600x314

سکھر تا حیدرآباد موٹر وے – حفیظہ بانو آرائیں

سندھ کے عوام کے لیے سکھر تا حیدرآباد موٹروے محض ایک سڑک کا منصوبہ نہیں بلکہ امید، ترقی اور بہتر مستقبل کی علامت ہے۔ یہ منصوبہ، جو 306 کلومیٹر طویل ہے اور کراچی سے سکھر تک سفر کو تیز، محفوظ اور سہل بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، گزشتہ تین برس سے تعطل کا شکار ہے۔ اس طویل خاموشی نے نہ صرف عوام کو مایوس کیا ہے بلکہ ان کے اندر بے چینی اور غصے کو بھی جنم دیا ہے۔

سندھ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں انفراسٹرکچر کی کمی پہلے ہی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں اس موٹروے جیسے بڑے منصوبے کا التوا کا شکار ہونا عوامی احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرتا ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد اس روٹ پر سفر کرتے ہیں، جہاں ٹریفک کا دباؤ، سڑکوں کی خراب حالت اور حادثات کے خطرات معمول بن چکے ہیں۔ اگر یہ موٹروے وقت پر مکمل ہو جاتی تو نہ صرف سفر کا دورانیہ کم ہوتا بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن بنایا جا سکتا تھا۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے یہ اعلان کہ منصوبہ مئی 2026 میں شروع ہوگا اور 30 ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا، بظاہر ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں تاخیر کی ذمہ داری کون لے گا؟ کیا عوام کو صرف وعدوں اور اعلانات پر ہی اکتفا کرنا ہوگا، یا عملی اقدامات بھی دیکھنے کو ملیں گے؟ 329 ارب روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت مکمل کرنے کا فیصلہ اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس کے لیے شفافیت، تسلسل اور سنجیدگی لازمی ہے۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اگر نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہ ہو تو ایسے منصوبے مزید تاخیر اور اخراجات میں اضافے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقیاتی منصوبے کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ سکھر حیدرآباد موٹروے کی مسلسل تاخیر نے حکومتی اہلیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس منصوبے کو فوری طور پر ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ اگر حکومت واقعی عوامی اعتماد بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے اس منصوبے کو محض ایک فائل یا اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے عملی شکل دینی ہوگی۔ شفافیت، بروقت تکمیل اور معیاری تعمیر وہ عوامل ہیں جو نہ صرف اس منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ عوام کے دلوں میں اعتماد بھی بحال کر سکتے ہیں۔

آخرکار، سڑکیں صرف فاصلے کم نہیں کرتیں بلکہ دلوں کو بھی جوڑتی ہیں۔ سکھر تا حیدرآباد موٹروے بھی ایسا ہی ایک خواب ہے، جو اگر حقیقت کا روپ دھار لے تو سندھ کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ خواب کب تعبیر پاتا ہے، یا پھر وعدوں کی دھند میں ہی کہیں گم ہو جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

حفیظہ بانو

حفیظہ بانو پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔ مطالعہ سے شغف اور لکھنے کا شوق ہے۔ سندھ کے مقامی اخبارات کے ساتھ روزنامہ جنگ کے صفحہ نوجوان کےلیے لکھتی رہی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment