600x314

بس چشمِ بینا چاہیے – آصف امین

دورِ حاضر ٹیکنالوجی کا دور ہے، مگر یہ محض سہولتوں کا نہیں بلکہ آزمائشوں کا زمانہ بھی ہے۔ ہر سمت خبروں کا ہجوم ہے، سوشل میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک اطلاعات کا ایسا طوفان برپا ہے کہ سچ اور جھوٹ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ خبر اب محض اطلاع نہیں رہی بلکہ ایک بیانیہ اور اکثر ایک پوشیدہ ایجنڈا بن چکی ہے۔

عام انسان اس یلغار میں الجھ کر ہر آواز کو سچ اور ہر تکرار کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ یوں وہ پروپیگنڈے اور تاثر سازی کے کھیل میں ایک لاشعوری مہرہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ سچ کیا ہے، بلکہ یہ کہ ہمیں کون سا سچ دکھایا جا رہا ہے۔
ایسے میں چشمِ بینا کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، وہ نگاہ جو صرف دیکھتی نہیں بلکہ پرکھتی بھی ہے۔ یہ آنکھیں لفظوں کے پیچھے چھپے مفہوم اور خاموشیوں میں پوشیدہ کہانی کو سمجھ لیتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ ہر خبر کے پیچھے ایک سمت اور ہر بیان کے پیچھے ایک محرک ہوتا ہے۔

چشمِ بینا دراصل شعور اور آگہی کا نام ہے، جو انسان کو بھیڑ چال سے الگ کر دیتی ہے۔ مگر یہ شعور ایک آزمائش بھی ہے، کیونکہ سچ کو دیکھ لینے کے بعد خاموش رہنا آسان نہیں رہتا۔ بقول شاعر

ایک نعمت بھی یہی ایک قیامت بھی یہی
روح کا جاگنا اور آنکھ کا بینا ہونا

مصنف کے بارے میں

نقطہ نظر

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment