیا گیا ہے.\r\nچوبیس گھنٹوں کے طویل سفر کے بعد دہلی حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن پر ہمارا نزول ہوا. دہلی کی جو تصویر ممبئی میں رہتے ہوئے دل میں بنائے بیٹھے تھے وہ ساری ہر آن ڈھیر ہوتی جارہی تھی. نظام الدین جنکشن سی ایس ٹی کا عشر عشیر بھی نہیں ہے. اکّا دکا فیمیلیز ادھر ادھر بیٹھی ہوئی ہیں. چند قلی جماہی لے رہے ہیں. کلاشنکوف تھامے گارڈ اونگھ رہا ہے. سی ایس ٹی اور نظام الدین میں ایک قدر مشترک تھی کہ خواتین یہاں بھی بنی ٹھنی ہوئی تھیں. بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دلّی کا جزوی ریلوے اسٹیشن ہے. اصل اسٹیشن آگے ہے اور وہاں جانے کی تمنّا ہم میں سے کسی کو نہیں تھی.\r\nاسٹیشن سے پیدل ہی حضرت نظام الدین اولیا کے مزار کی جانب رخ کیا. اس تنگ سی گلی میں دلّی کے تین نابغے مدفون ہیں. حضرت نظام الدّین اولیا کے علاوہ طوطی ہند حضرت امیر خسرو اور اسداللّہ خان غالب کی آخری آرام گاہیں اسی گلی میں ہیں. شاید انھی قبروں کی مناسبت سے گلی میں موجود بنگلہ والی مسجد کو تبلیغی جماعت کا مرکز بنا دیا گیا کہ ’’بدبختو! ان قبور کو دیکھو اور اپنی قبر کی فکر کرو.‘‘\r\nگلی میں آگے آگے چلتا ہوا انجینئر اچانک مڑ کر مجھ سے مخاطب ہوا.\r\n’’مزارِ غالب پر چلنا ہے؟‘‘\r\n’’ہاں یار! کیوں نہیں.‘‘\r\nوہ داہنی جانب ایک شکشتہ چہار دیواری کے زنگ آلود دروازے میں داخل ہوگیا. کبھی اسی دروازے سے گزرتے وقت علّامہ اقبال نے کہا تھا.\r\n’’بے شک شعراء کا حج یہیں ہوتا ہے.‘‘\r\nمزار کے احاطے میں چند نوجوان کرکٹ کھیل رہے تھے اور ایک جانب غالب کے مزار پر قفل چڑھا ہوا تھا......ع\r\n’’ہوئے ہم جو مر کے رسوا کیوں ہوئے نہ غرقِ دریا‘‘\r\nمزار کی حالتِ زار اور شکشتہ در و دیوار دیکھ کر دل افسردہ سا ہوگیا. طرّہ یہ کہ نوجوان کرکٹ کھیل رہے ہیں.\r\nقفل چڑھا دیکھ کر غالب کی مزار پر فاتحہ خوانی کی آس جاتی رہی. بوجھل قدموں سے واپس ہونے لگے تو ایک سکیورٹی گارڈ نظر آیا. اس سے مزار پر چڑھے قفل کی بابت سوال کیا تو اس نے دل کو اور ٹھیس لگائی.\r\n’’تالا نہ لگائیں تو وہ لڑکے اس جانب بھی کرکٹ کھیلنے لگتے ہیں. اگر آپ مزار پر جانا چاہتے ہیں تو میں کچھ دیر کے لیے وہ حصّہ کھول دیتا ہوں-‘‘\r\nکچھ سمجھ نہیں آیا کہ گارڈ کی بات پر خوش ہوا جائے یا ملول......... سنگ مرمر کی بنی گردوغبار سے اٹی ایک قبر........ لوحِ مزار کو دیکھا جسے کبھی اقبال سینے سے لگائے بیٹھے تھے اور ایک ’’ظالم‘‘ بچّہ اپنی دلسوز آواز میں\r\n’’دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی‘‘ گا رہا تھا.\r\nعلّامہ آبدیدہ تھے. جب وہ بچّہ\r\nوہ بادہِ شبانہ کی سرمستیاں کہاں\r\nاٹھیے بس اب کہ لذّت خواب سحر گئی\r\nپر پہنچا تو اقبال نے بے اختیار لوحِ مزار کا بوسہ لیا اور اٹھ کھڑے ہوئے......ع\r\nشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر\r\nخندہ زن ہے غنچۂ دلّی گل شیراز پر\r\nآہ! تو اجڑی ہوئی دلّی میں آرامیدہ ہے\r\nگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے\r\nلطف گویائی میں تری ہم سری ممکن نہیں\r\nہو تخیّل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں\r\nمزار کی یہ حالتِ زار اور اس سے متصل غالب اکیڈمی کی پرشکوہ عمارت جو لازماً اندر سے بھی شاندار رہی ہوگی، یہ بیان کرنے کے لیے کافی ہے کہ غالب نام کی دکان اب بھی خوب چلتی ہے بس غالب کا کوئی پرسانِ حال نہیں.\r\nاس گلی میں دو روز تک قیام رہا لیکن غالب اکیڈمی میں جانے کی طبیعت نہیں ہوئی. جو دیکھنا تھا وہ ہم غالب کے مزار پر دیکھ چکے تھے اب دل مزید حزن کا متمنّی نہیں تھا.\r\n( جاری ہے )\r\n\r\nسفرنامے کی دوسری قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی تیسری قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی چوتھی قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی پانچویں قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی چھٹی قسط یہاں ملاحظہ کریں\r\n\r\nسفرنامے کی ساتویں قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

ریحان خان

ریحان خان

ریحان خان بھارت کے نوجوان قلمار ہیں- اردو ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں، تجارت پیشہ ہیں-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.