ہوم << تاریک مادہ اور جنات - عبداللہ طارق سہیل

تاریک مادہ اور جنات - عبداللہ طارق سہیل

ادھر ہمارے اہل نظر ملک کو سری لنکا بنانے کی تدبیریں سوچنے میں ہمہ تن مصروف ہیں اور ادھر یورپ امریکہ میں ایک نئی کائناتی کھوج پر کام شروع کر رہا ہے۔ عالمی سائنسدانوں نے تاریک مادے DarK Matter کا سراغ لگانے کیلئے ایک بہت بڑی مشین لکس زیپلینLax Zeplin بنا ڈالی ہے جس نے کام بھی شروع کر دیا ہے۔ یہ تاریک مادہ بھی عجوبہ شے ہے۔

ہے تو یہ مادہ‘ لیکن یہ دکھائی دیتا ہے نہ سجھائی دیتا ہے۔ حالانکہ مادے کی تعریف ہی یہ ہے کہ اسے حسیات کی مد سے جانا جا سکے۔ جو شے حسیات میں نہ آئے اور لیبارٹری بھی اس کی پکڑ نہ کر سکے وہ گویا ہے ہی نہیں‘ لیکن کالے مادے نامی اس کالی بلا نے سائنس کا یہ بنیادی تصور ہی بدل ڈالا ہے۔ کوئی پوچھے گا کہ اگر یہ مادہ حسیات کے دائرے میں نہیں آتا اور لیبارٹری کی پکڑ سے بھی باہر ہے تو پھر کیسے پتہ چلا کہ یہ موجود ہے۔ دراصل اس کا پتہ تب چلا جب معلوم ہوا کہ کائناتیں‘ کہکشائیں اور سیارے کشش ثقل کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور فزکس کے قاعدے قرینے توڑ رہے ہیں۔ اس طرح سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ کچھ ہے جو ان سیاروں کی گردش پر اثر ڈالتا ہے اور اس کے بعد مزید پتہ چلا کہ ایک کالی توانائی Dark Energy بھی ہے۔ پھیلتی بھاگتی کہکشائوں کو دراصل اسی کالے مادے نے جوڑ رکھا ہے۔ محض کشش ثقل یعنی گریویٹی ہی کافی نہیں ہے حالانکہ اب تک تصور یہی تھا

ہیں کشش باہمی سے قائم نظام سارے

سائنسدانوں کو زیادہ حیرت تب ہوئی جب انہیں پتہ چلا کہ کائنات کا زیادہ تر حصہ اس معروف مادے کے بجائے اصلی تاریک مادے پر مشتمل ہے۔ جو ہمیں نظر آتا ہے نہ محسوس ہوتا ہے۔کائنات کو اسی نے تھام رکھا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے کہ زمین و آسمان کو ہمارے سوا کس نے تھام رکھا ہے۔ بہت عرصہ لوگ سوچتے رہے کہ تھام رکھا ہے‘ کیا مراد ہے؟ اب تھام رکھنے کی کیفیت کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی۔ پوری کائنات میں 27 فیصد مادہ یہی کالا مادہ اور کل توانائی کا 68 فیصد یہی کالی توانائی ہے۔

اسی طرح یہ ’’عقیدہ‘‘ بھی ختم ہوا کہ ساری کائنات ان 116 عناصر سے بنی ہے جو ہمارے پیریاڈک ٹیبل میں شامل ہیں۔ ظاہر ہے یہ آکسیجن‘ ہائیڈروجن‘ کاربن‘ لوہا‘ سونا‘ چاندی‘ سنکھیا‘ ہائٹروجن‘ یورینیم وغیرہ اس کالے مادے کے عناصر نہیں ہیں۔ وہاں کچھ اور ہی معاملہ ہوگا اور اس مادے کے قانون بھی معلوم اور معروف مادے کے قانون سے کچھ الگ ہونگے۔ یعنی ہم نے جو سمجھ لیا تھا کہ ہم نے مادے کو اور اس کی ماہیت کو معلوم کر لیا ہے وہ غلط تھا۔ ایک نیا مادہ اور نکل آیا ہے اور ایسا انوکھا ہے کہ اس کے ’’پارٹیکل‘‘ زمین سمیت جملہ سیاروں کے آرپار نکل جاتے ہیں اور معلوم مادے کے ایٹم کے اندر بھی گھس جاتے ہیں۔ عقل کا پٹڑاتو محض اسی بات نے کر دیا۔

علم تو کبھی مکمل ہوتا ہی نہیں۔ بہت زیادہ ماضی بعید کی بات نہیں ہے کہ جب اس دور کے سائنسدان اور فلسفی کائنات میں کل چار عناصر کو مانتے تھے‘ مٹی‘ ہوا‘ آگ اور پانی اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی عنصر نہیں تھا‘ بلکہ یہ سب عناصر کا مجموعہ تھے۔ آج پھر یہ خیال ہے کہ ہم علم کی انتہائوں کو چھو رہے ہیں‘ لیکن کیا پتہ دراصل ہم ابھی علم کی ابتدائوں کی دہلیز پر ہی سر پٹخ رہے ہیں۔ آج کھرب ہا کھرب کہکشائوں سے بھری کائنات میں کیا ہمارے اس ننھے منے سیارے‘ کرۂ ارض کی حیثیت ریت کے ایک ذرے جتنی بھی تو نہیں ہے۔ پھر اس پر رینگتے دوٹنگے اور اس کے مبلغ علم کی اوقات کیا اور معلوم ہے کہ ہر کہکشاں میں کھربوں کھرب سورج‘ چاند‘ ستارے‘ سیارے بلیک ہول اور نہ جانے کیسے کیسے اجرام سماوی سمائے ہوئے ہیں۔

ایک شئے اور بھی ہے جسے انسداد مادہ کا نام دیا گیا ہے یعنی اینٹی میٹر ۔یہ وہ شے ہے جو مادے سے ٹکرا کر اسے فنا کر دیتی ہے۔ لیجئے‘ یہ عقیدہ بھی فناہوا کہ مادہ پیدا کیا جا سکتا ہے نہ فنا ہو سکتا ہے۔ ہم تو کہتے ہیں اللہ نے مادہ پیدا کیا اور اسے فنا بھی کر سکتا ہے‘ لیکن فلسفی کہتے ہیں کہ نہیں مادہ شروع سے ہے۔ شروع سے کیا مراد ہے؟ یہ ان فلسفیوں کو نہیں معلوم‘ ہمیں کیا بتائیں گے۔

شروع سے فقط اللہ کی ذات ہے۔مادہ نہ تو خود بخود ہے نہ شروع سے ہے۔ اسے اللہ نے پیدا کیا۔ پیدا کرنے سے مراد غائب سے وجود میں لانا ہے۔ اللہ‘ بدیع السموٰات والارض۔ دستیاب چیزوں سے نئی شے پیدا کرنا صنعت بدیع میں نہیں آتا۔ چلیے اسے چھوڑیئے‘ یہ سائنس کی باتیں ہیں‘ وہی انہیں سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے پلے پڑنے کی نہیں۔ ہم تو محض ان کی ’’خبر‘‘ پڑھ سکتے ہیں‘ وہ ہم نے پڑھ لی‘ لیکن اس خبر کے اندر سے ایک اور سوال نکلا۔

یورپ‘ امریکہ میں تو لوگ اب مانتے ہیں‘ لیکن ہمارے ہاں کے سیانے جو یورپ‘ امریکہ والوں سے بھی‘ بزعم خود زیادہ سیانے ہیں‘ جنات کے وجود کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ جو چیز اپنا وجود ثابت ہی نہیں کرسکتی نہ نظر آتی ہے نہ پکڑی جا سکتی ہے وہ کیسے موجود ہو سکتی ہے۔ تو جناب کالا مادہ تو جنات سے بھی بڑھ کر ’’غائب‘‘ ہے‘ آپ نے اسے تومان لیا‘ جنات سے انکار کیا‘ جب کہ اس کے ’’ماحولیاتی شواہد‘‘ ہر جگہ ہیں‘ ہر دور میں رہے ہیں۔ ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ اکثر دعوے فراڈ اور اکثر جناتی عالموں کے دھندے ٹھگی سے زیادہ کچھ نہیں۔

یورپ‘ امریکہ‘ چین‘ جاپان میں جنات اور ماورائی حیات پر بہت کام ہو رہا ہے اور سائنسی آلات سے بھی کام لیا جا رہا ہے۔ بہت اچھی اچھی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ہمارے ہاں شروع دور سے ہی اس کام میں بھی معاملہ صفر رہا ہے۔ اگر کچھ لکھا بھی گیا ہے تو ایسے قصوں کے سوا کچھ بھی نہیں جو بے سروپا ہیں اور اسلامی اصطلاحات میں اسلامی اصولوں کے خلاف بھی ہیں اور مزے کی بات ہے کہ ہمارے علماء ان واقعات پر مشتمل‘ قرون اولیٰ میں لکھی گئی کتابوں کو معتبر سمجھتے ہیں۔ ایک معتبر ترین کتاب میں لکھا ہے کہ ہم بیاباں سے گزرے دیکھا ‘ ایک سانپ بے گور و کفن مرا پڑا ہے‘ ہم نے اس کی قبر کھودی اور باقاعدہ تدفین کی۔ ناگاہ پہاڑی چوٹی سے آواز آئی تم سب بخشے گئے‘ جنت تمہارے نام لکھ دی گئی۔ پوچھا آپ کون‘ جواب ملا‘ میں فلاں جنات کے قبیلے کا سردار ہوں۔ ہمارا یہ ساتھی مر گیا‘ کوئی جنازہ پڑھنے والا نہیںتھا‘ تم نے یہ کیا اور بخش دیئے گئے۔

حال ہی کے ایک مولوی صاحب جو مرحوم ہو چکے ہیں‘ ان کا ایک ویڈیو کلپ موجود ہے کہ ایک جن مر گیا‘ اس کے ساتھی میرے پاس آئے کہ جنازہ پڑھا دو۔ میں چلا گیا۔ پتہ نہیں کتنے لاکھ جنات نے نمازجنازہ میں شرکت کی۔ امامت میں نے کی‘ پھر جنات مجھے گھرچھو ڑگئے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ مولوی صاحب پر غلط بیانی کا الزام نہیں لگانا چاہئے‘ لیکن التباس یاہالوسی ٹیشن تو سبھوں کو ہو سکتی ہے۔ مولوی صاحب کو بھی‘ ہم جیسے گنہگاروں کو بھی‘ کچھ اور باتیں پھر کبھی سہی۔

Comments

Click here to post a comment