قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ وہ آخری الہامی کتاب ہے جو سرورِ کائنات، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ کتاب نہ صرف اہلِ ایمان بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہدایت، نور، حکمت اور علم کا خزانہ ہے۔
قرآن مجید قیامت تک کے انسانوں کے لیے ایک کامل اور جامع ضابطۂ حیات ہے جو فرد کی انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی نظام تک، روحانی تربیت سے لے کر اخلاقی اصلاح تک، سماجی معاملات سے لے کر معاشی اصولوں تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ کتاب صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ فہم اور عمل کے لیے نازل ہوئی ہے۔ قرآن کا مطالعہ ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے تاکہ وہ اپنے رب کی رضا حاصل کر سکے اور دنیا و آخرت میں کامیابی پا سکے۔
مطالعۂ قرآن کی ضرورت
1. ہدایت کے حصول کے لیے:
اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ’’ھُدًی لِّلنَّاس‘‘ یعنی ’’تمام انسانوں کے لیے ہدایت‘‘ قرار دیا ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ زندگی میں درست اور کامیاب راستے کی تلاش کرتا ہے۔ قرآن وہی الہامی کتاب ہے جو انسان کو صراطِ مستقیم دکھاتی ہے، نیکی اور بدی، حق اور باطل، خیر اور شر کے درمیان فرق واضح کرتی ہے۔ ایک مسلمان جب قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے زندگی کے ہر موڑ پر اللہ کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
2. اللہ کی معرفت کے لیے:
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی صفات، اس کی قدرت، علم، عدل اور رحمت کو واضح کرتا ہے۔ انسان جب قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ اس کا خالق کون ہے، وہ کن باتوں کو پسند کرتا ہے، کن چیزوں سے ناراض ہوتا ہے، اور کس طرزِ عمل کو اپنانے پر انسان کو اپنی قربت عطا کرتا ہے۔ قرآن اللہ کی پہچان کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
3. نظامِ زندگی کے لیے:
قرآن مجید نہ صرف ایک روحانی کتاب ہے بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں انفرادی زندگی سے لے کر خاندانی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی نظام تک کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن انصاف، مساوات، عدل، اخوت، بھائی چارے، حسنِ سلوک، فلاحِ عامہ اور دیگر معاشرتی اقدار کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ قرآن کی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کر دے تو وہاں امن، عدل اور ترقی کا بول بالا ہوگا۔
4. آخرت کی تیاری کے لیے:
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ قرآن میں جنت و دوزخ، حساب و کتاب، قیامت، پل صراط اور میزان جیسے عقائد کی تفصیل موجود ہے۔ مطالعۂ قرآن انسان کو موت کی یاد دلاتا ہے اور اسے زندگی کا صحیح مقصد سمجھاتا ہے، یعنی اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا اور آخرت کی فلاح حاصل کرنا۔
مطالعۂ قرآن کی اہمیت
1. نبی کریم ﷺ کی سنت:
حضور اکرم ﷺ قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے، اس پر غور و فکر فرماتے تھے، اور صحابہ کرام کو بھی تعلیم دیتے تھے کہ وہ قرآن کو سیکھیں، سمجھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ آپ کا فرمان ہے:
“خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ”
(تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے)
یہ حدیث مطالعۂ قرآن کی فضیلت اور اس کے سیکھنے سکھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
2. روحانی سکون:
قرآن اللہ کا ذکر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
(خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے)
جب انسان قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اسے ایک روحانی سکون نصیب ہوتا ہے جو دنیا کے کسی مادی وسیلے سے نہیں مل سکتا۔
3. علم و فہم میں اضافہ:
قرآن ایک عظیم علمی خزانہ ہے۔ اس میں تاریخ، سائنس، فلسفہ، اخلاقیات، قانون، اور حکمت کے وہ پہلو موجود ہیں جو انسان کی عقل و شعور کو جِلا بخشتے ہیں۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کا علم وسیع ہوتا ہے، اس کے اندر بصیرت پیدا ہوتی ہے، اور وہ بہتر فیصلے کرنے کے قابل بنتا ہے۔
4. اخلاقی تربیت:
قرآن ہمیں اعلیٰ اخلاق اپنانے کی تعلیم دیتا ہے: سچائی، عدل، صبر، تقویٰ، عفو و درگزر، حیا، انکساری، نرمی، شکرگزاری اور حسنِ سلوک جیسے اوصاف قرآن کے بنیادی اخلاقی پیغامات ہیں۔ قرآن مجید کی یہ تعلیمات فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہیں اور ایک بہترین معاشرہ تشکیل دیتی ہیں۔
قرآن مجید کا مطالعہ ادب، خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ درج ذیل آداب کا خیال رکھنا لازم ہے:
1. طہارت و پاکیزگی:
قرآن کو پاکی کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ باوضو ہو کر قرآن کی تلاوت کی جائے۔
2. ادب و احترام:
قرآن کو اونچے مقام پر رکھا جائے، اور ادب سے اس کو ہاتھ لگایا جائے۔
3. فہم و تدبر کے ساتھ تلاوت:
قرآن کو صرف ثواب کی نیت سے نہیں بلکہ سمجھنے اور عمل کی نیت سے پڑھنا چاہیے۔ اس کے لیے ترجمہ اور تفسیر کا مطالعہ کیا جائے۔
4. عمل کی نیت:
قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عزم ہونا چاہیے، صرف الفاظ دہرانے سے ہدایت حاصل نہیں ہوتی۔
5. استقامت اور پابندی:
روزانہ کچھ وقت قرآن کے مطالعہ کے لیے مخصوص کیا جائے۔ یہ عمل تسلسل اور اخلاص کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔
مطالعۂ قرآن ایک مسلمان کی بنیادی دینی، اخلاقی اور فکری ضرورت ہے۔ یہ انسان کو اس کے خالق سے جوڑتا ہے، زندگی کو بامقصد بناتا ہے، اور اس کے کردار، اعمال، اور رویے کو سنوارتا ہے۔ قرآن ایک مکمل ہدایت نامہ ہے جو ہر دور، ہر قوم اور ہر فرد کے لیے قابلِ عمل ہے۔ قرآن کے بغیر مسلمان کی زندگی ادھوری اور بے سمتی کا شکار ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی درست سمت میں گامزن ہو، اگر ہم دنیا میں امن، عدل اور فلاح چاہتے ہیں، اور اگر ہم آخرت کی کامیابی کے خواہاں ہیں، تو ہمیں قرآن کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ صرف تلاوت پر اکتفا نہیں بلکہ ترجمہ، فہم اور عمل کے ساتھ قرآن کو اپنانا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سیکھنے، سمجھنے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں عمل کرنے والا، اور قرآن کی روشنی دوسروں تک پہنچانے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین



تبصرہ لکھیے