ہوم << معاشرے میں عورت کا استحصال آخر کیوں؟ – آصف امین
600x314

معاشرے میں عورت کا استحصال آخر کیوں؟ – آصف امین

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مرد و عورت کے درمیان جسمانی فرق کو تو ہم بآسانی تسلیم کر لیتے ہیں، مگر ذہنی، فکری اور صلاحیتی برابری کو ماننے سے ہچکچاتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ، علم اور تجربہ اس بات کے گواہ ہیں کہ عورت ذہنی طور پر کسی بھی طرح مرد سے کم نہیں۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال آخر کیوں ؟
اس کی بنیادی وجہ وہی پرانا اور جڑ پکڑ چکا پدر سری نظام ہے، جس نے مرد کو برتری کا ایسا احساس دیا ہے جو اب سوچ کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ نظام صرف جسمانی طاقت پر نہیں بلکہ نفسیاتی برتری کے زعم پر بھی قائم ہے۔ مرد کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر عورت کو مکمل آزادی، تعلیم اور خودمختاری مل گئی تو وہ اس کے بنائے ہوئے اقتدار کے ڈھانچے کو چیلنج کر دے گی۔ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت اپنے حق کی بات کرتی ہے، خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے یا برابری کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے فوراً کردار کے ترازو پر تول دیا جاتا ہے۔ اسے “بدچلن”، “بے باک” یا “روایات سے باغی” جیسے القابات دے کر خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یوں اس کی آواز کو دبانے کے لیے اخلاقیات اور تہذیب کے نام پر ایک مصنوعی دیوار کھڑی کر دی جاتی ہے. حقیقت یہ ہے کہ یہ روایات اور اقدار اکثر اوقات عورت کو محدود رکھنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے نہیں کہ عورت کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ مضبوط ہے—اتنی مضبوط کہ اس کی آزادی سے ڈر محسوس کیا جاتا ہے۔ اس کا شعور، اس کی خودی اور اس کی پہچان اس نظام کے لیے خطرہ بن جاتی ہے جو صدیوں سے ایک خاص ترتیب پر قائم ہے۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment