ہوم << فرعون کا زوال اور مکافاتِ عمل کا شکنجہ – عتیق گورایہ
600x314

فرعون کا زوال اور مکافاتِ عمل کا شکنجہ – عتیق گورایہ

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اقتدار کا نشہ جب انسانی لہو کی چاشنی چکھ لیتا ہے، تو بصیرت اندھی اور ضمیر مفلوج ہو جاتا ہے۔ دمشق کے مضافات سے اٹھنے والی وہ چیخیں، جنھیں تیرہ برس تک بارود کے دھوئیں، ریاست کے جبر اور ایک جابرانہ نظام کے غرور میں دبانے کی پوری کوشش کی گئی، آج ایک ایسی دہاڑ بن کر گونجی ہیں جس نےدیگر ایوانِ اقتدار کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہ محض ایک قتلِ عام کی روداد نہیں، بلکہ مکافاتِ عمل کا وہ سبق ہے جو بتاتا ہے کہ ظلم کی عمر چاہے جتنی طویل ہو، اس کا انجام رسوائی اور ذلت ہی ٹھہرتا ہے۔ بشار الاسد کا اقتدار شام کی سرزمین پر محض ایک سیاسی نظام نہیں رہا تھا، بلکہ ایک ایسا “خونی عقیدہ” بن چکا تھا جس کی بنیاد ہی “یا میں رہوں گا یا ملک جلا دوں گا” کے سفاکانہ نظریے پر رکھی گئی تھی۔ اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے انسانیت سے عاری ایسے جلاد پالے گئے جن کا مقصد عوام کے دلوں میں دہشت کی ایسی دیوار کھڑی کرنا تھا جسے عبور کرنے کا کوئی تصور بھی نہ کر سکے۔ “حی التضامن” کا انسانیت سوز واقعہ اسی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جہاں معصوم شہریوں کو محض اس لیے موت کے گھاٹ اتارا گیا تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس وحشت کا نام سن کر لرز اٹھیں۔

اس خونی کھیل کا مرکزی کردار امجد یوسف، انٹیلی جنس کی برانچ 227 کا وہ چہرہ تھا جس کی آنکھیں رحم کے ہر قطرے سے خالی تھیں۔ اس کے نزدیک انسانی جان کی وقعت ایک گولی سے بھی کم تھی۔ اس نے بوڑھوں کو بے دردی سے ذبح کیا، ماؤں کی گود اجاڑی اور معصوموں کو اجتماعی قبروں کا رزق بنایا۔ وہ ہولناک منظر آج بھی انسانی روح کو تڑپا دیتا ہے جب وہ شہریوں کو گڑھے کے کنارے کھڑا کر کے انہیں بھاگنے کا کہتا اور پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان کے جسموں کو گولیوں سے چھلنی کر دیتا۔ ان مقتولوں کی آخری ہچکیوں سے زیادہ بلند اس کے قہقہے اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ جب انسان درندگی پر اتر آئے تو وہ ابلیس کو بھی مات دے دیتا ہے۔

لیکن جہاں ظلم اپنی انتہا کو چھونے لگتا ہے، وہاں قدرت محض اتفاقات پر تکیہ نہیں کرتی بلکہ انصار شحود جیسے کرداروں کو تاریخ کے ڈھانچے میں پیوست کر دیتی ہے۔ انصار کا نام محض ایک محقق کی حیثیت سے نہیں، بلکہ اس “خاموش مجاہد” کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ثابت کیا کہ ایک نہتی عورت کی فکری جرات، ریاست کے خونی بیانیے کو جڑ سے اکھاڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نے دشمن کو میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ اس کے اپنے نفسیاتی حصار میں شکست دی۔

انصار شحود نے جو راستہ چنا، وہ بارود سے بھری گلیوں سے زیادہ پرخطر تھا۔ اس نے ایک قاتل کی نفسیات کا مطالعہ کرنے کے لیے خود کو “آنا” (Anna) کے فرضی روپ میں ڈھالا۔ برسوں تک وہ اس درندے سے آن لائن رابطے میں رہی، اس کی غلیظ باتیں سنیں، اس کے غرور کو جھیلا، صرف اس لیے کہ وہ اس کے ہاتھوں سے لہو کی بو سونگھ سکے۔ انصار نے امجد یوسف کے اس زعم کو توڑ دیا کہ وہ کبھی پکڑا نہیں جائے گا۔ اس نے اس کے تکبر کو اس کے اپنے ہی موبائل کیمرے کی ان ویڈیوز کے ذریعے بے نقاب کیا جنہیں قاتل نے اپنی ‘بہادری’ کی یادگار سمجھ کر محفوظ کیا تھا۔ وہ ویڈیوز انصار کی محنت سے اس کے ڈیتھ وارنٹ میں بدل گئیں۔

دسمبر 2024 میں جب فرعون وقت کا تخت گرا، تو اس کے ساتھ ہی وہ حفاظتی چھتری بھی چھن گئی جس کے سائے میں امجد یوسف جیسے شکاری پل رہے تھے۔ وہ فرعون جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، ایک چوہے کی طرح اپنی جان بچانے کے لیے رپوش ہو گیا۔ مگر 24 اپریل 2026 کا دن اس کی زندگی کا سیاہ ترین دن ثابت ہوا۔ وہ جلاد جو دوسروں کو گڑھوں میں پھینکتا تھا، آج خود قانون کے فولادی شکنجے میں ہے۔ جب اسے گرفتار کیا گیا، تو اس کے چہرے کی زردی اور آنکھوں کا خوف اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ زمین کا کوئی گوشہ ظالم کو پناہ نہیں دے سکتا جب قدرت کا انصاف حرکت میں آتا ہے۔

آج التضامن کا وہ راستہ، جو کبھی موت کی گزرگاہ تھا، شہداء کی یادگار بن چکا ہے۔ وہ گڑھا جہاں لاشیں جلائی گئی تھیں، اب وہاں انصاف کی خوشبو ہے۔ انصار شحود کی ہمت اور متاثرہ خاندانوں کا صبر آج ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔امجد یوسف کی سلاخوں کے پیچھے موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ باطل کی دستک چاہے جتنی بلند ہو، حق کی ایک خاموش تھپکی اسے زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔