عصرِ حاضر کی عالمی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کی چمک دمک کے پیچھے عدمِ استحکام کی گہری دھند بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں پھیلی ہوئی بے یقینی، خلیجی خطے کی تزویراتی اہمیت، اور عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات نے ایک ایسا پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دیا ہے جس میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مسلسل آزمائش کی حیثیت اختیار کر چکی ہے. یہ کشیدگی کوئی حالیہ مظہر نہیں بلکہ اس کی جڑیں گہرے تاریخی پس منظر میں پیوست ہیں۔ 1979 کا ایرانی انقلاب وہ بنیادی موڑ تھا جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو یکسر بدل دیا۔ اس کے بعد سفارتی تعلقات کا خاتمہ، پابندیوں کا سلسلہ، اور ایک دوسرے کے خلاف عدم اعتماد نے ایک مستقل کشمکش کو جنم دیا۔ حالیہ برسوں میں جوہری معاہدہ JCPOA اور اس سے امریکہ کی علیحدگی نے اس تناؤ کو مزید گہرا کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں عسکری اور سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس کشیدہ ماحول میں بعض واقعات نے صورتِ حال کو خطرناک حد تک بگاڑ دیا، جیسا کہ 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت، جس نے دونوں ممالک کو براہِ راست تصادم کے دہانے تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد خلیج میں تیل بردار جہازوں پر حملے، عراق اور شام میں پراکسی سرگرمیاں، اور اقتصادی پابندیوں کی سختی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ تمام عوامل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقت کا استعمال اگرچہ وقتی دباؤ پیدا کر سکتا ہے، مگر اس سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید الجھ جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار ایک متوازن اور مدبر ثالث کے طور پر ابھرتا ہے۔ اپنی جغرافیائی، مذہبی اور سیاسی حیثیت کے باعث پاکستان وہ واحد پل بن سکتا ہے جو مختلف تہذیبی و سیاسی دنیاؤں کو باہم جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیر اعظم اور فیڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان نے ہمیشہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کی حمایت کی ہے. یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اختیار کی گئی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کی پالیسی نے ایران کو معاشی طور پر کمزور تو کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی کو بھی بڑھا دیا۔ اس کے برعکس، جب بھی سفارتی چینلز کھلے—چاہے وہ بالواسطہ مذاکرات ہوں یا ثالثی کی کوششیں—تو حالات میں نسبتاً بہتری دیکھی گئی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو دیرپا استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔
پاکستان کی مصالحتی کوششیں اسی فکری بنیاد پر قائم ہیں۔ یہ محض وقتی سفارتی سرگرمیاں نہیں بلکہ ایک مسلسل اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچانا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایک ثالث بلکہ ایک “اعتماد ساز پل” کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، جہاں مختلف فریقین اپنی بات چیت کے لیے ایک محفوظ اور غیر جانبدار ماحول محسوس کر سکتے ہیں۔ عالمی امن کی تشکیل دراصل ایک تدریجی عمل ہے، جس میں ہر قدم اہمیت رکھتا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوتا ہے، تو یہ نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی استحکام کی طرف ایک اہم پیش رفت بھی ہوگی۔
اس عمل میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے، جو پسِ منظر میں رہ کر بھی امن کے لیے بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ فکرِ علامہ محمد اقبال بھی ہمیں اسی راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جہاں خودی، بصیرت اور حکمت کے ذریعے انسانیت کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔ اقبال نے بڑے سادہ مگر عمیق انداز میں فرمایا تھا:
“جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی”
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر سیاست اخلاقی اصولوں اور انسانی اقدار سے خالی ہو جائے تو وہ محض طاقت کی ایک بے مہار صورت بن جاتی ہے، جو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ موجودہ عالمی حالات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ ان کا تسلسل ہوتی ہیں، جبکہ مکالمہ ایک ایسا چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اسی چراغ کو روشن رکھنے کی ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کوشش ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے یہ پیغام دیتی ہے کہ پائیدار امن کا راستہ صرف اور صرف بات چیت، برداشت اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔



تبصرہ لکھیے