بھارت کی حالیہ ریاستی سیاست، خصوصاً تامل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال کے انتخابات، اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ بھارتی مسلمان ایک مشکل مگر فیصلہ کن سیاسی دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف ہندوتوا سیاست کے بڑھتے اثرات ہیں، دوسری طرف سیکولر اور علاقائی جماعتوں کے ساتھ مسلمانوں کی سیاسی وابستگی مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ ان انتخابات نے نہ صرف مسلمانوں کے ووٹنگ ٹرینڈ، سیاسی ترجیحات اور نمائندگی کو نمایاں کیا بلکہ یہ سوال بھی پیدا کیا کہ مستقبل کے بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی حیثیت کیا ہوگی۔
بھارت میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی تقریباً 20 کروڑ سے زائد ہے، جو ملک کی کل آبادی کا لگ بھگ 14 فیصد بنتی ہے، مگر مختلف ریاستوں میں ان کی تعداد اور اثر و رسوخ مختلف ہے۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 27 فیصد کے قریب ہے جبکہ کیرالہ میں یہ شرح تقریباً 26 سے 27 فیصد سمجھی جاتی ہے جبکہ تامل ناڈو میں چھ سے سات فیصد مسلمان ہیں۔ اس بڑی اور قابل ذکر آبادی کے باوجود ریاستی اسمبلیوں، سرکاری ملازمتوں، پولیس، عدلیہ اور بیوروکریسی میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کے تناسب سے کم دیکھی جاتی ہے۔ کئی سرکاری و غیر سرکاری مطالعات کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی سرکاری ملازمتوں میں اوسط نمائندگی اکثر 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہتی ہے، جبکہ اعلیٰ انتظامی اداروں میں یہ شرح اس سے بھی کم ہے۔ یہی عدم توازن بھارتی مسلمانوں کے سیاسی اضطراب کی ایک بڑی وجہ ہے۔
کیرالہ میں مسلمانوں کی سیاست نسبتاً منظم اور تعلیمی شعور سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ یا IUML ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے، جو کانگریس کی قیادت والے اتحاد UDF کا حصہ ہے۔ 2026 کے انتخابات میں IUML نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 27 میں سے 22 نشستیں جیتیں۔ یہ کامیابی صرف مذہبی ووٹ بینک کا نتیجہ نہیں بلکہ تعلیم یافتہ مسلم متوسط طبقے، نوجوان ووٹرز اور تنظیمی سیاست کی مضبوطی کا اظہار بھی تھی۔
ان انتخابات میں ایک اہم پیش رفت خواتین کی نمائندگی تھی۔ IUML نے پہلی بار دو خواتین امیدوار میدان میں اتاریں، جن میں فاطمہ تھالیا اور جینتی راجن شامل تھیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جینتی راجن خود مسلمان نہیں بلکہ دلت ہندو پس منظر رکھتی ہیں، جسے کئی تجزیہ کاروں نے جنوبی بھارت کی نسبتاً ہم آہنگ اور ترقی پسند سیاست کی علامت قرار دیا۔
اس کے برعکس ویسٹ بنگال کے انتخابات زیادہ شدت، مذہبی تقسیم اور سیاسی کشیدگی کا شکار رہے۔ بی جے پی نے پہلی بار ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کی جبکہ ممتا بنرجی کی جماعت ٹی ایم سی (TMC) کو شدید دھچکا پہنچا۔ کئی حلقوں میں اپوزیشن جماعتوں اور مبصرین نے ووٹر لسٹوں میں ردوبدل، مسلم ووٹروں کے نام خارج کیے جانے اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق لاکھوں ووٹرز، خصوصاً مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹوں سے حذف ہونے کے دعوے سامنے آئے، اگرچہ ان الزامات کی مکمل آزادانہ تصدیق اب تک نہیں ہو سکی۔ بی جے پی کی جیت نے مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت کو بہت زیادہ ادارہ جاتی تعصب میں بدل دیا ہے جس کی ایک بڑی وجہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا مستقل بنیادوں پر ہندو دشمنی پر مبنی بیانیہ ہے۔ اس وقت ہندوستان مسلم آبادی کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے اور اسکے ساتھ بہتر تعلقات ہمارے مفاد میں تھے جس سے انڈین مسلمانوں کو بھی شناخت کے بحران سے شائد نہ گزرنا پڑتا لیکن اب بھارت سیکولرازم کی بجائے تیزی سے ہندوتوا کے بیانئے کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے اور دن بدن مسلمان آبادی کے خلاف نفرت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بی جے پی بڑی حد تک پاکستان کی سرکاری ہندوستان دشمن پالیسی یہ ہندوستان کے ساتھ محاز آرائی کا ردعمل ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات مسلسل عدم توازن اور بد اعتمادی کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔
حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی تقریباً نہ ہونے کے برابر دکھائی دی۔ مغربی بنگال میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار میدان میں نہیں اتارا۔ اس کے باوجود ریاست میں ہندو ووٹوں کی بڑی حد تک یکجائی نے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔ دوسری جانب مسلمان ووٹر زیادہ تر TMC، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف مائل رہے۔ اس صورتحال نے بھارتی سیاست میں بڑھتی ہوئی مذہبی پولرائزیشن کو مزید واضح کر دیا۔
تاہم یہ تصویر مکمل طور پر منفی بھی نہیں۔ بھارت میں آج بھی کئی ایسے علاقے اور ریاستیں موجود ہیں جہاں ہندو مسلم یک جہتی، مشترکہ ثقافت اور سیاسی تعاون کی روایات زندہ ہیں۔ کیرالہ اس کی بڑی مثال ہے جہاں مسلمان، ہندو اور عیسائی ایک ساتھ تعلیم، تجارت، سیاست اور سماجی ترقی میں شریک دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں مدارس اور جدید تعلیمی ادارے ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ بھارت میں دارالعوام دیوبند، دارالھدی اسلامک سنٹر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مختلف سرکاری جامعات میں اسلامیات اور عربی کے شعبے قائم ہیں جہاں لاکھوں طلباء دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بہت سے مدارس بھی ہیں جو اسلامی علوم کے ساتھ جدید تعلیم بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں نے ہزاروں مسلم نوجوانوں کو صحافت، قانون، سول سروس، تحقیق اور بین الاقوامی اداروں تک پہنچایا ہے۔
بھارتی مسلمانوں کی تاریخ میں کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جنہوں نے مذہبی شناخت سے بالاتر ہوکر پورے بھارت میں عزت حاصل کی۔ اے پی جے عبد الکلام اس کی روشن مثال ہیں۔ اس کے علاوہ محمد سلیم ای ٹی، اسد الدین اویسی، مرحوم مولانا وحید الدین، عبد الکلام آزاد، محمد بشیر اور کئی علاقائی مسلم رہنما آج بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ بہت سے بالی وڈ اداکار اور ارب پتیوں کی فہرست میں بھی عظیم پریم جی (جن کے اثاثے بیس بلین ڈالرز تک ہیں جبکہ پاکستان کے امیر ترین میاں منشاء کے اثاثے تین سے چار بلین ڈالر ہیں)، یوسف علی ایم اے، یوسف حمید، شمشیر وائلیل، آزاد موپن سمیت کئی بھارتی مسلمان شامل ہیں۔ خواتین میں رضیہ پٹیل، محبوبہ مفتی، صبا نقوی، نصرت جہان اور نئی مسلم خواتین قیادت بھی ابھرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ویسٹ بنگال کے حالیہ انتخابات میں مسلم ووٹروں کے حوالے سے شدید خدشات اور الزامات سامنے آئے، خصوصاً ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام خارج کیے جانے، حلقہ بندیوں میں تبدیلی اور بعض مسلم اکثریتی علاقوں کی سیاسی حیثیت کمزور کرنے کے حوالے سے۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں، سماجی کارکنوں اور مقامی تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ ضلع مرشد آباد اور دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی کے دوران بڑی تعداد میں مسلم ووٹر متاثر ہوئے، تاہم الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو انتظامی اور تکنیکی عمل قرار دیتے ہوئے کسی مذہبی امتیاز کی تردید کی۔ اس تمام صورتحال کے باوجود سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ وسیع پیمانے پر تشدد یا بائیکاٹ کے بجائے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے خاموش مگر منظم جمہوری ردعمل دیا اور ووٹنگ کے عمل میں بھرپور شرکت کی، جسے کئی مبصرین نے شدید سیاسی دباؤ کے باوجود آئینی اور جمہوری راستے پر اعتماد کی علامت قرار دیا۔ دوسری طرف بھارتی مسلم سیکولر دانشوروں اور لکھاریوں کی خاموشی یا محتاط ردعمل کو بعض حلقے بڑھتے سیاسی دباؤ، میڈیا پولرائزیشن، قانونی مقدمات اور سماجی خوف کی فضا سے جوڑتے ہیں، جہاں اختلافی آوازیں پہلے کی نسبت زیادہ دباؤ محسوس کرتی ہیں۔
بھارتی مسلمانوں کو اس وقت کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ معاشی پسماندگی، تعلیمی عدم مساوات، سیاسی پولرائزیشن، میڈیا میں منفی تصویر کشی اور بعض مقامات پر ہجومی تشدد جیسے مسائل نے مسلم نوجوانوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جمہوری سیاست، تعلیم، کاروبار اور قانونی جدوجہد پر یقین رکھتا ہے۔ حالیہ انتخابات نے بھی واضح کیا کہ مسلمان ووٹر شدت پسند مذہبی سیاست کے بجائے ان جماعتوں کی طرف جھکتے ہیں جو آئینی حقوق، سیکولرزم، تعلیم اور سماجی انصاف کی بات کرتی ہیں۔
اوّل روز سے برصغیر کے مسلمانوں میں مذہب اور جذباتی ردِّعمل لازم و ملزوم چلے آتے ہیں۔اس کا اظہار پہلی بار سن اٹھارہ سو تین میں جب دہلی پر انگریزوں کے قبضے کے ردِّعمل میں شاہ عبدالعزیز نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا اور پھر یہی حرکت 1920میں دہرائی گئی۔ پہلے ردِّعمل کا نتیجہ سیداحمد شہید کی بے یارومددگار شہادت کی صورت میں نکلا جبکہ دوسری تحریک کے نتیجے میں ہزارہا بے وقوفوں نے افغانستان کا رخ کیا اور حالات کے ہاتھوں ذلت اور بے چارگی مقدر بنی۔
ستاون کی جنگِ آزادی کے نام پر فوجیوں کو سور کی چربی والے کارتوسوں کے پراپیگنڈے پر بھڑکایا گیا، نتیجہ انگریز راج کی صورت نکلا۔ ہندوؤں نے صورتحال کو سوچا سمجھا اور حکومت کے معاون بن گئے۔ تعلیم، کاروبار اور سیاسی عمل میں شرکت کا رویہ اپنایا۔ اس کے برعکس ہم نے مدرسہ دیوبند بنا کر خود کو اجتماعی معاملات سے الگ کر لیا۔ ردِّعمل میں انگریزی سیکھنے کو بھی کفر قرار دے دیا۔ آج بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار اسی رویے کی دین ہے۔زوال کی ماری بوسیدہ خلافتِ عثانیہ کا خاتمہ عرب دنیا میں ہوا اور ردِّعمل ہمارے اندر مروڑ کھانے لگا۔ ردِّعمل میں مذہبی جوش سے لبریز خوب جلوس نکلے مگر کچھ حاصل وصول نہ ہوا۔ ترکیہ اتاترک کمال پاشا کی قیادت میں جدید ملک بن گیا اور ہم وہی پسماندہ کے پسماندہ۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہاں جن طبقات کا قبضہ ہوا، انہوں نے بھی عوامی شعور کے خاتمے کیلیے مذہبی ہتھیار کا استعمال جاری رکھا۔ اس ہتھیار کے ذریعے عوام کی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلیے ان کے جذبات کا رخ احمدیوں کی جانب موڑ دیا مگر انہیں اقلیت قرار دینے کے باوجود بھی یہ ردِّعمل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
ضیاءالحق آیا تو اس نے عوام کو توہینِ مذہب کا جھنجھنا تھما دیا جو ہم مسلسل چھنکائے جا رہے ہیں۔ حکومتیں آتی رہیں اور لوٹ مار کرکے جاتی رہیں اور ان سے نجات کیلیے جس عوامی سیاسی شعور کی ضرورت تھی وہ ناپید رہا۔
عمران خان نے بھی اپنی مقبولیت کیلیے اسلامی ٹچ کا استعمال کرکے لوگوں کو بھڑکایا، نتیجہ یہ کہ اب جیل میں پڑا ہے اور اس کے فالوؤرز صرف ردِّ عمل پر گزارہ کر رہے ہیں اور مایوسی ہے کہ بڑھتی چل جا رہی ہے۔ نہیں معلوم کہ موجودہ سیٹ اپ میں کرپشن کے کیسے کیسے گھپلے ہو رہے ہیں مگر ہم ہیں کہ ردِّ عمل سے خود کو ہی تباہ کیے جارہے ہیں۔ آج کل ہمارے اس ردِّ عمل کا رخ پورے زور و شور سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب مڑ چکا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ ردِّعمل نہ ایران کا کوئی بھلا کرسکتا ہے، نہ امریکہ اور اسرائیل کا کچھ بگاڑ سکتا ہے، مگر ہم ہیں کہ نعرے بازی میں مگن ہیں۔ ردعمل اور فضول کے مذہبی جوش و خروش کے معاملے میں سرحد پار کے مسلمان بھی ہم سے پیچھے نہیں ہیں۔
بھارتی مسلمانوں کے لیے سب سے اہم راستہ شاید تعلیم، سیاسی اتحاد، معاشی خودمختاری اور جدید دنیا سے ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ صرف جذباتی سیاست یا مذہبی نعروں کے بجائے سائنسی تعلیم، ٹیکنالوجی، میڈیا، سول سروس اور کاروباری میدانوں میں آگے بڑھنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مسلم قیادت کو بھی فرقہ وارانہ خوف سے نکل کر خواتین، نوجوانوں اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو قیادت میں جگہ دینا ہوگی۔
بھارت کی جمہوریت اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر مذہبی تقسیم مزید گہری ہوتی گئی تو یہ صرف مسلمانوں نہیں بلکہ پورے بھارتی سماج کے لیے خطرناک ہوگا۔ لیکن اگر ہندوستان اپنی آئینی روح، مذہبی رواداری اور کثیر الثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو مسلمان بھی اس ملک کے مستقبل میں ایک مثبت، فعال اور باوقار کردار ادا کرتے رہیں گے۔ حالیہ انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بھارتی مسلمان مکمل طور پر سیاسی منظرنامے سے غائب نہیں ہوئے بلکہ وہ اب بھی کئی ریاستوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ آیا بھارت اپنی جمہوری اور سیکولر روایت کو مضبوط کرے گا یا مذہبی تقسیم کی سیاست مزید گہری ہوتی جائے گی۔



تبصرہ لکھیے