ہوم << آنکھوں کے نام ایک خط- علی عبداللہ

آنکھوں کے نام ایک خط- علی عبداللہ

عزیزم!
آنکھوں کے راستے دل تک پہنچنے کا ہنر کسے آتا ہے؟ شاید ان لوگوں کو جو خاموشی میں کہانیاں سننا جانتے ہیں۔ آنکھیں بولتی نہیں، مگر جو کہتی ہیں، وہ الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

کہتے ہیں کہ "آنکھیں دل کا دروازہ ہیں" – وہ دروازہ جہاں سے محبت کی پہلی کرن اندر آتی ہے اور غم کی گہری کہانیاں باہر نکلتی ہیں۔ یہ وہ آئینہ ہیں جن میں خوشی کے منظر بھی جھلکتے ہیں اور درد کے سائے بھی۔ لفظوں کے بغیر بات کرتی یہ آنکھیں، خاموشی سے وہ سب کچھ بیان کر جاتی ہیں جو دل چھپا نہیں سکتا۔ ان کے اندر جذبوں کے سمندر چھپے ہوتے ہیں، کبھی خوشیوں کی جھلملاتی لہریں اور کبھی غم کی گہری موجیں۔ کسی نے خوب کہا تھا،

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

یہ حیرت ہی تو آنکھوں کی اصل طاقت ہے۔ یہ حیرت ہمیں حقیقت اور خوابوں کے درمیان وہ باریک لکیر دکھاتی ہے جسے ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ لیکن ذرا سوچو کہ کیا کچھ ایسا بھی ہے جسے آنکھ نہیں دیکھ سکتی، جبکہ وہ موجود بھی ہو اور عام آنکھ سے دیکھے جانے کے قابل بھی؟

آنکھیں بڑی عجیب شے ہیں- یہ کائنات کے رنگوں اور قدرت کے حسن کی امین ہیں۔ ان کے بغیر خوبصورتی بے معنی ہو جاتی ہے اور جذبات کا اظہار ادھورا رہتا ہے- محبت، حیرت، درد اور خوابوں کے ہزار رنگ اپنے اندر سموئے ہوئی آنکھیں، صرف منظر نہیں دیکھتیں، بلکہ بیتے زمانوں کی داستانیں بھی سناتی ہیں۔ ان کا خاموش مکالمہ فلسفے اور شاعری کے صدیوں پرانے مباحث کا محور رہا ہے۔ محبت کی پہلی جھلک ہو یا غم کا آخری لمحہ، آنکھیں سب کچھ اپنے اندر سمو لیتی ہیں۔

تم یقیناً جانتے ہو گے کہ آنکھیں ہمیشہ سے انسانی جذبات و کہانیوں کا سب سے گہرا محور رہی ہیں۔ الکیمسٹ کے سنتیاگو کے لیے یہ آنکھیں محبت کی زبان میں بولتی ہیں، خزانے کی کنجی بن جاتی ہیں، اور سفر کو مقصد سے جوڑ دیتی ہیں:
"When he looked into her dark eyes, and saw that her lips were poised between a laugh and silence, he learned the most important part of the language that all the world spoke...." مگر یہ آنکھیں ہمیشہ محبت کی بات نہیں کرتیں۔ کبھی یہ میڈوسا بن کر جھانکنے والوں کو پتھر بنا دیتی ہیں، کبھی زلیخا کی ہوس زدہ صدا میں “ہیئت لک” کی گونج پیدا کرتی ہیں، اور کبھی نظر بد بن کر تعویذ، ٹوٹکے، اور دعاؤں کی داستانیں جنم دیتی ہیں۔

شیکسپیئر کے الفاظ میں ان آنکھوں میں فریب کی کرن بھی تو ہے:
"And those eyes: the break of day,
Lights that do mislead the Morn."
عاشق کے لیے آنکھیں وہ زبور ہیں جنہیں پڑھنا عشق کا عروج ہے- یہی آنکھیں فیض کی محبت کا وہ مرکز بنیں، جہاں ہر شے فنا ہو گئی،
"تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔" اور کسی نے آنکھوں کو دیکھ کر بے خودی میں صدا دی،
"آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا۔"

قدیم شاعری میں تو یہ آنکھیں میدانِ جنگ سے بھی زیادہ طاقتور تھیں- کسی نے کہا تھا کہ،
"رجل وما استسلمتُ قبلُ لفارس
وما لي أمام عيونها مُستسلمُ
أعود مُنتصراً بكلّ معاركي
وأمام عينيها البريئة أُهزمُ؟"

میں وہ مردِ میدان تھا جسے کسی شہسوار نے شکست نہ دی، مگر وہ آنکھیں ایسی تھیں کہ میرے حوصلے کو ڈھیر کر گئیں۔ ہر معرکے سے سرخرو لوٹا، مگر ان معصوم آنکھوں کے سامنے شکستہ ہو گیا-

یہ تمام باتیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن کیا تم نے کبھی اس بلائنڈ سپاٹ کو سوچا ہے جو آنکھ کی نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے؟ وہ مقام جہاں روشنی کا سراغ مٹ جاتا ہے، مگر دماغ اپنے رنگین تخیل سے اس خلا کو ایسا پر کرتا ہے کہ جیسے وہ منظر خود آنکھوں کے سامنے ہو۔ یہ محض ایک نظر کا کٹاؤ نہیں، بلکہ ایک گہرا راز ہے — کیا یہ تخیل ہے جو آنکھ کی خاموشی میں گم ہوتا ہے؟ یا کیا آنکھ خود تخیل کی زبان سے گفتگو کرتی ہے؟

میں جب اس پر غور کروں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے سائے ہیں۔ جب حقیقت کا پردہ آنکھ کے سامنے کم پڑتا ہے، تو تخیل اپنی نرم کرنوں سے آنکھ کو نئے راستوں پر لے آتا ہے، اور جب تخیل کی پرواز تھک کر نیچے آتی ہے، تو حقیقت پھر سے اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ ایک منفرد رشتہ ہے، جہاں آنکھ محض دیکھنے کی نہیں، بلکہ روح کی گہرائیوں تک رسائی کا دروازہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آنکھ خود کو تخیل کی نرم گرفت میں چھوڑ دیتی ہے، اور تخیل دنیا کو اپنی حقیقتوں میں ڈھال لینے کی طاقت کو محسوس کرتا ہے-

میرے نزدیک انسان کا سب سے بڑا ہنر یہی ہے کہ وہ کسی کی آنکھوں میں جھانک کر اس کے دل کی گہرائیوں کو سمجھ سکے- کیا اس سے بڑا بھی کوئی ہنر ہو سکتا ہے؟

تمہارے جواب کا منتظر ہوں، تاکہ ایک بار پھر تمہاری آنکھوں کی دنیا کو محسوس کر سکوں۔

تمہارا اپنا۔۔۔
عبداللہ

ٹیگز

Comments

علی عبداللہ

علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے آئی ٹی ٹرینر ہیں۔ دو دریاؤں کی سرزمین جھنگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق ہے۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں. مختلف ویب سائٹس اور قومی و بین الاقوامی اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں۔

Click here to post a comment