600x314

ایک پاکستانی کا خواب – حفیظہ بانو

پاکستان، جس کی بنیاد ہی قربانی، نظریہ اور خودمختاری پر رکھی گئی، آج 77 سال گزرنے کے باوجود ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہو سکا۔ مگر ہر محب وطن پاکستانی کے دل میں یہ خواب ضرور بس رہا ہے کہ ایک دن ہمارا وطن ترقی، خوشحالی، امن اور انصاف کا گہوارہ بنے۔ سوال یہ ہے کہ یہ خواب کیسے ممکن ہوگا؟

ترقی کا خواب محض حکومتوں سے وابستہ نہیں، یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے کردار کو سمجھیں اور نبھائیں۔کسی بھی قوم کی ترقی کا پہلا زینہ تعلیم ہے۔ پاکستان کو یکساں، معیاری اور سستی تعلیم کی ضرورت ہے۔ وہ تعلیم جو صرف نوکری کے لیے نہ ہو بلکہ انسان سازی کے لیے ہو۔ نئی نسل کو تحقیق، سائنسی سوچ، تجزیہ اور اخلاقی اقدار سکھائی جائیں تاکہ وہ مستقبل میں ملک کو بہتر سمت میں لے جا سکیں۔

کرپشن پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر چکی ہے۔ اگر ہم ترقی چاہتے ہیں تو ہر سطح پر احتساب لازم ہے، چاہے وہ سیاستدان ہو، بیوروکریٹ، یا عام شہری۔ ہمیں اپنی ذاتی زندگی میں بھی دیانت کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان میں اقربا پروری اور سفارش کلچر نے باصلاحیت لوگوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ جب تک میرٹ کو اولیت نہیں دی جائے گی، ترقی محض خواب رہے گی۔ ہر ادارے، ہر بھرتی اور ہر فیصلے میں صرف اور صرف میرٹ کو معیار بنانا ہوگا۔ ہمیں قرضوں پر انحصار چھوڑ کر اپنی معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ زرعی اصلاحات، مقامی صنعتوں کی بحالی، برآمدات میں اضافہ اور آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری ہماری معیشت کو پاؤں پر کھڑا کر سکتی ہے۔

ہم ایک قوم بننے کے بجائے صوبوں، زبانوں، فرقوں اور ذاتوں میں بٹ چکے ہیں۔ ترقی کا خواب تبھی ممکن ہے جب ہم “پاکستانی” بن کر سوچیں، اور ایک دوسرے کو قبول کریں۔ نفرتوں کی دیواروں کو گرا کر محبت، برداشت اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ ان کو تعلیم، روزگار اور فیصلہ سازی میں برابر کا موقع دیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان کی ترقی کا خواب ایک سچے، باکردار، تعلیم یافتہ اور متحد قوم کی بدولت ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ ہمیں انتظار نہیں کرنا کہ کوئی اور آ کر تبدیلی لائے، بلکہ ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ جیسے اقبالؒ نے فرمایا:

[poetry]افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ[/poetry]

آیئے، ایک نیا عہد کریں کہ ہم خود کو سنواریں گے تاکہ ہمارا پاکستان سنورے۔

مصنف کے بارے میں

حفیظہ بانو

حفیظہ بانو پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔ مطالعہ سے شغف اور لکھنے کا شوق ہے۔ سندھ کے مقامی اخبارات کے ساتھ روزنامہ جنگ کے صفحہ نوجوان کےلیے لکھتی رہی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment