“اک اک لیکرج پابندی شیگن…. گلتر ضمیرج پابندی شیگن”
فیس بک پر شینا شاعری کا ایک کلپ وائرل ہے، جس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں اب ضمیر کے مطابق بولنے اور لکھنے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔
جب جب یہ کلپ سننے کو ملتا، تو ہنسی بھی آتی ہے اور اپنے “کرتوت ” بھی یاد آتے ہیں۔ ہم نے بھی لکھنے کے شوق میں کیا کیا نہ سنا اور کیا کیا نہ سہا،
“یہ جملہ نکال دیں…”
“تم سرکاری ملازم ہو…. ”
” یہ بات ٹھیک ہے، مگر ابھی نہیں…”
اور کبھی سیدھا حکم “اس کی اجازت نہیں !”
“اہل قلم کو اتنا زیادہ لکھنے سے مسائل پیدا نہ ہوں”
اور بہت ساری دھمیی دھمکیاں …..یوں لگتا تھا جیسے ہم کالم نہیں، بارودی سرنگوں کے بیچ سے گزر رہے ہوں۔وہ بھی خودکش جاکٹ پہن کر. اب حال یہ ہے کہ دل کچھ لکھتا ہے اور دماغ فوراً کہتا ہے.
“ذرا سنبھل کر!”
” کوئی تازیانہ نہ پڑے”
مگر سچ یہ ہے کہ جتنی پابندیاں بڑھتی ہیں، ضمیر اتنا ہی شرارتی ہو جاتا ہے سیدھا نہ سہی، ٹیڑھا ہی سہی… بات کہہ ہی دیتا ہے۔
واضح نہ سہی، استعارہ و کنایہ میں سہی
کھل کر نہ سہی، اشاروں ہی اشاروں میں سہی
اونچی آواز میں نہ سہی، دھیمی سی صدا میں سہی
روک سکو تو روک لو، لفظ کہیں نہ کہیں نکل ہی آئیں گے
چپ نہ سہی، مسکراہٹ کے پردے میں سہی
کڑوی کسیلی تحریر پہ پہرے ہوں تو کیا غم ہے صاحب
سچ نہ سہی، لطیفے کے بہانے میں سہی
بس لکھنا ہے اور لکھنا ہے. ہم نے کسی نہ کسی زاویے سے “لکھنے کی بھڑاس” نکالنا ہی ہے. کیونکہ ہم نے کئی زاویوں سے کہنا کا ہنر سیکھ لیا ہے!



تبصرہ لکھیے