انسان صدیوں سے ایسی کیفیتوں کا سامنا کرتا رہا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتیں، مگر اثر گہرا رکھتی ہیں۔ کبھی انہیں جادو کہا گیا، کبھی آسیب، اور کبھی محض نفسیاتی فریب۔ لیکن حقیقت اور توہم کے درمیان جو باریک لکیر ہے، وہ ہر دور میں سوال بن کر انسان کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے: کیا جادو حقیقت ہے؟
اگر ہے، تو وہ انسان پر کیسے اثر کرتا ہے؟ کیا وہ صرف جذبات یا جسم تک محدود ہے، یا اس کا ہدف انسان کا باطن اور شعور ہوتا ہے؟ اور اگر شعور ہی اس کا نشانہ ہے، تو وہ شعور کہاں بستہ ہے؟ کیا جدید سائنس، خاص طور پر نیوروسائنس، ہمیں اس کا کوئی سراغ دیتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، قرآن ہمیں کیا بتاتا ہے؟انسانی دماغ کو جب ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو سب سے اہم اور پیچیدہ حصہ Prefrontal Cortex سامنے آتا ہے، جو پیشانی کے پیچھے واقع ہوتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں انسان اپنے فیصلے کرتا ہے، اخلاقی شعور جنم لیتا ہے، ارادہ مضبوط ہوتا ہے.
اور سب سے بڑھ کر انسان اپنے وجود کا احساس کرتا ہے — یعنی “میں کون ہوں؟” کا جواب اسی حصے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ مرکز ہے جہاں عقل، وجدان، نیت، اور آزادی جمع ہو کر انسان کو ایک باشعور ہستی بناتے ہیں۔اب اگر کوئی قوت انسان کو توڑنا چاہے، تو کیا وہ جسم سے شروع کرے گی یا شعور سے؟ قرآن جادو کو حقیقت مانتا ہے — ایسی حقیقت جو صرف ظاہری اثر نہیں رکھتی، بلکہ انسان کے تعلقات، احساسات اور ارادے تک کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سورۃ البقرہ میں مذکور ہے کہ بعض لوگ ایسا علم سیکھتے تھے جس سے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے تھے۔ یہ محض ظاہری تفریق نہیں، بلکہ ایک ایسا باطنی تصرف ہے جو محبت، ہم آہنگی اور جذباتی ربط کو متاثر کرتا ہے۔ اور یہ سب کچھ Prefrontal Cortex کے تحت آتا ہے۔
جدید تحقیق بتاتی ہے کہ Prefrontal Cortex وہ حصہ ہے جہاں انسان کی نیت (intent) بنتی ہے، وہ جھوٹ بولتا ہے یا سچ، وہ گناہ پر مائل ہوتا ہے یا حق پر قائم فیصلہ سازی (decision making)، خود پر قابو (self-control)، یادداشت، توجہ اور اخلاقی بصیرت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سب کچھ اسی مقام سے نکلتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآن نے بھی جھوٹ، گناہ، اور نافرمانی کو “پیشانی” سے جوڑا ہے: “ناصیہٍ کاذبة خاطئة” — یعنی جھوٹی اور گناہگار پیشانی۔ یہ اتفاق نہیں، بلکہ ایک گہرا تعلق ہے جو قرآن اور نیوروسائنس کے درمیان موجود ہے۔ گویا وہی پیشانی جس پر انسان سجدہ کرتا ہے، وہی انسان کی آزادی اور ارادے کا مرکز ہے اور اسی پر باطل اثر وار کرتا ہے۔
جادو، جب روحانی طور پر حملہ کرتا ہے، تو اس کے اثرات میں الجھن، غیر متوازن جذبات، خود سے دوری، بے دلی سے عبادت،)(ایسےسجدے جس میں صرف جسم جھکے شعور نہیں ) اور فیصلہ سازی کی کمزوری شامل ہوتی ہے۔ یہ سب وہ علامات ہیں جنہیں سائنس “Executive Dysfunction” کہتی ہے یعنی Prefrontal Cortex کی خرابی۔ گویا جادو، اگرچہ نظر نہیں آتا، لیکن وہ اسی مرکز کو نشانہ بناتا ہے جہاں انسان کی روح، نیت، اور پہچان مجتمع ہوتی ہے۔ انسان اپنے ہی وجود سے کٹنے لگتا ہے۔ وہ سوال، “میں کون ہوں؟” دھند میں چھپنے لگتا ہے۔
یہ حملہ مادی سے زیادہ روحانی و نفسیاتی ہوتا ہے۔ نیورونز کی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے، جذبات کا توازن بگڑتا ہے، اور شعوری بیداری دبنے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتا ہے — اور یہی جادو کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن قرآن اس ظلمت میں روشنی بن کر اُترتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ جادو محض ایک قوت نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ اور اس کا اثر صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب اللہ کی اجازت ہو۔ یہ تصور ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان ایک بے بس مخلوق نہیں، بلکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرکے دوبارہ اپنے شعور کو بحال کر سکتا ہے۔
اسلام میں جادو کا علاج محض دم کرنے یا آیات پڑھنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل علاج انسان کی روحانی، شعوری اور ارادی بحالی میں ہے۔ توحید، یعنی اللہ کی وحدانیت کا شعور، انسان کے باطن کو سب سے مضبوط قلعہ فراہم کرتا ہے۔ قرآن، شفا بن کر اترتا ہے، مگر اس شفا کے لیے قاری کا دل بھی بیدار ہونا ضروری ہے۔ Prefrontal Cortex، جو سجدے میں پیشانی بن کر زمین پر جھکتی ہے، وہی دوبارہ فعال ہوتی ہے جب انسان اللہ سے جڑتا ہے۔ اور یہ جُڑاؤ صرف دماغی نہیں، بلکہ روحانی ارتقاء ہے۔
آج کے دور میں یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ لوگ عبادت بھی کرتے ہیں، تلاوت بھی کرتے ہیں، وظائف بھی پڑھتے ہیں، مگر جب کوئی ذہنی یا جسمانی پریشانی آتی ہے، تو فوراً جادو کا شبہ کرنے لگتے ہیں۔ قرآن جادو کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتا ہے، جیسے فرمایا:
“وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ کے حکم سے.” سورۃ البقرہ: 102
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جادو کا اثر مطلق نہیں، مشروط ہے یعنی اللہ کے اذن کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔ مگر ہم ہر رکاوٹ، ہر غم، ہر بے سکونی کو جادو قرار دے کر اپنے نفس، اعمال اور نیت کے احتساب سے غافل ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات مسئلہ محض نفسیاتی ہوتا ہے، مگر ہم اسے ماورائی سمجھ کر اپنی عقل، ارادہ اور شعور کی قوت کھو بیٹھتے ہیں۔ عبادت اگر صرف ظاہر کی مشق بن جائے اور دل، نیت اور شعور اس میں شامل نہ ہو، تو وہ روحانی طاقت نہیں بنتی۔قرآن کہتا ہے:
“نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے.” سورۃ العنکبوت: 45
مگر جب دل دنیا میں، ذکر بے سمجھی میں، اور یقین وہم میں ڈوبا ہو، تو یہی نماز انسان کو گمراہی سے نہ روک پاتی۔ دراصل اصل تحفظ تب ہی ممکن ہے جب عبادت شعوری ہو، دل اللہ سے جڑا ہو، اور بندہ اس حقیقت پر یقین رکھے کہ:
“اور مؤمنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے.” سورۃ آل عمران: 160
کبھی کبھی سب سے بڑا جادو “وہم” ہوتا ہے — ایسا خوف، جو انسان کو اپنے سجدے، اپنی دعا اور حتیٰ کہ اپنے رب پر بھی شک میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اور یہ تو شیطان کی پرانی چال ہے، جیسا کہ قرآن نے کہا:
“بے شک شیطان کی چال بہت کمزور ہے.”سورۃ النساء: 76
ہم جب تک شعوری طور پر عبادت، ذکر اور توکل کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے، ہم شیطان کی اس کمزور چال سے بھی ہار جاتے ہیں۔ اور پھر انسان جادو سے نہیں، اپنے ہی کمزور ایمان اور بےیقینی سے شکست کھا جاتا ہے۔جادو زدہ کا معاملہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ مظلوم ہوتا ہے کسی اور کے ظلم کا نشانہ، جس کی روحانی ڈھال توڑ دی گئی ہو یا جو غفلت میں آ کر کمزور پڑ گیا ہو۔ اس لیے قرآن میں “پیشانی سے پکڑنے” کا ذکر صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے ارادے سے برائی کو اپناتے ہیں، نہ کہ ان کے لیے جو آزمائش کا شکار ہیں۔ انسان کے دماغ کا Prefrontal Cortex یہی انسان کی اختیاری قوت کا مرکز ہے، اسی لیے قرآن نے فرمایا:
یعنی خبردار! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ضرور پیشانی کے بالوں سے پکڑیں گے۔ پیشانی جو جھوٹی اور گناہ گار ہے۔” (سورۃ العلق: 16)۔
یہ اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو حق کو جان کر بھی انکار کرتا ہے، یا خود گناہ کا راستہ چنتا ہے۔ اگر جادو زدہ شخص بھی شعوری طور پر وہم، حسد، یا گمراہی کی پیروی کرے، اور حق سے روگردانی کرے تو وہ بھی پکڑا جا سکتا ہے، کیونکہ اس نے باطل کو ارادے سے اپنایا۔ لیکن اگر وہ مظلوم ہے، دعا، ذکر اور سچائی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، تو اللہ اسے اپنی رحمت سے بچا لیتا ہے۔ اس لیے “پیشانی سے پکڑے جانا” اصل میں اس شعوری گناہ کی سزا ہے، جو Prefrontal Cortex میں جنم لیتا ہے۔ جو لوگ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ جھوٹ، ظلم یا حسد کے راستے پر چلیں گے، اور ہدایت کو جانتے ہوئے انکار کرتے ہیں وہی اس گرفت میں آتے ہیں۔ مگر جو جادو زدہ ہو کر بھی اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، دعا کرتا ہے، اور سچائی پر قائم رہتا ہے، وہ نہ صرف بچا لیا جاتا ہے بلکہ اسی حالت میں اللہ کے قریب بھی ہو جاتا ہے۔
اگر انسان ہوش اور ایمان سے لڑے تو بچ جاتا ہےاگر انسان خود کو گمراہی کے حوالے کر دے تو پکڑا جاتا ہے، بالکل اسی “پیشانی” سے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ جادو انسان کے جسم پر نہیں، بلکہ “میں”(conscious identity) پر حملہ کرتا ہے۔ اور وہ “میں”(conscious identity ) صرف دماغ میں نہیں، بلکہ روح میں پیوست ہے۔ جب انسان کا شعور، اس کا ارادہ، اور اس کی پہچان محفوظ ہو جائے، تو وہ باطل کے ہر وار سے بچ سکتا ہے۔ یہی قرآن کی حکمت ہے، یہی دماغ کی حقیقت، اور یہی جادو کی آزمائش۔
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان پوری خود آگہی سے، پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے:
“إني عبدُ الله” — میں اللہ کا بندہ ہوں۔



تبصرہ لکھیے