رمضان المبارک کی رخصتی قریب ہے۔ وہ مہمان جس کی آمد پر دل خوشی سے جھوم اٹھے تھے، اب ہم سے الوداعی سلام لے رہا ہے۔ اس کی برکتوں، رحمتوں، اور مغفرت کی گھڑیاں جو ہمیں میسر آئیں، اب اختتام پذیر ہو رہی ہیں۔
یہ وہی رمضان ہے جس کی آمد پر چہرے چمک اٹھے تھے، دل مسرور ہو گئے تھے، اور فضائیں ذکر و اذکار سے مہک رہی تھیں۔ وہی رمضان جس نے ہمیں روحانی پاکیزگی عطا کی، اب ہمیں تنہا چھوڑ کر جا رہا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ کل ہم اس کے استقبال کے لیے چاند دیکھ رہے تھے اور آج ہم اس کو الوداع کہنے کے لیے چاند کی طرف نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ہائے! کیسی سخت ہے یہ جدائی، کیسا درد ناک ہے یہ فراق!
کاش! ہمیں معلوم ہو جاتا کہ ہم میں سے کون اس ماہ کی برکتوں سے فیض یاب ہوا اور کون ان نعمتوں سے محروم رہ گیا۔ کس کی راتیں عبادت میں مقبول ہوئیں اور کس کی دعائیں رد کر دی گئیں؟ کس نے اپنے رب کو راضی کر لیا اور کون ابھی تک اس کے در پر سوالی بننے میں ناکام رہا؟
اے ہمارے رب! ہم تیرے کرم کے طلب گار ہیں۔ تُو ہی اس جدائی کے صدمے کا مرہم ہے۔ تُو ہی ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن پر تیری رحمت نازل ہوتی ہے۔
دنیا کا دستور یہی ہے – وقت چلتا رہتا ہے، لمحے پلٹ کر نہیں آتے، ہر گزرتا دن ہمیں موت کے قریب کرتا ہے، اور ہماری زندگی کا سرمایہ کم ہوتا جاتا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو وقت کے گزرنے کے ساتھ اللہ کے قریب ہوتا جائے اور اس کی ناراضی سے بچنے والا بن جائے۔ یہی اصل کامیابی ہے!
تبصرہ لکھیے