ہوم << آج کا نوجوان اور ہمارا معاشرہ – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

آج کا نوجوان اور ہمارا معاشرہ – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہو تے ہیں،جو اللہ تعالیٰ کے احکا مات کو بروئے کار لاتے ہو ئے اپنی زندگیا ں محفوظ بنا سکتے ہیں. آج کے اس پرفتن اور انٹرنیٹ کے دورمیں اپنی جوانی کو محفوظ کرنا یقیناً بہت بڑا مجاہدہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خوف خدا کا دل میں آجانا اور اس کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دینا، اس سے بڑی بات ہے.

پھر ایسے لوگوں کیلئے اللہ جل شانہُ کی طرف سے جنت کی بشارت ہے. اللہ تعالیٰ کو نوجوان کی جوانی کی عبادت بہت پسند ہے. جو اللہ کے ڈر و خوف سے گناہوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف راغب ہو تا ہے، تو رب کریم اس کی عبادت پر ناز کرتے ہیں.اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں حیات انسانی کے اس ارتقائی مرحلہ کی طرف یوں اشارا فرماتا ہے:

”اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں باہر نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر بجا لاؤ.“(النحل، 16: 78)

احادیث مبارکہ میں بھی نوجوانی کی اہمیت اور اس کے درست استعمال پر زور دیا گیا ہے۔نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :
بروز قیامت انسان سے پانچ سوال کیے جائیں گے:
(1) عمر کن کاموں میں گزاری
(2) جوانی کن کاموں میں گزاری
(3) مال کہاں سے کمایا
(4)مال کہاں خرچ کیا
(5) اپنے علم پر کہا ں تک عمل کیا؟

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوانی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اس کا حساب دینا ہوگا۔اگر یہ وقت فضولیات میں گزر گیا تو اس کا انجام خسارہ ہی ہو گا۔ آج کے نوجوان کی بے مقصدیت کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ دین سے دوری ہے۔جب نوجوان قرآن و سنت سے دور ہو جائے تو وہ اپنے مقصد کو بھول جاتا ہے۔بے مقصدیت کی دوسری بڑی وجہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمزنے نوجوان کو اسی دنیا میں الجھا دیا ہے جہاں وقتی خوشی تو مل جاتی ہے لیکن دائمی سکون نہیں۔تیسری وجہ راہنمائی کا فقدان ہے۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی راہنمائی کریں اور ان کی سمت کو درست کریں۔ب

ے مقصدیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان ذہنی دباؤ، مایوسی اور بے چینی میں جکڑا رہتا ہے۔جب انسان کے پاس کوئی واضح ہدف نہ ہو تو وہ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کی وجہ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔اصحاب کہف کے نوجوانوں نے ظالم بادشاہ کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دنیا کی آسائشوں کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو قرآن مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نوجوان اپنے مقصد کو جان لے اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھے تو وہ تاریخ بدل سکتا ہے۔ آج کے نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کرے۔

سب سے پہلے اسے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے دل کو محبت رسولﷺ سے منور کرے۔ نماز، تلاوت قرآن اور دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم، ہنر اور صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرے۔والدین اور اساتذ ہ کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔انہیں دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا بھی شعور دیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی، ذمہ داری اور مقصدیت پیدا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

“جس نوجوان نے دنیا کی لذت اور اس کے عیش و عشرت کو چھوڑ دیا اور اپنی جوانی میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی جانب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ اسے 72 صدیقین کے برابر ثواب دے گا .”(کنزالعمال)

اگر عصر حاضر کانوجوان اس جاہلیت جدیدہ میں تعلیمات نبوی ﷺکو اپنائے تو مجسمہ صدق وامانت بن سکتا ہے،نبی کریم ﷺ کی دعوت کو اولا نوجوان نے ہی قبول کیا(کنزالعمال)دارارقم کے سابقون اولون میں اکثر نوجوان صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین شامل تھے۔آپﷺ نے نوجوانوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ان کی خصوصی تربیت فرمائی کہ وہ ہر بڑی سے بڑی ذمہ داری کے اہل بن گئے.(ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ)

معاشرت اور اخلاقیات دین اسلام کی بنیاد ہیں اسلامی تعلیمات میں اخلاقیات کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے کیونکہ انسانی اخلاقیات پر ہی پْر سکون معاشرے کا انحصار ہے، پر سکون معاشرہ بنانے اور سنوارنے میں اخلاق کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، اخلاق دنیا کے ہر معاشرے کا مشترکہ باب ہے کیونکہ اچھے اخلاق و کردار کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، اس سے قومیں بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں، اخلاق کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں خواہ وہ معاشرہ مسلم ہو یا غیر مسلم.

رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کیا میں تمہیں روزہ، صدقہ اور زکوٰۃ سے بھی افضل چیز بتاؤں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ آپ ؐنے فرمایا: وہ ہے باہمی خلش کو دور کرنا اور صلح جوئی۔

موجودہ دور میں اتحادوقت کی اہم ترین ضرورت ہے قرآن مقدس اور سنت رسول اللہﷺ نے جا بجا اس کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے، آج پوری دنیا اختلاف وانتشار کی وجہ سے جو حالات پیش آرہے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں. ہمارے آپسی عدم اتفاق کی وجہ سے مختلف مقامات پر مسلمانوں کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان تو ضرور ہیں لیکن عمل سے ہماری زندگی خالی ہے اور تعلیم قرآن و سنت نبویﷺسے ہم بہت دور ہیں. ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق باقی نہیں رہا ہم مسلکی و جزوی اختلافات میں منقسم ہو گئے. آج ہم سیاسی و مذہبی انتشار و خلفشار کی وجہ سے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں اور یہ نفرت کم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اس جدید دور میں سیاسی انتہا پسندی و فرقہ واریت نے ہمیں اندر سے کھوکھلا اور کمزور بنادیا ہے جس کی وجہ سے ہماری دنیا میں آج عزت نہیں رہی. پہلی وجہ یہ کہ ہم نے اتحاد و اتفاق کا دامن چھوڑا پھر ہم ادب واحترام کا رشتہ ہی بھول گئے جس کی وجہ سے تنزلی ہمارا مقدر ٹھہری جبکہ مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے،دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے. جب کہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہو جاتی ہے”اخلاق انسانیت کا زیور ہے کیونکہ یہ وہ وصف ہے جو انسان کو جانوروں سے الگ کرتا ہے۔ اگر اخلاق نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات نوجوان نسل کواخلاق حسنہ کا درس دیتی ہیں، بزرگوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، محتاجوں اور بے کسوں کی دادرسی ہم عمروں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہے.

حضورﷺ نے فرمایا:
جو شخص چھوٹوں کے ساتھ رحم اور بڑوں کی توقیر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں .

بظاہرہر یہ ایک مختصرسی حدیث ہے لیکن اپنے اندر ایسی وسعت وگہرائی رکھتی ہے کہ اگر ساری کائنات اس حدیث پر عمل کرلے تو دنیا کے سارے جھگڑے ختم ہوجائیں. ظاہر ہے کہ اگر ہر شخص اپنے چھوٹوں سے پیارو محبت، شفقت ورحم کا معاملہ اور نرمی کا برتاؤ کرے اور ہر چھوٹا اپنے بڑوں کی عزت واحترام کو ملحوظ رکھے. ان کی تعظیم وتکریم کرے تو جذبہ ایثار وہمدردی پروان چڑھے گا اور اس طرح معاشرہ الفت ومحبت کا گہوارہ بن جائے گا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری کے گھر رات کو مہمان آگیا، ان کے پاس صرف اتنا کھانا تھا کہ یہ خود اور ان کے بچے کھاسکیں، انھوں نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ بچوں کو کسی طرح سلادو اور گھر کا چراغ گل کردو پھر مہمان کے سامنے کھانا رکھ کر برابر بیٹھ جاؤ کہ مہمان سمجھے کہ ہم بھی کھارہے ہیں؛ مگر ہم نہ کھائیں؛ تاکہ مہمان پیٹ بھر کھاسکے .(ترمذی)

رسول اللہﷺ کو بھی اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا، چنانچہ آپ ؐ نے عالم انسانیت کو اخلاقیت کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش کیا جسکی گواہی باری تعالیٰ نے قرآن مجید میں دی، ایک جگہ خود نبی کریمؐ اپنی اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں ترجمہ:مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں نیک خصلتوں اور مَکارمِ اخلاق کی تکمیل کروں (بخاری)۔

لیکن آج ہمارے معاشرے کی حالت بہت زیادہ قابل رحم ہے. ایک المیہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اب بھی دین سے بے خبر ہے، آج کا مسلمان دنیا پر مر رہا ہے افسوس کا مقام ہے کہ آج کا بچہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود دین سے غافل ہے ہمیں پتہ نہیں دین کیا ہے، اخلاق کیا ہے، ایمان کیا ہے، حیا کیا ہے، عزت کیا، عزت کی حفاظت کیا ہے، انصاف کیا ہے. ہم بھول چکے ہیں ہمیں اس دنیا میں ایک مقصد کے خاطر اْتارا گیا ہے۔ یہ بات کہہ دی جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا کہ آج کے مسلمان بس نام کے مسلمان رہ گئے. آج ہم مسلمان کی حیثیت سے زندہ نہیں ہیں، آج اسلام کا داخل صرف نام کی حد تک رہ گیا ہے۔

ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تہذیب، اخلاقیات،ثقافت کا محاسبہ کرے ہم اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں، ہم اخلاقی، اسلامی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی زوال کا شکار ہو گئے ہیں، آپ خود اپنے اردگرد کا جائزہ لیں آج ہمارے معاشرے کے لوگ اخلاقیات سے غافل ہیں، جس کی وجہ سے اخلاقی زوال، بے حیائی، اخلاقی برائی اور سماجی برائی جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں، آج ہمارے معاشرے میں وہ کون سی برائی ہے جو موجود نہیں۔

نوجوان نسل اس کی لپیٹ میں آ چکی ہے،ہمارے معاشرے میں اب لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و زیادتی، قتل و غارت، فساد، عیب جوئی، حسد، غرور و تکبر، مفاد پرستی، دھوکہ دہی، دوغلا پن، ملاوٹ، حرص، رشوت خوری، زنا کاری، سود و حرام خوری، ذخیرہ اندوزی، چوری، شراب خوری، تمباکو نوشی،ناجائز منافع خوری، جوا کھیلنا عام ہے ہمارے نوجوان تربیت سے محروم ہیں،آج مسلم معاشرے کا حال اتنا خراب ہو چکا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا حق مارنے کی تلاش میں ایمان کا بھی سودا کر دیتے ہیں۔ ہمارے اٹھنے بیٹھنے کے آداب سونے جاگنے کے اوقات بدل چکے ہیں۔

صبح سویرے اٹھنے کے بجائے ہم گیارہ، بارہ بجے اٹھتے ہیں، والدین، بھائی بہن، بیوی بچوں کو وقت دینے کے بجائے موبائل فون کے ساتھ مشغول رہتے ہیں۔نوجوان مسجد اور مدرسے کے بجائے پارکوں اور ریسٹورنٹوں میں بیکار گھومتے رہتے ہیں، لڑکیاں بن سنور کر بے پردہ پارکوں اور بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں، سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے ناجائز رشتے جوڑنے لگے ہیں۔ زندگی کے مسائل میں الجھے ہوئے لوگ ذکر الٰہی کرنے کے بجائے میوزک سے پریشانیوں کو بھول جانے کا ذیعہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

افسوس آج والدین اولاد کی تربیت پر وقت صرف نہیں کرتے۔ہمارے بچے سوشل میڈیاپرر یلز بنا کر تو کبھی ٹک ٹاک بنا کر، وقت ضائع کرتے ہیں۔آج کل کے نوجوان مکتب جانے کے بجائے جیم سینٹر جانا ضروری سمجھتے ہیں، افسوس صد افسوس کہ یہ سب آج کے معاشرے کی پہچان بنتی جا رہی ہے، نشے کی لت جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح دن بہ دن پروان چڑھتی ہوئی برائیوں کی بنیاد ہے، آج ہمارے دلوں میں سکون نہیں ہے۔ ہم ڈپریشن کے شکار ہو چکے ہیں، معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ ساری مصیبتوں اور پریشانیوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں، یہ سب ہمارے دنیا و آخرت کا خسارہ ہے۔

آج مسلمان اپنے آپ پر غور کریں، کیا ہم با اخلاق اور با تہذیب معاشرے کے باسی کہلائے جانے کے قابل ہیں؟

ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اپنے معاشرے میں اخلاقی بگاڑ لا کے، ہم خود اپنی نسلوں کے دشمن ثابت ہو رہے ہیں۔ جاگو جاگو! اب بھی وقت ہے اپنے معاشرے اور اخلاقیات کو سنوارنے کی فکر کرو، سوشل میڈیا کے مقابلے میں اپنے گھر والوں کو ترجیح دو، قرآن و حدیث کو مضبوطی سے پکڑ کر اس پر عمل کرو، آخرت کو سنوارنے کی فکر کریں، عمل صالح سے اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے بچوں کی تربیت دین اسلام کے مطابق کریں، انہیں بچپن سے ہی اسلام کے بارے میں بتائیں اورمکارم اخلاق و کردار کے حامل بنائیں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں مکارمِ اخلاق سے مزین و آراستہ ہونے اور ہماری آنے والی نسلوں کو دین اسلام پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین