جب قانون کے شعبے سے وابستہ افراد (جج، وکلا، قانون کے اساتذہ، طلبہ، بار کونسل) کو ان کی یہ آئینی اور قانونی ذمہ داری یاد دلائی جاتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور تمام قوانین کی ایسی تعبیر اختیار کرنا لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو، تو ردّ عمل میں تین طرح کی آرا سامنے آتی ہیں:
(1) یہ کہ کوئی قانون اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں۔ یہ دیکھنا صرف وفاقی شرعی عدالت کا کام ہے�
(2) یہ کہ وفاقی شرعی عدالت یہ تو دیکھ سکتی ہے کہ کوئی قانون اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں، لیکن قانون کی اسلامی تعبیر اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے
(3) یہ کہ قانون کی اسلامی تعبیر کی ذمہ داری صرف اس صورت میں عائد ہوتی ہے جب کسی قانون کی دو تعبیرات ممکن ہوں۔
ان تینوں غلط فہمیوں پر بات کی ضرورت ہے۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کئی فیصلوں میں اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ رائج الوقت قانون پر، جیسا کہ وہ ہے، فیصلہ دے اور یہ دیکھنا اس کا کام نہیں ہے کہ کوئی قانون اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ’زاہد رحمان‘مقدمے (2015ء ) میں انھوں نے اس رائے کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کے سولہویں باب میں تعزیری سزاؤں کے متعلق دفعات پر ان اصولوں کا اطلاق نہیں ہوسکتا جو قصاص کی سزا کے لیے ہیں۔
مثلاً مقتول کے ورثا قصاص کی سزا معاف کرسکتے ہیں لیکن وہ تعزیر کی سزا معاف نہیں کرسکتے۔ اپنے تفصیلی فیصلے میں انھوں نے اس سوال کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا کہ اسلامی قانون کے اصولوں کی رو سے مقتول کے ورثا کے پاس یہ حق ہے یا نہیں ہے؟
یہی طریقہ انھوں نے از خود نوٹس 3 بابت 2017ء میں بھی اختیار کرتے ہوئے قرار دیا کہ سمجھوتہ طے پانے کے بعد جب مجرم کو بری کردیا گیا، تو اس سے نہ صرف اس کی سزا ختم ہوجائے گی بلکہ اسے مجرم بھی تصور نہیں کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلیے انھوں نے مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 345 ، ذیلی دفعہ2، پر انحصار کیا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ سمجھوتے کا اثر ’بریت‘ہوگا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کے ساتھ اس بنیاد پر اختلاف کیا کہ یہ رائے اسلامی اصولوں پر مبنی نہیں ہے۔ انھوں نے متعدد آیات و احادیث کا حوالہ دے کر ثابت کیا کہ عفو یا صلح سے سزا تو ختم ہوجاتی ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس آدمی نے جرم کیا ہی نہیں تھا۔
یہ سوال بعض اوقات بہت اہم ہوجاتا ہے۔ مثلاً نوکری (یا انتخابات میں حصہ لینے) کیلیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کیا اس شخص پر کوئی جرم ثابت ہوا تھا یا نہیں؟ جسٹس کھوسہ نے یہ اہم پہلو بھی نظر انداز کیا کہ مجموعہ تعزیرات کے جس باب میں عفو و صلح اور تعزیر کے متعلق دفعات ہیں، اسی باب کی دفعہ 338-ایف میں پوری صراحت کے ساتھ عدالت کی یہ ذمہ داری ذکر کی گئی ہے کہ وہ اس باب کی دفعات ’’اور اس سے متعلقہ امور‘‘ کی تعبیر اسلامی احکام کے مطابق کرے گی۔ انھوں نے ’تصادم‘ کا معاملہ وفاقی شرعی عدالت کی طرف دھکیلتے ہوئے یہ سوال بھی نظر انداز کیا کہ ان کے سامنے سوال یہ نہیں تھا کہ کیا تعزیر کے متعلق مذکورہ دفعات اسلامی احکام سے متصادم ہیں، بلکہ سوال یہ تھا کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں مذکورہ دفعات کا مفہوم کیا ہے؟
دوسری جانب وفاقی شرعی عدالت کے بعض جج اس رائے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ قانون کی تعبیر ان کا کام نہیں ہے۔کچھ عرصہ قبل ایک مقدمے میں قانونِ حصولِ اراضی 1894ء کی بعض دفعات کو اسلامی احکام سے تصادم کی بنا پر چیلنج کیا گیا تھا۔عدالتی معاون کی ذمہ داری ملنے پر میں نے اپنی معروضات میں یہ بات پیش کی کہ اگرچہ یہ قانون ہماری آزادی سے قبل بنایا گیا تھا اور اس وقت اس کا مفہوم کچھ اور تھا، لیکن آزادی کے بعد اس قانون کی ایسی تعبیر ضروری ہے جو ہمارے آئین کے مطابق ہو کیونکہ تمام قوانین آئین کے تابع ہیں، اور آئین نے یہ اصول طے کیا ہے کہ تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، اس لیے اس قانون کی اسلامی تعبیر لازم ہے۔
مثلاً اس قانون میں اس شخص کو ’معاوضہ‘ دینے کی بات کی گئی ہے جس سے زمین چھین لی جائے، لیکن اسلامی قانون کا اصول یہ ہے کہ اسے اس کی زمین کی ’ثمن‘ (price) ادا کی جائے گی اور یہ ثمن اس کی مرضی پر منحصر ہے، نہ کہ ’معاوضہ دینے والے‘ کی بخشش پر۔ نیز ثمن پہلے ادا کی جائے گی اور زمین اس کے بعد لی جائے گی؛ جبکہ انگریزوں کے دور سے چلے آرہے نظام میں زمین پہلے لے لی جاتی ہے اور معاوضے کے لیے زمین کے مالک کو سالہا سال خواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی جب ایک فاضل جج نے کہا کہ قانون کی تعبیر ہمارا کام نہیں اور ہم تو صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ قانون اسلامی احکام سے متصادم ہے یا نہیں؟
مجھے کہنا پڑا کہ جب تک آپ قانون کا مفہوم متعین نہیں کریں گے، تب تک آپ اس کے اسلامی احکام سے تصادم کا فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں، اور قانون کا مفہوم متعین کرنا ہی تو قانون کی تعبیر ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک رویہ بعض مقدمات میں یہ نظر آیا ہے کہ عدالت نے قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4 کا حوالہ دے چکنے کے بعد بھی مقدمے میں زیرِ بحث قانونی دفعات کی اسلامی تعبیر سے گریز کی راہ اختیار کی۔ مثلاً ’ممتاز بی بی‘ مقدمے (2022ء ) میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کم عمری کی شادی پر ’جنسی تشدد‘ (rape) کے متعلق مجموعہ تعزیرات کی دفعات کا اطلاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ ’چونکہ نکاح ایک معاہدہ ہے‘ اور ’چونکہ قانونِ معاہدہ 1872ء کے تحت معاہدہ کرنے والے کا عاقل بالغ ہونا لازم ہے، اس لیے 18 سال سے کم عمر کا نکاح سرے سے درست ہی نہیں ہے۔
اسلامی اصول (نکاح ایک معاہدہ ہے) اور انگریزی اصول (معاہدے کیلیے 18 سال کی عمر ضروری ہے) کو گڈ مڈ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلامی تعبیر صرف اس وقت کرنی ہوگی جب قانون کی دو تعبیرات ممکن ہوں۔ ایسا کرتے ہوئے انھوں نے یہ حقیقت بھی نظر انداز کی کہ اس ایک مسئلے پر عدالتی فیصلوں میں کم از کم تین مختلف آرا کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قانون کی ایک سے زائد تعبیرات ممکن ہیں۔ ویسے بھی مشہور قانونی فلسفی ایہارونباراک نے کہا تھا:
’’ہر قانونی متن تعبیر کا محتاج ہوتا ہے۔ کسی متن کا سادہ ہونا تعبیر کی ضرورت کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ اسے سادہ ماننا خود تعبیر ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جس متن کے معنی میں کوئی اختلاف نہیں، وہ بھی تعبیر کا متقاضی ہوتا ہے، کیونکہ اختلاف کا نہ ہونا بھی دراصل تعبیر ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔‘‘



تبصرہ لکھیے