وہ لمحہ تصور کی آنکھ میں زمرد بن کر رک جاتا ہے جب کوئی ہاتھ، جو کل زخموں پر مرہم رکھتا تھا، آج انہیں سے ہی نوچتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو اپنے ہی سائے سے گلہ ہونے لگتا ہے۔ احسان فراموشی ایسا زخم ہے جو جسم پر نہیں، روح کی گہرائی پر لگتا ہے، اور روح کی چوٹ کا کوئی مرہم دنیا میں ہے ہی نہیں۔
یہی وہ کردار کش زہر ہے جس نے قابیل کو ہابیل کے خلاف کھڑا کیا، یہی وہ ناسور ہے جس نے بنی اسرائیل کو من و سلویٰ کی قدر سے غافل کیا، اور یہی وہ عادت ہے جو آج کے انسان کو اپنے محسنوں سے بےنیاز بلکہ برگشتہ کر چکی ہے۔ قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ نے جہاں شکر گزاری کو ایمان کا حصہ قرار دیا، وہیں احسان فراموشی کو نفاق، کفرانِ نعمت اور اخلاقی گراوٹ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اسی احسان فراموشی کو آئیندہ سطور میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان شاءاللہ تعالیٰ
”احسان“ کا لغوی مفہوم نیکی، بھلائی اور خوبی کرنا ہے۔ قرآن میں ”احسان“ کا استعمال کئی سیاق و سباق میں ہوا ہے، جن میں والدین کے ساتھ حسن سلوک، معاف کرنا، حسن خلق، اور عبادت میں خلوص شامل ہیں۔
قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور ہو سکتا ہے؟۔ [ سورہ الرحمن 60]
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے سوالیہ انداز میں ایک آئینہ ہے، جو انسان کو اپنے رویوں کا عکس دیکھنے کی تدبر و تفکر دعوت دیتی ہے۔ احسان فراموشی اس عمل کو کہتے ہیں جس میں انسان اپنے محسن کی عنایت کو بھول کر نہ صرف اسے نظر انداز کرتا ہے بلکہ اکثر اوقات اس کے خلاف بھی جا کھڑا ہوتا ہے۔ یہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسانات سے منہ موڑنے کو بھی شامل کرتی ہے، جو کہ کفرانِ نعمت کہلاتی ہے۔
اسبابِ احسان فراموشی چند ایک کو قلمبند کرتا ہوں:
احسان فراموشی کا سب سے بڑا سبب تکبر ہے۔ جو انسان خود کو کامل، خودمختار اور عقلِ کل سمجھنے لگتا ہے، وہ کسی کے احسان کو ماننے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ:
اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو، تو اسے غرور گناہ پر جما دیتا ہے۔ [ سورہ البقرہ: 206]
یہ وہ اندرونی سم قاتل ہے جو احسان کے پودے کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے۔ نفسِ امارہ انسان کو ہمیشہ اس کی خواہشات کی طرف کھینچتا ہے۔ احسان کا اعتراف اس کے لیے بوجھ محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہ عاجزی اور شکرگزاری کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ نفس غرور و انا کی غذا پر پلتا ہے۔ قرآن کریم میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ:
بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔ [سورہ یوسف: 53]
جب انسان دنیا محبت میں اندھا ہو جاتا ہے تو وہ صرف مفاد دیکھتا ہے، رشتہ نہیں، صرف فائدہ دیکھتا ہے، تعلق نہیں۔ ایسے میں وہ ماضی کے احسانات کو رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے۔ یہ وہی سبب تھا جس نے فرعون کو رب کی پہچان سے محروم رکھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور مقام پر فرمایا:
کیا ہم نے تجھے بچپن میں نہیں پالا تھا؟.[سورہ الشعراء: 18]
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کو یاد دلانا تھا، لیکن وہ دنیا کے نشے میں اس احسان کو ماننے سے انکاری تھا۔ جو انسان اللہ کا شکر گزار نہیں، وہ مخلوق کا بھی نہیں ہو سکتا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ:
جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [ابو داؤد: 4811]
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان دوسرے کی بھلائی سے جلن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسی حسد کی آگ میں جل کر احسان کو نہ صرف بھولتا ہے بلکہ اسے مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا کہ:
اہلِ کتاب میں سے بہت سے لوگ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر بنانا چاہتے ہیں، حسد کی وجہ سے۔ [ سورہ البقرہ: 109]
احسان فراموشی صرف فرد کی خرابی نہیں بلکہ یہ معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی جاتی ہیں۔ جیسے فصل بیج، پانی اور دھوپ کی مرہونِ منت ہوتی ہے، ویسے ہی انسان اپنی کامیابیوں میں کئی چہروں کا مقروض ہوتا ہے۔ ان چہروں کو فراموش کرنا، گویا اپنی ہی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے۔ بقول بیدم شاہ وارثی
[poetry] ہم رنج بھی پانے پر ممنون ہی ہوتے ہیںہم سے تو نہیں ممکن احسان فراموشی[/poetry]
بنی اسرائیل جنہوں نے من و سلویٰ کے باوجود احسان فراموشی کی روش اختیار کی۔ حضرت یوسف علیہ السلام: جنہوں نے قیدخانے میں خواب کی تعبیر بتا کر احسان کیا، مگر ان کا ساتھی انہیں بھول گیا۔جیسے اللہ تعالیٰ اپنی پاک کتاب میں فرماتا ہے:
”شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا۔“[یوسف: 42]
احسان فراموشی دل کی ایسی بیماری ہے جو روح کے آئینے کو دھندلا کر دیتی ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی اخلاقی پستی کی نشانی ہے، بلکہ اجتماعی طور پر معاشرتی زوال کی بنیادی جڑ بھی۔ اس کا علاج شکر، عاجزی، محبت اور وفا شعاری میں ہے۔ یاد رکھیے، احسان مان لینا کمزوری نہیں، بلکہ اعلیٰ ظرفی کی دلیل ہے۔ اور جو قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں، تاریخ انہیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ:
”جس نے پانی پلایا، اسے پتھر مت مارو، ورنہ پیاس تمہیں بھی لگ سکتی ہے!“



تبصرہ لکھیے