قوموں کی زندگی میں ایسے ادوار بارہا آتے ہیں جب حالات کی تاریکی، اقدار کی شکست و ریخت اور اخلاقی زوال کا منظر حساس دلوں کو بے چین کر دیتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا عدل، دیانت، اخوت اور خدا پرستی پر مبنی ایک مثالی اسلامی اور فلاحی معاشرہ محض ایک دل آویز خواب ہے، یا ایک قابلِ حصول حقیقت؟
بظاہر حالات اس خواب کی تعبیر سے بہت دُور دکھائی دیتے ہیں، لیکن تاریخ، عقل اور وَحَی کی روشنی میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مایوسی ایمان کا شیوہ نہیں، بلکہ عمل، صبر اور حسنِ تدبیر ہی کامیابی کا راستہ ہیں۔ معاشرے کی تعمیر و اصلاح کا عمل خواہ کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو، اس کی راہ کبھی ہموار نہیں رہی۔ ہر دَور میں خیر اور شر کی کشمکش جاری رہی ہے۔ یہی کشمکش انسانی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھے بغیر نہ حالات کا صحیح تجزیہ ممکن ہے اور نہ مستقبل کی کوئی مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے۔ اصلاحِ معاشرہ کی راہ میں پہلی اور سب سے بنیادی رکاوٹ خود انسان کی اپنی ذات ہے۔ ہم ایک صالح معاشرے کے آرزو مند تو ہیں، لیکن اپنی شخصیت کو اس مقصد کے لیے تیار کرنے کی سنجیدہ کوشش کم کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں خواہشات کی فراوانی ہے، مگر کردار کی آبیاری کا ذوق کم یاب ہے۔ ہم دوسروں سے دیانت، عدل اور اخلاص کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اپنی زندگی میں انہی اقدار کو اختیار کرنے میں تساہل سے کام لیتے ہیں۔ قول و فعل کا یہ تضاد اجتماعی زوال کی جڑ ہے۔
قرآنِ حکیم نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا عزم نہ کرے۔ اللّہ تعالٰی کا ارشاد ہے جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
”ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس (اللّٰہ )کے مقرر کیے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللّٰہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللّٰہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہو سکتا ہے۔“
(سورۃ الرعد آیت 11 ،تفہیم القرآن جلد 2، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، اشاعت اپریل 1982ء، صفحہ 448، 449)
لہٰذا ہر اجتماعی انقلاب کا نقطۂ آغاز فرد کی داخلی اصلاح ہے۔ دوسری رکاوٹ معاشرے کے بااثر طبقات کا کردار ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ قوموں کی فکری سمت متعین کرنے میں اہلِ اقتدار، اہلِ ثروت، اہلِ علم اور ذرائعِ ابلاغ کے نمائندوں کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔ جب یہ طبقات حق و انصاف کے بجائے ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش یا مادی منفعت کو اپنا نصب العین بنا لیتے ہیں تو پورا معاشرہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتا۔ اصلاح و تعمیر کی آوازیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور خیر کے داعی تعداد میں بھی کم رہ جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وسیع صحرا میں چند چراغ تاریکی سے نبرد آزما ہوں۔ تیسری رکاوٹ اجتماعی قوت اور اقتدار کی نوعیت سے متعلق ہے۔ عصرِ حاضر میں ریاست محض انتظامی ادارہ نہیں بلکہ معاشرتی تشکیل کی سب سے مؤثر قوت بن چکی ہے۔ جمہوری نظام میں اقتدار عوام کی رائے سے وجود میں آتا ہے، اس لیے عوامی شعور کی تعمیر بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
اگر رائے عامہ جذبات، تعصبات یا گمراہ کن پروپیگنڈے کی اسیر ہو جائے تو صالح قیادت آگے نہیں آ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ باطل کی قوتیں ہمیشہ عوامی شعور کو منتشر رکھنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ اقتدار ان ہاتھوں میں نہ پہنچے جو عدل، دیانت اور امانت کے علمبردار ہوں۔ مخلص،سچے اور سُچے مسلمان ہیں۔جو ہر انسان کی خیر اور بھلاٸی چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت کا دوسرا رخ نہایت اُمید افزا ہے۔ معاشرہ کبھی سراسر فساد کا شکار نہیں ہوتا۔ ہر دَور میں ایسے نفوسِ قدسیہ موجود رہتے ہیں جو ایمان، اخلاص، علم اور کردار کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ یہی وہ نیک اور صالح عناصر ہیں جو قوموں کی اصل متاع ہوتے ہیں۔ اگر ان کی صلاحیتوں کو منظم کیا جائے، ان میں باہمی ربط پیدا کیا جائے اور انہیں صحیح سَمَت عطا کی جائے تو وہ معاشرے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جو لوگ لالچی ہوں،غیروں کے وفادار ہوں،جن کے اندر منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو،منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کے مصداق ان کا کردار ہو،ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ملک و قوم کی بھاگ دَوڑ آ جائے ،تو وہ ملک و قوم کو تعمیر و ترقی کی راہ پر لانے کے بجاٸے ،پستی،پاتال اوراور ذِلت کی گھاٹیوں اور سراب میں لے جاتے ہیں،ملک و قوم کی دولت لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ملک میں جنگل کا قانون اور درندوں کا راج قاٸم ہو جاتا ہے۔انسان سسک سسک کر مرتا ہے،لیڈر بندر کی طرح ایک درخت سے دوسرے درخت چھیلانگیں لگاتے ہیں،بس ان کی آنیاں اور جانیاں ہی دیکھو گے۔ اسی طرح یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری قوم کی فطرت میں شر پسندی نہیں۔ عام انسان ظلم سے نفرت کرتا ہے، انصاف کو پسند کرتا ہے اور دیانت دار قیادت کا خواہاں ہوتا ہے۔ اگر وہ گمراہی کا شکار ہوتا ہے تو اکثر اس کی وجہ لاعلمی، کمزور تربیت یا فکری انتشار ہوتا ہے، نہ کہ برائی سے قلبی وابستگی۔ یہی پہلو امید کی سب سے مضبوط بنیاد ہے، کیونکہ جس قوم کے ضمیر میں خیر کی طلب زندہ ہو، اس کی اصلاح ہمیشہ ممکن رہتی ہے۔
مزید برآں، باطل کی قوتیں بظاہر کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، وہ دو ایسی نعمتوں سے محروم رہتی ہیں جو ہر دائمی کامیابی کی اساس ہیں: بلند کردار اور حقیقی اتحاد۔ تاریخ کا غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وسائل کی فراوانی سے زیادہ اثر انگیز قوت سیرت و کردار کی عظمت ہوتی ہے۔ کردار دلوں کو فتح کرتا ہے، جبکہ اخلاص پر مبنی اتحاد ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ تاہم اہلِ ایمان کی سب سے بڑی قوت نہ وسائل ہیں، نہ تعداد، بلکہ اللّہ تعالیٰ پر کامل اعتماد ہے۔ اقامتِ دین محض ایک سماجی تحریک نہیں بلکہ اللّہ تعالیٰ کے پسندیدہ مقاصد میں سے ایک عظیم مقصد ہے۔ جو لوگ خلوصِ نیت، صبر، استقامت اور حکمت کے ساتھ اس راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، ان کے لیے اللّہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا وعدہ ہے۔ یہی یقین مایوسی کے اندھیروں میں اُمید کا چراغ روشن رکھتا ہے اور محدود وسائل کو غیر معمولی اثر بخشتا ہے۔
البتہ یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اللّہ تعالیٰ کی سنت عمل سے وابستہ ہے۔ محض تمنائیں، جذبات یا تنقیص کسی معاشرے کی تقدیر نہیں بدل سکتیں۔ فطرت کا ہر قانون انسان کو یہی سبق دیتا ہے کہ نتائج محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔ کسان بیج بوئے بغیر فصل کی امید نہیں رکھ سکتا، معمار بنیاد رکھے بغیر عمارت تعمیر نہیں کر سکتا، اور مسافر قدم اٹھائے بغیر منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح معاشرتی اصلاح بھی مسلسل جدوجہد، منظم منصوبہ بندی، حکمتِ عملی اور بے لوث قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اسلامی اور فلاحی معاشرے کی بنیاد محض نعروں لگانے، مُکہ لہرانے اور منہ جھاگ اڑانے سے استوار نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ایسی قیادت درکار ہوتی ہے جو ایمان میں راسخ، کردار میں پاکیزہ، قانون کی پابند، عدل کی علمبردار اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو۔ منافقت، مفاد پرستی اور دوغلا پن کسی صالح معاشرے کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ معاشرتی تعمیر کا اصل سرمایہ مخلص انسان ہوتے ہیں، اور یہی وہ افراد ہیں جو اپنے کردار سے معاشرے کی سمت متعین کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اصلاح کا سفر ہمیشہ فرد سے شروع ہوتا ہے اور معاشرے تک پہنچتا ہے۔ جب انسان اپنی ذات کو سنوارتا ہے، اپنے گھر کو خیر کا مرکز بناتا ہے، اپنے گرد و پیش میں عدل، محبت، امانت اور خدمت کے چراغ روشن کرتا ہے تو یہی چھوٹے چھوٹے چراغ مل کر قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ یہی سنتِ الٰہی ہے اور یہی تمام پائیدار انقلابات کا بنیادی اصول بھی۔ درج بالا گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ موجودہ حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، مایوسی کی کوئی عقلی، اخلاقی یا ایمانی بنیاد موجود نہیں۔ خیر کی قوتیں آج بھی زندہ ہیں، انسانی فطرت آج بھی نیکی کی متلاشی ہے، اور اللّہ تعالیٰ کی نصرت آج بھی ان لوگوں کے لیے ہے جو اخلاص، حکمت اور استقامت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم تاریکیوں کا ماتم کریں، بلکہ یہ ہے کہ اپنے حصے کا چراغ روشن کریں۔ آرزو کو عمل، فکر کو کردار، اور دعا کو مسلسل جدوجہد سے جوڑ دیں۔
یہی وہ راستہ ہے جو ایک صالح، عادل، اسلامی اور حقیقی فلاحی معاشرے کی منزل تک پہنچاتا ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جو ہر دَور میں زندہ قوموں کو مایوسی کی دلدل سے نکال کر تعمیر و اصلاح کی راہ پر گامزن کرتا رہا ہے۔ اس کے لیے علم و عمل لازم ہے۔بقول شاعر :
؎خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جِس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
(مولانا ظفرٓ علی خان)



تبصرہ لکھیے