600x314

رودادِ ورکشاپ، مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت – محمد احمد مہر

“مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت” کے عنوان سے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے زیرِ اہتمام دو روزہ ورکشاپ 24،25 جون 2025 بروز منگل اور بدھ کو اسلام آباد کے ہوٹل ہل ویو ایف-سیون میں منعقد ہوئی۔ جس میں ملک بھر سے دینی مجلات اور رسائل کے تیس کے قریب مدیران شریک ہیں۔ یہ اس سلسلے کی چوتھی سالانہ ورکشاپ ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ایک علمی و تحقیقی ادارہ ہے، جو بین الاقوامی مسائل سمیت اسلامی امور اور پالیسیوں پر تحقیق اور مکالمے کا اہتمام کرتا ہے، جبکہ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس اپنے نام اور خدمت کے حوالے سے عالمی سطح پر معروف ادارہ ہے۔ورکشاپ سے قبل منتظمین باقاعدہ رابطے میں رہے، پروگرام کی تفصیلات اور مقاصد سے مسلسل آگاہ کرتے رہے۔ پہلے دن کے تین سیشن ہوئے، اور پروگرام اپنے مقررہ وقت پر صبح نو بجے شروع ہوا۔ ہوٹل کے زیرِ زمین ہال میں نہایت سلیقے اور خوبصورتی کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ڈائس کے پیچھے ایک بڑا اور دیدہ زیب بینر آویزاں تھا، جس پر ورکشاپ کا عنوان، تاریخ، مقام اور میزبان اداروں کے نام درج تھے۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں شرکائے مجلس نے اپنا مختصر تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد سید ندیم فرحت صاحب (ریسرچ فیلو، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز) نے ابتدائی گفتگو فرمائی اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہنگامی حالات اور مسلح تصادم جیسے مواقع پر صحافت کی نوعیت کیا ہونی چاہیے اور صحافی و اہلِ قلم کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں؟ مزید فرمایا کہ اس ورکشاپ کا ایک مقصد یہ ہے کہ اہلِ علم ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں اور علمی و تحقیقی اشتراک کی راہیں ہموار ہوں۔

دوسرا لیکچر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی صاحب (ریجنل ایڈوائزر برائے شریعہ، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس) نے دیا۔ آپ نے ریڈ کراس اور ہلالِ احمر کی تحریک اور ان کی انسان دوست خدمات پر گفتگو کی اور تنظیم کے قیام، اغراض و مقاصد اور حالتِ جنگ و امن میں ادارے کے کردار کو واضح کیا۔اس کے بعد چائے کا وقفہ ہوا، جس کے دوران شرکاء نے باہمی تعارف اور علمی گفتگو جاری رکھی۔ منتظمین کی جانب سے مہمانوں کی سہولت کا بھرپور خیال رکھا جا رہا تھا اور اعلیٰ معیار کے کھانوں سے ضیافت کی گئی۔

دوسرے سیشن میں پہلا لیکچر جناب ثاقب جواد صاحب (عدلیہ سے منسلک) نے بین الاقوامی قانون انسانیت پر دیا، جو اکثر شرکاء کی دلچسپی کا خاص موضوع تھا۔ انہوں نے مدلل اور مؤثر انداز میں موضوع کی گہرائیوں کو اجاگر کیا اور مثالوں کے ذریعے پیچیدہ نکات کو آسان بنا دیا، جس سے شرکاء کو علم کی ایک منفرد دنیا سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔ ان کا لیکچر بین الاقوامی قانون کے مطالعے میں ایک رہنما روشنی ثابت ہوا۔

اس کے بعد جناب وقار بھٹی صاحب (ہیلتھ رپورٹر، دی نیوز) نے “انسان دوست صحافت کے ذریعے انسانی خدمت” پر لیکچر دیا اور اپنے تجربات اور آراء بیان کیں۔ مجموعی طور پر گفتگو مفید رہی، البتہ بعض نکات پر اختلاف بھی ہوا، جو مکالمے کا حسن ہے۔اس کے بعد نمازِ ظہر اور ظہرانے کا وقفہ ہوا، جس میں شرکاء نے کھانا تناول کیا اور مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ نماز کے بعد تیسرے سیشن میں پیچیدہ انسانی المیہ اور ہمہ جہتی تعارف کے عنوان پر ڈاکٹر یاسر ریاض صاحب (اقوامِ متحدہ کے امدادی نظم سے وابستہ) نے لیکچر دیا۔ انہوں نے حاضرین کو گفتگو میں شریک کیا اور سوالات کے ذریعے موضوع کی تفہیم کو مزید بہتر بنایا۔

آخر میں سید ندیم فرحت صاحب نے انسانی خدمت کے اداروں اور ان کے بنیادی اصولوں پر اسٹڈی سرکل کرائی، جس میں شرکاء نے بھرپور حصہ لیا۔ اس طرح پہلا دن مکمل ہوا اور اختتام پر چائے اور ماحضر سے تواضع کی گئی۔ دوسرے دن پہلے سیشن میں سید ندیم فرحت صاحب نے انسانی المیے میں انسان دوست خدمات کی رپورٹنگ اور تجزیے میں درکار احتیاطیں کے عنوان پر گفتگو فرمائی، جس میں موضوع کو حساسیت اور وضاحت سے بیان کیا۔ انسانی المیے کی رپورٹنگ کے اہم نکات انہوں نے آسان انداز میں سمجھائے اور ذمہ داری کا احساس اجاگر کیا۔

اس کے بعد جناب وقار بھٹی صاحب نے ہنگامی حالات میں معلومات کا حصول، انتخاب اور استعمال پر لیکچر دیا، جس میں معلومات تک درست رسائی، ان کے انتخاب کے اصول اور حساس معلومات کے استعمال کی احتیاط کو واضح کیا، تاکہ متاثرین کی عزت اور حقیقت دونوں برقرار رہیں۔ بعد کے سیشن میں خبر اور تجزیے کی مشق کرائی گئی۔ پانچ پانچ افراد کے گروپ بنا کر 300 الفاظ پر مشتمل اداریہ لکھنے کو کہا گیا۔ وقت پورا ہونے پر اداریے جمع کیے گئے۔ سید ندیم فرحت صاحب اور وقار بھٹی صاحب نے بعض اداریے پڑھ کر سنائے اور اصلاح فرمائی۔ میرے لکھے گئے اداریے کو خوشخطی اور پیشہ ورانہ معیار پر سراہا گیا۔

کھانے اور نماز کے بعد اختتامی سیشن ہوا، جس میں خصوصی طور پر ICRC کے ہیڈ آف ڈلیگیشن اور IPS کے چیئرمین جناب خالد رحمان صاحب شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز شرکاء کے تاثرات سے ہوا، جس میں نیک خواہشات اور مفید تجاویز پیش کی گئیں۔اس کے بعد ICRC کے ہیڈ آف ڈلیگیشن نے گفتگو کی اور ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی صاحب نے ترجمانی کی۔ ان کی گفتگو میں ریڈ کراس کی خدمات اور علمائے کرام سے رہنمائی و تعاون کی اپیل شامل تھی۔ جناب خالد رحمان صاحب نے جامع گفتگو فرمائی اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کام کی دعوت دی۔

پروگرام کے اختتام پر شرکاء کو اسناد اور تحائف دیے گئے اور گروپ فوٹو ہوا۔ ہم IPS اور ICRC کی انتظامیہ کو کامیاب ورکشاپ کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس پروگرام کو نافع بنائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment