تاریخ کبھی کبھی اپنے خزانے صدیوں تک زمین اور پتھروں کے سینے میں محفوظ رکھتی ہے، پھر ایک دن اچانک وہ پردۂ خفا سے نکل کر آنے والی نسلوں کو اپنے ماضی کی جھلک دکھاتی ہے۔ حجاز کی سرزمین، جہاں اسلام کے اولین نقوش ثبت ہوئے، آج بھی ایسے بے شمار راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی ہیئت التراث (Heritage Commission) نے مدینہ منورہ کے علاقے المہد میں ایک ایسا عظیم الشان آثارِ قدیمہ کا ذخیرہ دریافت کیا ہے جس نے تاریخِ اسلام کے محققین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور عام مسلمانوں سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔اس دریافت میں 461 اسلامی نقوش، 34 ثمودی نقوش اور 1259 صخرہ نگاریاں (Rock Art) شامل ہیں۔ ان تمام دریافتوں میں سب سے زیادہ توجہ جس نقش نے حاصل کی، وہ ایک مختصر مگر نہایت بامعنی عبارت پر مشتمل ہے:
“الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة، لا إله إلا الله”
یعنی: “اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔”
ماہرین کے مطابق یہ نقش ابتدائی اسلامی دور کے معروف حجازی رسم الخط میں لکھا گیا ہے، جسے بعد میں کوفی خط نے ترقی دے کر مزید منظم شکل دی۔ حجازی خط پہلی صدی ہجری کے دوران رائج رہا اور دوسری صدی ہجری میں بتدریج کم ہوتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نقش کی تاریخی اہمیت غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔متعدد محققین کا خیال ہے کہ یہ نقش یا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تحریر کیا گیا اور قوی امکان ہے کہ اسے خود فاروقِ اعظمؓ نے اپنے دستِ مبارک سے لکھا ہو۔ تاریخی مصادر سے معلوم ہے کہ سیدنا عمرؓ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، جو اس دور میں ایک خاص امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ اگر مستقبل کی تحقیقات اس نسبت کو مزید مضبوط کر دیتی ہیں تو یہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین مادی شہادتوں میں شمار ہوگی۔
مدینہ کے پہاڑوں میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی دریافت نہیں۔ گزشتہ برسوں میں بھی سعودی عرب میں کئی ایسے نقوش دریافت ہو چکے ہیں جن کا تعلق براہِ راست عہدِ صحابہ سے ہے۔ ان میں سب سے مشہور نقش صحابیِ رسول اور کاتبِ وحی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے، جس میں درج ہے:
“اللهم اغفر لزيد بن ثابت ولمن قرأ هذا الكتاب ثم قال آمين آمين رب العالمين رب موسى وهارون”
یعنی: “اے اللہ! زید بن ثابت کو بخش دے اور اس شخص کو بھی جو اس تحریر کو پڑھے، پھر آمین کہے۔ اے تمام جہانوں کے رب! اے موسیٰ و ہارون کے رب!”
اس کے علاوہ بھی حجاز کے مختلف علاقوں میں ابتدائی اسلامی دور کے کئی نقوش دریافت ہوئے ہیں جن میں صحابہ کرام، تابعین اور ابتدائی مسلم نسلوں کے نام، دعائیں، قرآنی عبارات اور توحید کے کلمات محفوظ ہیں۔ ان نقوش کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ہمیں اس دور کے نفوس قدسیہ کی براہِ راست آواز سناتے ہیں۔ یہ روایات کی کتابوں میں نقل شدہ معلومات نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے ہاتھوں سے لکھی گئی تحریریں ہیں جو اسلام کے اولین ادوار کے چشم دید گواہ تھے۔
جدید دور میں بعض مستشرقین اور نام نہاد “تنقیحی” (Revisionist) نظریات کے حامل مصنفین نے اسلام کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں عجیب و غریب شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بعض نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ ابتدائی اسلامی شخصیات کے وجود کے لیے کافی مادی شواہد موجود نہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں بعض افراد نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ جیسی عظیم شخصیات کے تاریخی وجود تک پر سوالات اٹھائے اور بعض عقل کے اندھے تو ان کی خلافت کا علی الاعلان انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ علمی دنیا میں تاریخ صرف آثارِ قدیمہ پر قائم نہیں ہوتی بلکہ روایات، تحریری مصادر، جغرافیائی شواہد، سکہ جات، کتبے اور دیگر متعدد قرائن مل کر تاریخی حقیقت کو ثابت کرتے ہیں۔
اس کے باوجود جب کسی صحابی کا نام پتھر پر کندہ حالت میں سامنے آتا ہے تو یہ تاریخ کے ایک نئے باب کا اضافہ بن جاتا ہے۔ ایسے نقوش ان لوگوں کے لیے بھی ایک مضبوط جواب ہیں جو ہر تاریخی حقیقت کو صرف آثارِ قدیمہ کے ترازو میں تولنا چاہتے ہیں۔سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شخصیت اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ وہ وہی شخصیت ہیں جن کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو قوت ملی، جن کے عدل کی مثالیں آج بھی دنیا کے قانونی اور سیاسی ادب میں بیان کی جاتی ہیں، جنہوں نے بیت المقدس فتح کیا، جن کے دور میں عراق، شام، مصر اور فارس کے وسیع علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے، جنہوں نے انتظامی ڈھانچے، بیت المال، عدالتی نظام اور عوامی فلاح کے ایسے اصول قائم کیے جن سے بعد کی مسلم ریاستوں نے رہنمائی حاصل کی۔
اس دریافت کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس تحریر میں سیدنا عمرؓ نے نہ تو اپنی خلافت کا ذکر کیا ہے، نہ فتوحات کا، نہ اقتدار کا اور نہ کسی دنیاوی عظمت کا۔ ایک ایسی شخصیت جس کے زیرِ نگیں نصف دنیا آ چکی تھی، اس کے قلم سے صرف یہ الفاظ نکلتے ہیں:
“اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے۔”
یہی دراصل صحابۂ کرام کا مزاج تھا اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک تربیت کا نتیجہ کہ ان کی اصل پہچان اقتدار نہیں بلکہ عبودیت تھی، ان کی اصل طاقت فوجیں نہیں بلکہ ایمان تھا اور ان کی اصل آرزو دنیاوی شہرت نہیں بلکہ اللہ کی رضا تھی۔مدینہ منورہ کے پہاڑوں اور وادیوں میں محفوظ یہ الفاظ آج بھی صدیوں کا فاصلہ طے کرکے دنیا کو یہی پیغام دے رہے ہیں کہ انسان کی اصل عزت اس کے منصب میں نہیں بلکہ اس کے رب سے تعلق میں ہے۔
اللہ تعالیٰ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ان کی خدمات کو امتِ مسلمہ کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور ہمیں بھی ان کے عدل، تقویٰ، شجاعت اور اخلاص کا کچھ حصہ عطا فرمائے۔
فاروق اعظم کے دشمنوں کو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی سے دوچار کرے۔ بے شک مدینہ کے پہاڑوں سے برآمد ہونے والی یہ تحریر صرف ایک تاریخی دریافت نہیں، بلکہ ایمان، عقیدت اور اسلامی تہذیب کے تسلسل کی ایک زندہ شہادت ہے.



تبصرہ لکھیے