شہنائیوں کی گونج میں دلہن رخصت ہو رہی تھی۔ حسبِ روایت دلہن سمیت سب ہی کی آنکھیں اشکبار تھیں، مگر دلہن کی چھوٹی مگر سیانی بہن نے تو رو رو کر گویا گھر سر پر اٹھا لیا تھا۔ سب ہی اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک خاتون انہیں سمجھاتے ہوئے بولیں:
“بھئی، اب اتنا بھی کیا رونا! کوئی تمہاری تو رخصتی نہیں ہو رہی۔”
محفل میں سے آواز آئی: “اسی لیے تو رو رہی ہے!”
صاحبو! ہمیں موصوفہ کے رونے کا سبب تو نہیں معلوم، مگر اتنا ضرور جانتے ہیں کہ فی زمانہ رونا سب سے آسان کام ہے۔ جبھی تو کہتے ہیں، رونا اور گانا کسے نہیں آتا۔
مگر یہ اس زمانے کی بات ہے جب مرد گایا اور عورتیں رویا کرتی تھیں۔ تاریخ اس بات پر خاموش ہے کہ پھر بچے کیا کرتے تھے؟
ویسے ہم آج تک یہ گتھی سلجھانے میں ناکام رہے کہ مردوں کے گانے پر عورتیں رویا کرتی تھیں، یا عورتوں کے رونے کی آواز محلے والوں سے چھپانے کے لیے مرد گانے لگتے تھے۔
خیر، وجہ کچھ بھی ہو، اب اس کی توجیہ کی قطعاً ضرورت نہیں رہی، کیونکہ زمانہ بدل گیا ہے۔ یہ مرد و زن کی مساوات کا دور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین و حضرات نے اپنے بیشتر “فرائض” ایک دوسرے سے بدل لیے ہیں اور “بقیہ فرائض” بدلنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ چنانچہ آج کل خواتین نے گانے اور مرد حضرات نے رونے کا فریضہ سنبھال لیا ہے۔ رونے کی کئی قسمیں ہیں، مثلاً بچوں کا رونا، عورتوں کا رونا اور مردوں کا (عورتوں کی طرح) رونا وغیرہ وغیرہ۔ بچے عموماً آواز سے اور بلا آنسو روتے ہیں۔ بچوں کو اس طریقے سے رونے میں اسی طرح ملکہ حاصل ہے جس طرح ملکۂ موسیقی روشن آراء بیگم کو۔ (رونے میں نہیں بلکہ گانے میں۔) صفر سے سو سال تک کے “بچے”، جب کسی کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور اس ہمدردی کی آڑ میں انہیں دامے، درمے یا سخنے کچھ مطلوب ہو، تو وہ مختلف آوازوں کے ساتھ (بلا آنسو) رونا شروع کر دیتے ہیں۔
وہ کبھی حالات کا رونا روتے ہیں، کبھی اپنی بے بسی کا، کبھی دوسروں کی زیادتی کا اور کبھی تقدیر کی ستم ظریفی کا۔ غرض، کسی نہ کسی سبب سے رو کر اپنا کام نکلوا لیتے ہیں۔ رونے کی دوسری قسم عورتوں کا رونا ہے۔ یہ ایک معروف قسم ہے۔ اس قسم کا رونا بچوں کے رونے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس طرح کے رونے میں آنسوؤں کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ اگر دنیا بھر کی عورتیں رونا دھونا بند کر دیں تو دنیا میں سیلاب کبھی نہ آئے۔ مگر ہم اس تجویز کے حق میں ہرگز نہیں ہیں، کیونکہ اس طرح ہم جہاں سیلاب بلا کی آفات سے محفوظ ہو جائیں گے، وہیں “چشمِ زن” کے متعدد فیوض سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ کیونکہ اس بات پر تو تمام طبی ماہرین متفق ہیں کہ خواتین کی آنکھوں کی خوبصورتی میں سامانِ آرائشِ چشم سے زیادہ ان کے آنسوؤں کا دخل ہے۔ پھر بے موسم برسات کا مزہ بھی تو انہی آنکھوں میں ہے:
مزے برسات کے چاہو تو آ بیٹھو ان آنکھوں میں
سیاہی ہے، سفیدی ہے، شفق ہے، ابرِ باراں ہے
رونے کی اس قسم کی ایک اور اہم خوبی یہ ہے کہ اسے جہاں دکھ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، وہیں اس کا استعمال سکھ کے موقع پر بھی بلا تکلف اور بے دریغ جائز ہے۔ بلکہ بیشتر خواتین تو رونے کے لیے دکھ سکھ کا بھی انتظار نہیں کرتیں اور اکثر اوقات بات بے بات بھی رونے لگ جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے کسی خاتون کو روتا دیکھ کر عقلمند سے عقلمند شخص بھی ان کے رونے کی وجہ نہیں بتا سکتا۔ تاہم “متعلقہ فرد” کو عموماً یہ پیشگی علم ہوتا ہے کہ خاتونِ خانہ (یا غیر خاتونِ خانہ، جو بھی صورت ہو) کے آئندہ رونے کا سبب کیا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے ہماری پولیس کے متعلقہ افراد کو یہ پیشگی علم ہوتا ہے کہ شہر میں ہونے والا اگلا جرم کب اور کہاں وقوع پذیر ہوگا۔ رونے کی ایک تیسری قسم بھی ہے، جو سکۓ رائج الوقت کی طرح آج کل مقبولِ عام ہے۔ جی ہاں! یہ رونا مردوں کا رونا ہے۔
گو رونے کی ابتدا بچوں نے کی، مگر اسے آرٹ کا درجہ خواتین نے بخشا، جبکہ اس کی موجودہ “پروفیشنل” حیثیت مردوں کی مرہونِ منت ہے۔ پروفیشنلزم کے اس جدید دور میں وہی لوگ کامیاب ہیں جنہیں نہ صرف رونے کے فن پر قدرت حاصل ہے، بلکہ وہ اسے موقع محل کے مطابق “کیش” کروانے کے ہنر سے بھی واقف ہیں۔ آپ خود دیکھتے رہتے ہیں کہ اگر کسی حکومت کو رونے دھونے پر ملکہ حاصل ہو تو وہ “بین الاقوامی خطرات” کا رونا رو کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کر لیتی ہے اور اپنے اقتدار کو طول دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر حزبِ اختلاف رونے دھونے میں حزبِ اقتدار سے بازی لے جائے تو وہ عوام کو حزبِ اقتدار کی غلامی سے آزاد کرا کر اپنا غلام بنا لیتی ہے۔ اگر آجر رونے میں کمال حاصل کر لے تو اپنے ملازمین کے سامنے اپنے “برے حالات” اور دوسروں کی “زیادتی” کا رونا رو کر انہیں کم سے کم تنخواہ پر زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی ملازم اپنے خودساختہ مصائب کا رونا رو کر آجر کی ہمدردیاں حاصل کر لے تو تنخواہ کے علاوہ بونس بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ تاجر رونے کے فن میں ماہر ہو جائے تو وہ اپنے مال کی قیمتوں میں اضافہ کروانے اور اپنے اوپر عائد ٹیکسوں کو کم کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ غرض، رونا دھونا ایک ایسا فن ہے کہ جس کسی نے بھی اس میں کمال حاصل کر لیا، وہ اداکار کمال سمیت تمام اداکاروں کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے، اور (نام نہاد) عزت، (جائز و ناجائز) دولت اور (اچھی بری) شہرت اس کے گھر کا طواف کرنے لگتی ہے۔ درحقیقت یہی اس کے لیے “پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ” ہے، ایک ایسا ایوارڈ جس کے حصول کے لیے کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑتا، صرف ہر ایک کے آگے رونا پڑتا ہے۔
قارئینِ کرام!
ہم نے بھی اس فن میں مہارت حاصل کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ ابتدائی مشق کے طور پر ہم یہ انشائیہ تحریر کر رہے ہیں، بعد ازاں “ریاض” کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ دورانِ ریاض ہم روتے روتے (تھک ہار کر) سو جائیں۔ ایسے میں اگر متذکرہ بالا عزت، دولت اور شہرت، یعنی “عین، دال، شین سسٹرز”، ہمارے گھر پر دستک دینے لگیں تو بلا تکلف ہمیں اٹھا دیجیے گا۔ اور ہماری امی جان کی اس ممانعت پر ہرگز کان نہ دھریے گا کہ:
سرہانے “میر” کے آہستہ بولو
ابھی تک روتے روتے سو گیا ہے
واضح رہے کہ “میر” ہمارے اصلی نام کا مخفف ہے اور ہماری امی جان پیار سے ہمیں اسی نام سے پکارتی ہیں۔ دیکھیے! ہمیں جگا ضرور دیجیے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں سوتا پا کر “عین، دال، شین سسٹرز” ہمارے پڑوسی کے گھر پہنچ جائیں، اور رونے میں مہارت حاصل کرنے کے باوجود ہمیں یہ کہنا پڑے:
منزل انہیں ملی جو (رونے دھونے میں) شریکِ سفر نہ تھے۔



تبصرہ لکھیے