سائیکوسومیٹک بیماریاں وہ ہوتی ہیں جن میں انسانی ذہن اور جسم آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ان بیماریوں میں اصل مسئلہ ذہنی یا جذباتی ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات جسمانی علامات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، جب انسان زیادہ دباؤ، پریشانی یا خوف کا شکار ہو تو اس کا اثر اس کے جسم پر بھی پڑتا ہے، جس سے مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
آج کے دور میں تیز رفتار زندگی، مقابلہ بازی اور ذمہ داریوں کی زیادتی نے انسان کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی دباؤ رفتہ رفتہ جسمانی مسائل پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلسل پریشانی سر درد، معدے کے مسائل، ہائی بلڈ پریشر اور نیند کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ بعض افراد کو دل کی دھڑکن تیز ہونے یا سانس لینے میں دشواری بھی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ طبی معائنہ میں کوئی واضح جسمانی بیماری سامنے نہیں آتی۔ سائیکوسومیٹک بیماریوں کی ایک اہم وجہ دبی ہوئی جذبات بھی ہیں۔ جب انسان اپنے غصے، دکھ یا خوف کا اظہار نہیں کرتا تو یہ جذبات اندر ہی اندر جمع ہو کر جسم کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح ماضی کے صدمات (trauma) اور مسلسل ذہنی تناؤ بھی ان بیماریوں کو بڑھا دیتے ہیں۔
ان بیماریوں کا علاج صرف ادویات سے ممکن نہیں ہوتا، بلکہ ذہنی سکون اور مثبت طرزِ زندگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ عبادات، دعا، مراقبہ (meditation) اور ورزش ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہرِ نفسیات سے مشورہ لینا بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تاکہ انسان اپنے جذبات کو بہتر انداز میں سمجھ اور سنبھال سکے۔ آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سائیکوسومیٹک بیماریاں حقیقی ہوتی ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر بروقت توجہ دی جائے اور ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھا جائے تو ان بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ ایک صحت مند ذہن ہی ایک صحت مند جسم کی بنیاد ہوتا ہے۔
کام کی جگہ پر مسلسل دباؤ، لمبے اوقاتِ کار، شور، غیر مناسب روشنی یا ہوا، اور باس یا ساتھیوں کا منفی رویہ انسان کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ تناؤ صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ جسم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جو افراد زیادہ دباؤ میں کام کرتے ہیں، انہیں سر درد، ہائی بلڈ پریشر، معدے کے مسائل اور نیند کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی ملازم کو اپنی ملازمت کے بارے میں عدم تحفظ (job insecurity) ہو یا اسے اپنے کام کی قدر نہ ملے، تو وہ بے چینی اور افسردگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ کیفیت دل کی دھڑکن تیز ہونے، سانس کی دشواری اور جسم میں مسلسل تھکن کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔
ورکنگ کنڈیشن کا ایک اہم پہلو جسمانی تھکن بھی ہے۔ اگر کام کے دوران مناسب آرام نہ ملے یا مسلسل ایک ہی پوزیشن میں بیٹھ کر کام کیا جائے تو کمر درد، گردن درد اور پٹھوں کی کھنچاؤ جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں، جو ذہنی دباؤ کے ساتھ مل کر مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ان مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کام کے ماحول کو بہتر بنایا جائے۔ مناسب آرام، متوازن اوقاتِ کار، مثبت رویہ، اور صحت مند تعلقات ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقفے وقفے سے آرام کرنا، ورزش کرنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا بھی بہت ضروری …. نہ صرف کام کی جگہ ان مسائل کا سبب بنتی ہے بلکہ وہ راستہ،وہ سفر جسے طے کر کے ایک فرد اپنے روزگار تک پہنچتا ہے تاکہ کسب حلال حا صل کر سکے۔
وہ بھی تکلیف دہ ہے(ٹوٹی سڑ کیں،کھلے مین ہول اڑتی دھول مٹی ،کچرے کا ڈھیر)۔ 90فیصد افراد کمر درد،سر وائیکل، فروزن شولڈر، الرجی میں مبتلاہیں (ایک ڈاکٹر کے اندازے کے مطابق) بیماریوں اور سائیکو سومیٹک بیماریوں سے بچنے کے لئے صنعتوں ماہر نفسیات ہوتے ہیں جو ان مسائل کو حل کرتے ہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں تاکہ بیماروں سے محفوظ رہا جا سکے۔



تبصرہ لکھیے