ہوم << سائنس دانوں کی مذہبی مشکلات اور ان کا ممکنہ حل‌‌ - عبداللہ کیلانی

سائنس دانوں کی مذہبی مشکلات اور ان کا ممکنہ حل‌‌ - عبداللہ کیلانی

ایک وقت تھا، سائنس دان مادے کی ابدیت اور قدامت پر یقین رکھتے تھے، جس کی وجہ سے وہ خالق کے منکر تھے۔ پھر قوانین قدرت کی دریافت ہوئی، یہ وہ زمانہ تھا جب کائنات کو ایک خود کار نظام سمجھا جاتا تھا۔ رینے ڈیکارٹ، گلیلیو، آزک نیوٹن اور والٹر وغیرہ کے مطابق ایسے خودکار نظام کو ایک خالق کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ والٹر کے مطابق: خدا نے کائنات کو ایسے بنایا جیسے گھڑی ساز نے گھڑی کو، بنانے کے بعد خدا کو اس سے کوئی واسطہ نہیں، یہ کائنات قوانینِ قدرت سے خودکار طور پر چل رہی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ خدا کے قوانین کی جو تعبیر انہیں سمجھ لگی ہے، وہی اٹل تعبیر ہے۔ قوانین قدرت کی بنیاد پر فلکیات کے بارے میں سائنس دان جو پیش گوئی کرتے، وہ پوری ہوجاتی، چنانچہ اس نظریہ نے ایک سخت قسم کی جبریت کا رخ اختیار کیا، کہ انسان سمیت پوری کائنات قوانین قدرت کے ہاتھوں مجبور ہے۔
جب معلوم ہوا کہ کائنات توسیع پذیر ہے، مادہ ابدی نہیں ہے، بلکہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور فنا ہوجاتا ہے، تو کائنات کی ابتدا کے بارے میں راز کھلنے شروع ہوئے۔ ابتداء اور تخلیق کائنات کے بڑے دھماکے والا نظریہ مقبول ہوا۔ یہ نظریہ دوبارہ وہی تقاضا کرتا تھا کہ خالق کائنات کو مانا جائے، چنانچہ سائنس دانوں کے لیے خدا پر یقین کرنا، کائنات کی ابتدا کے نظریہ کو سمجھنے کے لیے اور زیادہ ضروری ہوگیا۔ لیکن ان سائنس دانوں کے ہاں خدا کا تصور عام مذاہب کے خدا کے تصور سے بہت مختلف ہے۔ تقریباً سب مذاہب یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا سے جو دعائیں مانگی جائیں، پوری ہوتی ہیں۔ لیکن سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ایک انسان کی دعا کی خاطر اپنے اتنے عظیم قوانین میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔
پھر ’لطیف طبعیات‘ یعنی ’کوانٹم طبعیات یا میکانیات‘ نے خدا کے بارے میں سائنس دانوں کے یہ تصورات غلط ثابت کردیے۔ ہائزن برگ کے دریافت کیے گئے اصول کے مطابق لطیف پیمانے پر کسی بھی چیز کی پیش گوئی ناممکن ہے یعنی کوئی بھی ایسا فارمولہ یا قانون نہیں ہے جس کی مدد سے ہم جان سکیں کہ اس لطیف ذرہ کا رویہ اگلے مرحلے میں کیا ہوگا، اس کا انحصار مشاہدے پر ہے۔ لطیف طبعیات کے مطابق جب کائنات بالکل ابتدائی حالت میں تھی تو یہ بہت سی لطیف حالتوں کا مجموعہ تھی، تب کائنات کے پاس بےشمار امکانات تھے، وہ کوئی بھی صورت اختیار کرسکتی تھی، وہ کسی عظیم ہستی کے ’مشاہدے‘ سے موجودہ حالت میں آئی ہے، یعنی جبریت کے عقیدے پر ضرب لگی، یعنی انسان سمیت پوری کائنات کسی نہ کسی حدود میں ذاتی ارادہ اور اختیار رکھتے ہیں، اور خدا اپنے قوانین توڑے بغیر ہر قسم کی بڑی سے بڑی دعا بھی قبول کر سکتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ بنیادی نظریات اور عقائد میں اتنی بڑی تبدیلی کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ بڑے بڑے سائنس دان ’کوانٹم‘ یا لطیف طبعیات کے ان حقائق اور مشاہدات سے گھبرائے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً آئن سٹائن ’جبریت‘ کا قائل تھا، کوانٹم طبعیات کے ان حقائق سے گھبراگیا، اور اپنے زمانے کے کئی بڑے سائنس دانوں کی مخالفت ان الفاظ میں کی: ’خدا کائنات کے ساتھ ممکنات اور جوے کا کھیل نہیں کھیل سکتا‘، اس نے کوائنٹم طبعیات کو سائنسی انداز میں جھٹلانے کے لیے نام نہاد ’متغیر مخفیہ‘ کا نظریہ پیش کیا۔
ان مسائل کا حل حسب ذیل ہو سکتا ہے۔
1. مذہبی معاملات کے لیے مذہبی وسائل ہی معتبر ہو سکتے ہیں، سائنسی نہیں، کیونکہ جس تیزی سے سائنسی انکشافات سامنے آتے ہیں، سائنس دان اس تیزی سے اپنے نظریات تبدیل نہیں کرپاتے۔ اور ویسے بھی مذہبی نظریات میں آئے روز تبدیلی خود ان کو غیر معتبر کر دیتی ہے۔
2. عموماً اسلام کا مزاج باقی مذاہب سے مختلف ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂِ حیات ہے، خاص طور پر سیاست، معیشت اور معاشرت وغیرہ کو اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔لیکن اگر سائنس کو محض ’علم وہنر‘ تک محدود رکھا جائے، تو شاید اس کو بھی مذہب سے کشمکش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے خوشوں کے ملاپ کے بارے میں فرمایا’تم لوگ دنیاوی امور کے بارے میں خود بہتر سمجھتے ہو‘۔

Comments

Click here to post a comment

  • موضوع اچھوتا ہے. مصنف کے وسیع مطالعہ کا پتہ دیتا ہے. لکھا آسان فہم ہوا ہے کہ اگر کسی نے سائنس نہ بھی پڑھی ہو تو اسے دشواری نہ ہو.
    لیکن آخر میں آکر بات کچھ ادھوری لگ رہی ہے. شاید اگلی قسط میں واضح ہو جائے.....