ہوم << ہار جیت کا لبرل تصور- نوید احمد جرار

ہار جیت کا لبرل تصور- نوید احمد جرار

ہار اور جیت کے جس تصور کی بنیاد لبرل دانشوروں نے رکھی ہے، وہی اصل میں سراسر خام خیالی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد لبرل اور سیکولر طبقے کے نام نہاد دانشوروں نے طوفانِ بدتمیزی برپا کیا کہ حماس نے حملہ کیوں کیا۔ شاید ان کا خیال تھا کہ یہ بھی روایتی "بے خبر مجاہد" ہوں گے، جن کی بڑی بڑی داڑھیاں ہوں، پرانی طرز کے عمامے اور اجڈ لہجے ہوں، اور جو دنیا و علم سے کٹے ہوئے کردار ہوں۔ لیکن یہ ان کی خوش فہمی تھی، جو دھواں بن کر اڑ گئی، جب انہوں نے دیکھا کہ حماس کے مجاہدین ان کے تخیلات کے برعکس ہیں۔

حماس کے جانباز نہ صرف ذہانت اور شعور کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں بلکہ دینی اور دنیاوی علوم میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ وہ پینٹ، شرٹ اور ٹائی پہنتے ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی سے گہری واقفیت رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا کے بہترین استعمال سے دنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز، پیغام رسانی اور جدید اندازِ فکر اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض روایتی جنگجو نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے نظریے کے پرچم بردار ہیں۔

دوسری جانب، مغربی اثر و رسوخ نے مسلم نوجوانوں کو ایک عرصے سے گمراہ کر رکھا تھا۔ مغربی آزادی فیشن بن چکی تھی، اور نوجوان نسل کارل مارکس، لینن اور چی گویرا جیسے نظریات کے پیچھے بھٹک رہی تھی۔ مگر حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ نے یہ منظر نامہ یکسر بدل کر رکھ دیا۔ وہی نوجوان جو چی گویرا کو اپنا ہیرو مانتے تھے، آج حماس کے رہنماؤں کو اصل انقلابی اور ہیرو تسلیم کر رہے ہیں۔

دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ حماس کی جدوجہد نے نہ صرف مسلم ممالک بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی نوجوان نسل کو متاثر کیا۔ وہ فلسطینی رومال کو فخر سے گلے میں ڈال کر اپنی یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کا اسٹائل آج عالمی سطح پر نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن چکا ہے۔

یہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ رہی بلکہ انسانی دلوں اور دماغوں میں ایک انقلاب برپا کر گئی۔ اسرائیلی قیدیوں کی محبت میں گرفتار ہونے والے قصے دنیا کے لیے حیرت کا باعث بنے۔ وہ اسرائیلی خواتین جو قیدی تھیں، رہائی کے بعد تل ابیب میں کہتی نظر آئیں کہ جسم تو اسرائیل میں ہے، لیکن دل غزہ میں رہ گیا ہے۔ یہ عجیب جنگ تھی، جہاں قیدی دشمن کے اخلاق اور انسانیت کے معترف ہو گئے۔

غزہ کی تباہ حال سرزمین پر لوگوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے، اور شہیدوں کے خون سے سینچا ہوا عزم و حوصلہ پوری دنیا کو متاثر کر گیا۔ اسماعیل ہانیہ کا وہ نعرہ:
"قال القائد اسماعیل
ھذا النہج ولاتبدیل
لو خضعت کل دنیا
لن نعترف بإسرائیل"
آج غزہ کے گلی کوچوں، مساجد، اور یہاں تک کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے بھی گونج رہا ہے۔

یہ تبدیلی کم نہیں۔ آج ہر نوجوان ابو عبیدہ کے انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے، نقاب اوڑھتا ہے، اور فخر سے کہتا ہے: "أنا دمي فلسطيني"۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ حماس نے محض ایک جنگ نہیں لڑی بلکہ ایک نظریہ دیا ہے، جسے دنیا قبول کر رہی ہے۔

حماس نے اس جنگ سے عزت، وقار، اور حمایت حاصل کی، جبکہ اسرائیل اپنی تمام تر طاقت کے باوجود کچھ حاصل نہ کر سکا۔ آج حماس کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور دنیا بھر کے دلوں میں ان کی محبت زندہ ہے۔