آپ اندازہ کریں !
فیلڈ مارشل عاصم منیر حفظہ اللہ ، افغانستان کی ائیر سپیس استعمال کر کے اپنے فضائی پروٹوکول کے ساتھ اس تہران شہر پہنچے جہاں پر آیت اللہ خامنی سمیت ایران کی 70 فیصد قیادت کو ٹارگٹ کیا گیا ۔ اسرائیل کے پاس اپنے دشمن سے بدلہ لینے کا بہترین موقع تھا ۔
موساد اور را ایجنسی کے پاس بہترین موقع تھا ۔ لیکن عین اسی وقت مارکو روبیو ازرائیل اور لبنان کو ٹیبل پر بیٹھا کر اچھے بچوں کی طرح بات چیت کر رہا تھا۔ ان لمحات کو قید کر لیجیئے ۔ یہ ڈاکومینٹیشن ہے کہ آپ کی فضائیہ کا ایک سکوارڈرن ، اسرائیل سے 450 کلومیٹر دور ، تبوک اور الجوف ائیر بیس سعودی عرب میں نشانہ لگائے بیٹھا ہو ۔ وہ بھی ایسے جہازوں کے ساتھ جو رعد میزائل سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹڈ ہے . یعنی جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔پاکستان فضائیہ کے لئے خطے کے اہم ترین ممالک کی ائیر سپیس کو بغیر کسی رکاوٹ کے استعمال کرنا بتاتا ہے کہ یہ خطے کی رینجنل ائیر فورس بننے جا رہی ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ بہت خوش ہے ہماری قیادت سے .
میں سمجھتا ہوں کہ وہ پریشان اور خوفزدہ ہے کہ کہیں یہ قرآن کا حافظ ایک پٹاخہ چلا کر اسرائیل کو صفحہ ہستی سے نہ مٹا دے ۔ہم نے ضیاء الحق ، شاہ فیصل ، ذوالفقار علی بھٹو ، کرنل قذافی اور صدام حسین کو نہیں دیکھا ۔ ہم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کا دور دیکھا ہے ۔



تبصرہ لکھیے