ہوم << ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو کا دورہ جبی شاہ دلاور - ملک محمد فاروق خان

ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو کا دورہ جبی شاہ دلاور - ملک محمد فاروق خان

ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو کا تعلق لاڑکانہ سندھ سے ہے اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کیمپس میں پروفیسر ہیں، انتھروپالوجسٹ ہیں، جو مذہب،تصوف،آرٹ ، راک آرٹ ،ثقافت،فوک اور اسلامی طرز تعمیر پر کام کررہے ہیں۔ ان کے صوفی ازم،ہندو اور سکھ ثقافت پر تحقیقی مضامین قومی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں،ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو چٹانوں پر ملنے والے نشانوں پر بھی کتاب لکھ چکے ہیں، 17 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔پوٹھوار پر مزید 10 کتابیں لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سندھ،ںلوچستان ،کے پی کے،گلگت بلتستان اور پنجاب میں تحقیقی کام کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو متحرک ،انتھک،خوش مزاج،نخرے اور تکبر سے ماورا،انسان دوست،تحقیقی جنون سے مالا مال،پہلی ملاقات کے ابتدائی لمحات میں ہی پرانی شناسائی کا گمان ہونے لگتا ہے، بہترین یاداشت کی حامل شخصیت ،میٹھا لہجہ، اسلام آباد کی پر آسائش زندگی سے دشوار گزار انجانے اور لمبے راستوں کا مسافر بننا آسان نہیں ہوتا لیکن ان علاقوں کی ثقافت تک پہنچنے کے لئے شوق تحقیق اور جنون سے سرشار ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو ہی ہو سکتے ہیں جو سندھ لاڑکانہ کے ہوتے ہوئے بھی اپنے ذاتی خرچ اور قیمتی وقت کی قربانی دیتے ہوئے پوٹھوار کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں تک پہنچ رہے ہیں۔وہ نہ صرف صاحب کتاب ہیں ،محقق ہیں،بلکہ پروفیشنل فوٹوگرافی کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہیں،ان کی آنکھ میں عجب کشش ہے جو صرف اپنے تحقیقی ہدف پر ہی پڑتی ہے اور وہ اسے کیمرے سے تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں۔

ان دیہاتوں ،قصبوں،گوٹھوں کے وہ تاریخی شواہد سامنے لانا جو ان علاقوں میں غیر اہم یا علاقائی منظر نامے پر تو موجود ہیں لیکن وہ پہچان سے محروم ہو چکے ہیں، انہیں قومی پہچان دینا اور ایسے ثقافتی ورثے جب کسی قومی اخبار،کسی کتاب یا ڈیجیٹل میڈیا کے زینت بنتے ہیں اور ان کی پہچان کو پھر زندگی ملتی ہے تو حیرتیں جنم لیتی ہیں وہ ثقافتی ورثے پھر سے اہم ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو پوٹھوار کے ثقافتی ورثے سے گہری شناسائی رکھتے ہیں،پوٹھوار کے منہدم ہوتے ثقافتی آثار اور مقامی تاریخ گو سے عمر کے آخری حصے میں ان سے تاریخی شواہد اکٹھا کرکے انہیں مستند تاریخی میں بدلنا ، دیہاتوں کے یہ تاریخ گو ان علاقوں کی تاریخی میراث ہوتے ہیں لیکن انہیں کھوجنا،تلاشنا اور ان کے سینے میں پوشیدہ تاریخ کو جانچنا، جاننا اور اسکی تصدیق کرکے مستند کرکے کتاب کے حوالے کر کے نئی نسل کو ان تاریخی شواہد سے روشناس کرانا جو تیزی سےمٹ رہے ہیں یقیناً ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو کے تحقیقی جنون سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔

ملتان خورد سے ملک محمد فاروق خان اور طارق ملک نے ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو کا ملتان خورد میں استقبال کیا، جبی شاہ دلاور ضلع تلہ گنگ کی یونین کونسل اور معروف تاریخی گاؤں ہے۔ جبی شاہ دلاور پہنچےتو دلاور شاہ اور منصور شاہ استقبالِ کے لئے موجود تھے جو تحقیقی ٹیم کے مقامی معاونین کے طور پر شامل رہے دلاور شاہ اور منصور شاہ کی رہنمائی میں مختلف جگہوں تک آسانی سے پہنچے جہاں سے ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو نے ضروری فوٹوگرافی کی اور معلومات حاصل کیں۔ دلاور شاہ نے پوری ٹیم کے لئے دوپہر کے پر تکلف کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا، وہ بھی دیسی مرغے کے ساتھ، کھانے کے وقفے کے بعد طارق ملک کا کلاس فیلو طارق جمیل بھی ٹیم کا حصہ بنا۔

ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو نے جبی شاہ دلاور کے تاریخ گو بابا خورشید بھٹی جن کی عمر تقریباً 90 سال ہے کا انٹرویو کیا اور جبی شاہ دلاور کی مطلوبہ معلومات حاصل کیں،خورشید بھٹی کی حیرت انگیز یاداشت نے سب کو متحیر کیا۔ مراد شاہ کے شیش محل میں پرانا لکڑی کا خوبصورت دروازہ شیش محل کے مخصوص ایریا میں اس طرح چنا گیا جس طرح انار کلی کو دیوار میں چننے کی روایت ہے ، مراد شاہ کے شیش محل میں مخصوص انداز میں دروازے کو محفوظ کرنے سے ان کے جمالیاتی ذوق کی بھی نشاہدہی ہوتی ہے۔

خان آف جبی کی پر شکوہ حویلی جو اک عہد تک عزت و طاقت کا نشان رہی اب زوال پزیر ہو چکی ہے جبکہ مراد شاہ کا شیش محل جبی شاہ دلاور کے تعمیراتی حسن میں خوبصورت اضافہ ہے۔حسنین ملک کو دن بھر انتظار کی اذیت سہنے کے باوجود شاہ محمد والی میں الوداعی کڑک چائے پلانے کا شرف حاصل ہوا جس کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار علی کلہوڑو کا جبی شاہ دلاور کا تحقیقی سیشن اختتام پزیر ہوا۔