ہوم << ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ ۔۔بند دروازوں پہ نئی دستک
600x314

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ ۔۔بند دروازوں پہ نئی دستک

خطہ ایک بار پھر سفارتی ہلچل کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ پاکستان اور اس کے بعد روس کی جانب پیش قدمی کو محض رسمی ملاقاتوں کے بجائے ایک بڑے سفارتی منصوبے کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس تعطل کو توڑنے کی کوشش ہیں جو گزشتہ مذاکراتی ادوار میں پیدا ہو چکا تھا، مگر اس بار ایران نے محض عمومی بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک نسبتاً واضح اور عملی خاکہ سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔
اصل پیش رفت اس نئی سفارتی تجویز میں نظر آتی ہے جو ایران نے بالواسطہ طور پر امریکا کے سامنے رکھی ہے۔ اس تجویز کا بنیادی محور دو فوری اور حساس معاملات کو الگ کر کے حل کرنا ہے: پہلا، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ اور اس اہم عالمی گزرگاہ کو دوبارہ مکمل طور پر فعال بنانا؛ دوسرا، جاری عسکری تناؤ یا پراکسی نوعیت کی جنگی کیفیت کو کم کرنا یا ختم کرنا۔ اس فارمولے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جوہری مذاکرات کو وقتی طور پر مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے، گویا ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ ہر مسئلے کو ایک ہی میز پر بٹھا کر حل کرنے کی ضد ہی تعطل کی اصل وجہ بنی ہوئی ہے۔
یہ نقطہ نظر دراصل سفارت کاری میں “ڈی لنکنگ” کی حکمت عملی کہلاتا ہے، جہاں پیچیدہ تنازعات کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے ان پر پیش رفت کی جاتی ہے۔ ایران کی سوچ بظاہر یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز جیسے حساس اور عالمی معیشت کے لیے ناگزیر راستے کو محفوظ اور کھلا رکھا جائے، اور ساتھ ہی خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جائے، تو ایک ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جس میں بعد ازاں جوہری مسئلہ بھی نسبتاً کم دباؤ میں زیرِ بحث لایا جا سکے۔
اسی تناظر میں عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک اہم علاقائی طاقت ہے بلکہ وہ خلیجی کشیدگی، افغانستان کی صورتحال اور وسیع تر علاقائی توازن میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کی کوشش ہے کہ اسلام آباد کو اعتماد میں لے کر ایک ایسا علاقائی سپورٹ سسٹم بنایا جائے جو اس نئی تجویز کو عملی شکل دینے میں مددگار ہو۔ سرحدی سلامتی، تجارتی روابط اور توانائی تعاون جیسے معاملات اسی لیے زیرِ بحث لائے گئے تاکہ باہمی اعتماد کی فضا مضبوط ہو۔
اس کے بعد روس کا دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ روس، جو پہلے ہی مغربی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، ایران کے اس نقطہ نظر کے لیے ایک قدرتی شراکت دار بن سکتا ہے۔ ماسکو کی شمولیت اس فارمولے کو بین الاقوامی سطح پر وزن دے سکتی ہے اور ممکنہ طور پر اسے ایک کثیرالجہتی فریم ورک میں ڈھال سکتی ہے، جہاں مغربی اثر سے ہٹ کر بھی کوئی سفارتی راستہ نکالا جا سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ مذاکرات کے تیسرے دور کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے دو ادوار میں بنیادی اختلافات اپنی جگہ برقرار رہے، کیونکہ ہر فریق نے زیادہ سے زیادہ رعایت لینے کی کوشش کی مگر دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ ایران کی نئی تجویز دراصل اس جمود کو توڑنے کی ایک کوشش ہے، جہاں فوری نوعیت کے مسائل پر پیش رفت کر کے اعتماد کی بحالی ممکن بنائی جائے۔ اگر آبنائے ہرمز کھلتی ہے اور کشیدگی میں کمی آتی ہے تو یہ ایک عملی کامیابی ہوگی جو تیسرے دور کے مذاکرات کو محض رسمی کارروائی کے بجائے نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔
تاہم اس راستے میں رکاوٹیں بھی کم نہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی ممکن ہے جوہری پروگرام کو پسِ پشت ڈالنے پر آمادہ نہ ہوں، کیونکہ ان کے نزدیک یہی اصل تنازع ہے۔ دوسری جانب ایران کے لیے بھی یہ ایک نازک توازن ہے کہ وہ اپنی جوہری پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی لچک کا مظاہرہ کرے۔ یہی وہ تضاد ہے جو اس تجویز کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا۔
اگر اس فارمولے کو سنجیدگی سے لیا گیا تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، عالمی توانائی کی رسد کو مستحکم بنانے اور ایک نئے سفارتی عمل کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن اگر فریقین اپنی پرانی پوزیشنز پر قائم رہے تو یہ کوشش بھی ماضی کی طرح ایک اور ادھورا باب بن کر رہ جائے گی۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے کھیل کو ایک نئے انداز سے ترتیب دینے کی کوشش کی ہے—اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے کھلاڑی اس نئی بساط پر کیسے چلتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment