ہوم << مذاکرات کا دوسرا دور
600x314

مذاکرات کا دوسرا دور

اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آن پہنچا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان مذاکرات میں شرکت سے انکار کررہے ہیں، جب کہ پاکستانی حکام پورے تیقن کے ساتھ تصدیق کررہے ہیں کہ ایرانی وفد مذاکرات میں شریک ہوگا۔اسی طرح ٹرمپ کے مسلسل منفی بیانات ،جہاں اس کی شکست خوردہ نفسیات کی عکاسی کررہے ہیں، وہیں اس کی انانیت اور جنون کی ایک جھلک بھی پیش کررہے ہیں۔ ٹرمپ کے اقدامات نے امریکا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دنیا میں واحد سپر طاقت ،ہزیمت کا شکار ہونے جارہی ہے۔ دنیا میں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، یونی پولر کی بجائے بائی پولر یا ملٹی پولر دنیا کا نقشہ سامنے آرہا ہے۔اس نئے نقشے میں روس، چین، ایران ،ترکی اور پاکستان نئی حیثیت کے ساتھ ابھریں گے۔
سوال یہ ہے کہ امریکا اور ایران مذاکرات کا اونٹ پھر کس کروٹ بیٹھے گا، خدشات اور اختلافی پہلوؤں کو پیش نظر رکھیں تو مذاکرات میں کامیابی جتنی بھی ضروری ہو، اسے ناکام ہونے میں دیر نہیں لگے گی، کیونکہ شرائط بہت حساس نوعیت کی ہیں۔ چالیس سال سے ایران جس یورینم افزودگی پہ کام کررہا ہے، وہ افزودہ یورینیم امریکا کو منتقل کرنے کی شرط لگائی گئی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور وہ اس دوڑ سے باہر نکل آئے۔ لیکن اگر ایران ایسا کرتا ہے تو کیا وہ اسرائیل کے لیے وہ ترنوالہ نہیں بن جائے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر ایرانی جانتا ہے اسی لیے وہ اس چیز کے لیے کٹ مرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف دنیا کے کئی بڑے دماغ اسے ایران کی حماقت قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول ایٹمی ہتھیار بنانے کا عمل اب برسوں میں نہیں ، دنوں میں ممکن ہے۔ ایران کی پشت پناہی اگر چین، روس اور جنوبی کوریا کررہے ہیں تو اسے ایٹمی ٹیکنالوجی کبھی بھی، کسی بھی وقت، کسی سے بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ ان دانش وروں کا خیال ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو ان عالمی طاقتوں کی ضمانت میں اگرترک کردے، تو کل کو آزمائش کے وقت یہ عالمی طاقتیں اسے بھی جوہری طاقت بنا سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا امریکا کے عہد وپیماں پہ اعتبار کیا جاسکتا ہے، کیا وہ اپنے وعدوں کی پاس داری کرے گا۔ ان کے ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق اس کا جواب نہیں میں ہے۔ تو پھر ایران اپنے جوہری پروگرام سے کیسے دست بردار ہوسکتا ہے؟ شاید اسی لیے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ افزودہ یورینیم وطن جتنا مقدس ہے، اسے ایران سے باہر کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری طرف ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران ، اپنی جوہری صلاحیت کی تحدید کے لیے آمادہ ہوچکا ہے، بس کچھ شرائط پر بحث جاری ہے۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے، اس کو ہم ایرانی حکام کے بیانات کی روشنی میں ماپ سکتے ہیں۔ ایرانی حکام جوہری صلاحیت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ عالمی امن کے لیے، کچھ مدت تک اس کی تحدید کے لیے آمادہ ہوسکتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق چار سو کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا یا کسی اور ملک کے حوالے کی جاسکتی ہے، لیکن اس کے بدلے میں امریکی بینکوں میں موجود منجمند کیے ہوئے ایرانی اثاثے جو تقریباً بیس ارب ڈالر مالیت کے ہیں، ایران وہ بھی بحال کروانا چاہتا ہے۔
ایک اور اہم مطالبہ آبنائے ہرمز کوغیر مشروط طور پر کھولنے کے حوالے سے ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری عالمی معیشت کو ہلا کررکھ دیا ہے، اس لیے امریکا کی یہ شدید خواہش ہے کہ یہ راستہ پہلے ہی کی طرح کھول دیا جائے اور اس پر کوئی ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔ اس وقت کی تازہ صورت حال یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ یہ کہہ کر بند کرچکا ہے کہ امریکی فورسز نے کئی جہازوں کو قبضے میں لے کر بحری قزاق ہونے کا ثبوت دیا ہے۔دونوں طرف سے بھی سخت اقدامات کا عندیہ دیا جارہا ہے،لیکن زیادہ تر امکان اس چیز کا ہے کہ یہ معاملہ بھی کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ ایران کی یہ خواہش ہے کہ اس پہ عائد تمام پابندیاں ہٹائی جائیں۔ امریکا اس حوالے سے لچک دکھا رہا ہے، اور اس میں کوئی خوش آئند نتیجہ نکل سکتا ہے۔
ٹرمپ کا زور ایک اور اہم نقطے پر بھی ہے وہ چاہتا ہے کہ ایران، عراق کے شیعہ ، حزب اللہ، اور حوثی گروہوں کی مالی و فوجی مدد بند کردے۔ یہ شرط ایران کے لیے بے حد مشکل ہے، اس پہ بھی ڈیڈ لاک ہونے کے امکانات ہیں۔ لیکن اگر عالمی طاقتوں کی ضمانت ہو، اور اسرائیل بھی اپنی مداخلت اور حملے بند کردے، تب شاید ایران اس میں قدرے لچک کا مظاہرہ کردے۔
پاکستان کی اس وقت بھرپور کوشش یہی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوجائیں ، تاکہ دنیا کے افق پر چھائی جنگ کے خطرات ٹل جائیں، اور خدانخواستہ دیگر عالمی طاقتیں اس میں کھل کر ملوث ہوگئیں تو بات کسی بھی انتہا تک جاسکتی ہے۔ اگر کوئی مکمل معاہدہ نہ بھی ہو، تب بھی کوئی عبوری معاہدہ طے پاسکتا ہے۔ جس میں ایران کا جوہری پروگرام عارضی طور پر روکا جاسکتا ہے، اور یورینیم کسی تیسرے ملک کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ ایران کے اثاثہ جات کی واپسی کا کوئی فریم ورک بن سکتا ہے اور آبنائے ہرمز پہلے والی شکل میں بحال کی جاسکتی ہے۔ امکانات کی دنیا میں ناممکن کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اچھی امیدوں کے ساتھ، اگلے چوبیس گھنٹے بہت اہم ہیں۔ عالمی امن کی بحالی سب کی خواہش ہے، لیکن اس خواہش کی قیمت کس کس نے، کتنی ادا کرنی ہے یہ بات مذاکرات کے اختتام پر پتا چلے گی۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment