وہ اچھی بھلی کوکنگ کرتی اور مزیدار کھانے بناتی، ان کی ویڈیو ریکارڈ کرتی اور انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کردیتی تاکہ مزید لوگ بھی مستفید ہو سکیں۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اکاونٹ کی ریچ اچھی ہوئی اور اسے مختلف پلیٹ فارمز سے تشہیر (Ads) کی دعوت ملی جس سے اس کی آمدنی بھی شروع ہو گئی۔ گھر کا نظام اچھا چلنے لگ پڑا جس سے سب گھر والے خوش تھے۔ مگر یہاں ایک بڑی تبدیلی محسوس ہونے لگی کہ ''مزید اور مزید'' کی دوڑ شروع ہو گئی۔ اب محنت اور لگن کے ساتھ دولت کی دوڑ بھی لگ گئی۔ زندگی ضرورتوں سے بڑھ کر آسائشوں کی راہ پر گامزن ہو گئی، جنہیں پورا کرنے کے لیے نت نئے تجربات شروع ہوگئے۔ پہلے جو آواز پردے کے پیچھے سے آتی تھی، اب پردے کے سامنے سے آنے لگی۔ حجاب کی جگہ ڈوپٹہ اور پھر آہستہ آہستہ وہ بھی سرکنا شروع ہوگیا۔ ناظرین نے بھی اب کھانے کی بجائے ڈریسنگ کی تعریفیں کرنا شروع کردیں اور آمدنی میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ہو چکا تھا کیونکہ اب گھریلو عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں نے بھی ویڈیوز دیکھنا شروع کر دی تھیں۔
آخرکار ایک دن شدید گرمی میں پنکھے کی تیز ہوا سے ڈوپٹہ ایسا اڑا کہ پھر دوبارہ سر پر نہ آیا اور اب کھانے کی بجائے کپڑوں، میک اپ اور مختلف قسم کے فیشن پر توجہ شروع ہوگئی۔ یوں ایک مشرقی روایات کا حامل گھرانہ اپنی اقدار کھو بیٹھا۔ ہمارے جیسے ترقی پذیر معاشرے میں اسے ''فیملی وی لاگنگ'' کہتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے ویلاگنگ کا مطلب اپنے خیالات و اظہار کو ویڈیو کی شکل میں لانا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں تک پہنچانا ہے۔ ویلاگنگ کے منفی اور مثبت پہلو دونوں ہوتے ہیں، اور یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس انداز میں استعمال کرتا ہے۔ فیملی ویلاگنگ کو اگر مثبت انداز میں چلایا جائے تو یہ ایک تربیتی ادارہ بن سکتا ہے، جس سے بچوں اور خواتین کی تربیت کی جا سکتی ہے۔ گھر بیٹھے نت نئے ہنر سیکھے اور سکھائے جا سکتے ہیں۔
اگر وی لاگنگ کو جسمانی و دولت کی نمود و نمائش کے لیے استعمال کیا جانے لگے جیسا کہ ہمارے معاشرے میں ہوتا جا رہا ہے تو کچی ذہنیت کے لوگ سکرین پر جو کچھ دیکھتے ہیں، وہی چاہتے ہیں جب کہ سکرین اور حقیقی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور وہ حقیقت سے بہت دور ہوتا ہے۔ اس سے معاشرے میں ڈپریشن، انگزائٹی، عدم مساوات اور احساس کمتری جیسے مسائل جنم لیتے ہیں اور گھروں کے گھر تباہ ہو جاتے ہیں. ہمارا خاندانی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے. ایک عام گھر کی خواتین و مرد حضرات ایک دوسرے سے وہی کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں جو وہ سکرین پر دیکھ رہے ہوتے ہیں. اب ایک لڑکی اپنے 25,27 سالہ خاوند سے وہی امید رکھ رہی ہوتی ہے جو سکرین پر 70 سالہ فرد کے پاس ہوتا ہے. ایسی ہی صورتحال مرد حضرات کی بھی ہے وہ بھی اپنی گھریلوں خاتون سے وہی کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں، جو وہ سکرین پر کسی ایکٹر یا فیملی ویلاگزر کے پاس دیکھ رہے ہوتے ہیں. کہاں ایک طرف سارا دن گھر کے کام کاج اور دوسری طرف نوکر چاکر، خود صرف میک اپ کرنا اور سکرین پر دکھنا ہے بس. فیملی ویلا گنگ میں ہر وقت ہنسی مزاح، گھومنا پھرنا اور مہنگی شاپنگ دکھائی جاتی ہے جبکہ حقیقی رویوں میں اتار چڑھاؤ بھی آتا ہے. ہر وقت گھومنا پھرنا ممکن نہیں ہوتا، بڑا سرمایہ چاہیے ہوتا ہے. یہاں سے پھر دوریاں پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں. اپنے اردگرد سب کچھ بے ضرر اور فضول سا لگتا ہے ، اور یوں لگتا ہے کہ میں اس فرد کے ساتھ فٹ نہیں ہوں، اور یوں بربادی کا آغاز ہو جاتا ہے جبکہ حقیقی زندگی سکرین والی لگتی ہے جو الٹ سسٹم ہے۔
چونکہ فیملی ویلاگزر کے پاس دکھانے کے لیے کوئی خاص مواد (Content) تو ہوتا نہیں، تو آج کل پاکستانی فیملی ویلاگزر نے ایک کام شروع کر رکھا ہے کہ پہلے دوست بنتے ہیں، دنیا کو نظرآتے ہیں، پھر لڑائی کرتے ہیں، ایک دوسرے کے راز برسربازار فاش کرتے ہیں ، ٹریفک حاصل کرتے ہیں اور پھر صلح کی جانب چلے جاتے ہیں. ایسا ہی کبھی پاکستان میں اسٹیٹ ایڈوائزر کیا کرتے تھے کہ پہلے دو بھائی یا دوست مل کالونی کٹنگ کرتے تھے، جب سارے پلاٹ بک جاتے تو تب بہنیں وراثت میں سے حصہ لینے کھڑی ہوجاتی تھیں جو کہ مکمل منصوبہ بندی سے ہوتا تھا . یوں نا جانے کتنے ہی خاندانوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی چند ہی دنوں میں فراڈ کا شکار ہوجاتی تھی. ایسے ہی فرضی لڑائی جھگڑے اور پھر صلح فیملی ویلاگزر کررہے ہیں. تمام تر حربوں اور نمود و نمائش کے بعد جب لائیکز اور ویوز ایک جگہ جامد ہوجاتے ہیں تو اگلا مرحلہ اپنی بہن و بیوی کو دیکھانے کا آ تا ہے. اس سے اگلا مرحلہ ''لیک ویڈیوز'' کا آتا ہے، پھر ایک دوسرے پر الزامات لگائے جاتے ہیں. فلاں نے بنائی فلاں نے لیک کی اور معاشرے کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں، اور یہ ٹرینڈ خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، جو کہ معاشرے کے لیے زہر قاتل بن چکا ہے۔ اگر فوری طور پر اس پر آواز بلند نہ کی گئی تو یہ ایک ایسا زہر بن جائے گا جو معاشرتی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا۔ انتظامی اداروں کو فوراً حرکت میں آنا ہوگا اور معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کو آگے بڑھ کر مثبت فیملی ویلاگنگ کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر ماحول فراہم کر سکیں۔ بقول اقبال
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ
تبصرہ لکھیے