ہوم << حُب الوطنی اور وطن پرستی میں فرق - سعد مقصود

حُب الوطنی اور وطن پرستی میں فرق - سعد مقصود

12495141_1011337965569789_919598589739283712_n حب الوطنی فطرت ہے اور وطن پرستی عصبیت۔ وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے. اللہ کے نبی ﷺ جب مکہ سے ہجرت کرنے لگے تو مکہ کی جانب دیکھ کر کہا کہ اے مکہ مجھے تُجھ سے بہت محبت ہے مگر تیرے باسی مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ یہ حُب وطنی کی ایک مثال ہے۔
وطن پرستی یہ ہے کہ وطن کے لیے اپنی دانست میں جو صحیح ہو، وہ کیا جائے چاہے وہ حرام اور اللہ کے قوانین کے خلاف ہو. یہ سوچ دراصل قوم پرستی یا وطن پرستی ہے، حب الوطنی نہیں، اس لیے اپنی محبت کا معیار صرف اور صرف اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے. وطن عزیز کو اللہ کے نام اور اس کے احکام کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اس لیے اس سے محبت اور اس کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے مگر تصور کو بھی ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ معیار حق اللہ رب العالمین کا حکم ہے۔ علامہ محمد اقبال وطن پرستی کے بجائے مسلم قومیت کے حامی تھے۔ ان کا تصور قومیت اسلامی معتقدات پر مشتمل ہے۔وہ کہتے ہیں،
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی
علامہ اقبال نے مارچ 1938ء میں ایک مضمون لکھا جس میں وطنیت کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی۔ اور بتایا کہ وہ کس قسم کی وطنیت کے مخالف ہیں. اس مضمون میں وطنیت کے سیاسی تصور سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
”میں نظریہ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا. مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتداء ہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں نیرنگی نظریہ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔“ آگے چل کر لکھتے ہیں، ” اگر بعض علماء مسلمان اس فریب میں مبتلا ہیں کہ دین اور وطن اس تصور کے ساتھ یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ سے آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔“
ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال وطنیت کے مغربی سے اسی تصور کے مخالف ہیں اور یہ مخالفت اس وجہ سے ہے کہ نظریہ براہ راست اسلامی عقائد و تصورات سے متصادم ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کا تصور قومیت ہی اصل میں پاکستان کی بنیاد ہے. وہ ایسے خطہ کے حامی تھے جس میں مسلمان اکثریتی علاقے مل کر ایک ملک بنائیں. اس حوالے سے مولانا حسین احمد مدنی سے ان کا مکالمہ اور اشعار تو مشہور زمانہ ہیں.
اس تمہید کا مقصد یہ تھا کہ ہم نئی نسل کے ذہن میں اس ملک کے حصول کا اصل مقصد بیان کریں اور اُسے وطن پرستی سے نکال کر امت مسلمہ کے تصور کی طرف لائیں اور بتائیں کہ حُب الوطنی فطرت ہے مگر کسی ایسی بنیاد پر اپنے ملک یا قوم کے حق اور محبت میں مبتلا ہونا کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے ٹکرائے، وہ غلط ہے۔ یہ ملک لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا، وہ قربانیاں ہمارے آبائو اجداد نے صرف اور صرف پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الاّ اللہ کی بنیاد پر دی تھیں، یہ نعرہ انھیں اس بات کا یقین دلاتا تھا کہ اگر اس راہ میں کٹ گئے تو یہ قربانی اللہ کے ہاں مقبول ہو گی. اس کے علاوہ کسی اور بنیاد پر آزادی کی بات کی جاتی تو شاید اتنی بڑی تعداد میں لوگ قربانیاں دیتے نہ خطے کے مسلمان یکجا ہوتے۔ اقوام عالم میں پاکستان کی انفرادیت اسی بنیاد پر ہے کہ اس کا قیام خالصتا نظریاتی بنیاد اور اسلامی قومیت کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ کو بڑے سادہ مگر تاریخی حقیقت پر مبنی انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان کی بنیاد اُسی روز پڑ گئی تھی جس دن برصغیر کی سرزمین پر پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا.
آج ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کیا اس ملک کا حصول اس لیے تھا کہ نوجوان نسل بھارتی گانوں کی دھن پر گلیوں بازاروں میں رقص کرتی پھرے؟ ایوان سیاست میں بیٹھے سیاست دان اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش نہ کریں؟ یہاں کرپشن، کمیشن، چوری، رشوت ستانی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو؟ وہ مائیں جن کی عزتیں نیلام ہوئیں، وہ بہنیں جن کی عصمتیں پامال ہوئیں، وہ بھائی جو سولی پر لٹکے، وہ شیر خوار بچے جن کو نیزوں پر اُچھالا گیا، کیا ان سب نے اس لیے قربانیاں دیں؟ نہیں ہرگز نہیں، یہ سب قربانیاں صرف اور صرف اس لیے تھیں کہ ایک ایسا ملک وجود میں آئے کہ جہاں امن ہو، خوشحالی ہو، جہاں نیکی کرنا آسان اور برائی کرنا مشکل ہو، جہاں عدل ہو، انصاف ہو، جہاں باخوت و بھائی چارہ ہو، جہاں انسان انسان کا دشمن نہیں خیر خواہ ہو، جہاں امیر غریب سب برابر ہوں. ایک ایسے پاکستان اور ایک ایسے آئیڈیل خطے کے لیے لوگوں نے قربانیاں دیں.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آگے بڑھ کر اپنے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کریں۔ اس کا حقیقی مقصد نئی نسل کو بتائیں، جو صرف چند جھنڈیاں لگانے اور بائیک کا سائلنسر نکال کر خوشی کا اظہار کرنے کو ہی آزادی سمجھتی ہے. اس نسل کو مثبت سمت میں لگانا اور مقصد وجود سے آگاہ کرنا میرا اور آپ کا فرض ہے۔ آئیے سب مل کر وطن عزیز کی تعمیر میں حصہ لیں اور ہر میدان میں اس کا نام کو روشن کریں۔ اپنے ووٹ کی طاقت سے ان افراد کو اس ملک کی قیادت سونپیں جو اس ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں اور قیام پاکستان کے مقصد کو پورا کریں.
میر عرب ﷺ کو آئی تھی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

Comments

Click here to post a comment