پانچ زندہ راتیں اور دعا - نوشین رمضان

مسلمانوں پراحسانِ عظیم ہے کہ اللہ نے انہیں محمدمصطفیٰﷺ کی صورت میں ایسا رہنما عطا کیا، جنہوں نے انہیں دنیا اور آخرت میں پیش آنے والے ہر پہلو کے لیے مؤثر و مستنداعمال اور راہ دکھا ئی۔ رسولُ اللّٰہﷺ کے دیئے گئے اعمال میں سے ایک اہم اور بنیادی عمل دعا ہے۔

دعا کے لغوی معنی بلانا، پکارنا، مانگنا اور سوال کرنا ہے۔ شرعی اصطلاح میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنی تمام تر ضروریات کے لئے عرض و معروض کرنا دعا کہلاتا ہے۔ عملِ دعا میں دو خوبصورت پہلو ہیں ایک طرف توانسان تسلیم کرتاہے کہ وہ محتاج ہے اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی بندگی اور عبودیت، عاجزی،ذلت اور ضعف کا اظہار کرتا ہے۔ دوسری طرف وہ اللہ رب العزت کی ربوبیت،عظمت،قدرت،ہیبت اور جلال کا اقرار کرتا ہے۔ دعا سے حاصل ہونے والا قربِ الٰہی ہی دعا کی اصل ہے۔ اس سے مسائل کا حل ہونا ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو آپ (کہہ دیجئے میں) اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں البقرہ(186) دعا مانگنے والے اللہ کے پسندیدہ اور مقرب جبکہ د عا سے منہ موڑنے والوں کو نا پسندیدہ کہا گیا ہے۔ اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، بے شک جو لوگ تکبر کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے (المومن 60)

اللہ سے دعا مانگنا مستحسن اعمال میں سے ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ زندگی ہر موڑ مسنون دعائیں ہمارا سہارا بننے کے لیے موجود ہیں۔ رسولُ اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا جو اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتے اللہ ان پر ناراض ہوتا ہے(ترمذی)دعا انسان کو پر امید رکھتی ہے اور امید ایمان کی علامت ہے نا امیدی تو کفار کا شیوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو یقین جانو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید وہی لوگ ہوتے ہیں جو کافر ہیں (یوسف 86)دعا ایک کیفیتِ جذب کا نام ہے۔ دعا ایک مسلسل عبادت ہے۔ شرعی اصطلاح میں دعا کی قبولیت کے لیے ضروری لوازمات میں، رزقِ حلال، صلہ رحمی، بہت اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اندرونی کیفیات بھی مطلوب ہوا کرتی ہیں ۔

آئیے مقبول دعا کا انداز سیکھنے کے لیے ایک ایسی ماں کی طرف چلتے ہیں جس کا بچہ کچھ گھنٹوں سے لا پتہ ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ ایسی ماں کو کھانے کا ہوش ہوتا ہے نہ پینے کا، اول تو سوائے رونے اوردعا کے کچھ اور بے چاری سے ہوتا نہیں مگر بالفرض کسی کام میں بھی مصروف ہو تو بھی اس کا ذہن صرف اپنے بچے کی طرف ہوتا ہے۔ ہتھ کار ول دل یار ول ہاتھ کام کر رہے ہوتے ہیں دل و دماغ یکسو ہو کر رب سے محو گفتگو ہوتے ہیں۔ اللہ کے آگے آہ و زاری،منت سماجت کا اک عملِ مسلسل وقوع پذیر ہوتا ہے۔اس کے الفاظ سے کم علمی تو جھلک سکتی ہے،بے ادبی نہیں۔ اس کی بے چینی، اضطرا ب، بہتے آنسو تڑپتا دل، دعا کی قبولیت کی راہ کو ہموار کر دیتا ہے۔

آجکل ہم کیسے دعا کرتے ہیں؟ذہن کہیں الجھا ہوا، دل کہیں اٹکا ہوا، اور جلدی جلدی اللہ!وہ دے دے اللہ! یہ دے دے،اللہ! ایسا ہو جائے، اللہ! ویسا ہو جائے۔ لگتا ہے مانگ نہیں رہے، حکم کر رہے ہیں۔نہ ''اس ''کی'' بلندیوں ''کا خیال نہ اپنی ''پستیوں'' پہ نظر،نہ اس کی عطاؤں کا ادراک نہ اپنی خطاؤں پہ شرم،پھر کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی۔ ارے نادان تو نے مانگا ہی کب ہے؟؟؟

اہلِ اسلام کے لیے تو سارا سال ہی دعاؤں کی قبولیت کے در کھلے رہتے ہیں،بس دردِ دل، توجہ و دھیان، اخلاص شرط یے۔ مگر،رجب شعبان،اوررمضان کی مہینوں کو بہت فضیلت حاصل ہے،ان کو'' نیکیوں کی بہار'' کا موسم بھی کہا جا تا ہے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسولُ اللّٰہﷺ نے فرمایا جس شخص نے(ذکر و عبادت کے ذریعہ) پانچ راتیں زندہ رکھیں،اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ (وہ پانچ راتیں یہ ہیں) آٹھ ذی الحجہ کی رات، عید الفطر کی رات، عرفہ کی رات، بقر عید کی رات اور پندرہویں شعبان کی رات(کذافی الترغیب)
آنے والے دنوں میں ان پانچ میں سے دو راتیں قریب ہیں۔یعنی پانے کا وقت آ گیا۔

ایک ہے'' اپنے ''لیے مانگنا،'' اپنی'' اولاد، ''اپنے'' مسائل کے حل کے لیے استدعا کرنا اور دوسرا ہے''سب'' کی فکر کرنا، ساری امت کے لیے استغفا ر کرنا۔ بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسنون دعاؤں میں سے کثیر تعدا د ایسی ہے جو جمع کے صیغے لیے ہوئے ہیں، جسے ربنا ھب لنا، ربنا آتنا،جس سے اجتماعی دعاؤں کی افادیت مسلم ہو جاتی ہے۔چیز بانٹتے ہوئے کبھی محسوس ہوا ہو گا کہ جو بچہ چپ چاپ ہاتھ بڑھاتا ہے ااسے ایک حصہ مل جاتا ہے اور جو کہتا ہے میری بہن کا، میرے بھائی کا، وہ زیادہ لے جاتا ہے۔ یہ تو دینے والی ''مخلوق'' کا حال ہے۔سوچیے اگر دینے والا ''ربِ رحیم'' ہو، ''رزاقِ اکبر'' ہو، ''غنیِ حمید'' ہو تو ؟گوں ناگوں مسائل کے دور میں ضروری ہے کہ ہم رزقِ حلال اور صلہ رحمی کو یقینی بنائیں۔

تکبر کی روش کو چھوڑتے ہوئے رب ''کی خوشی کا اہتمام دستِ دعا کو دراز کر کے کریں۔ایمان کی حلاوت پانے کے لیے رب العزت کی قوتوں، اور بلندیوں کو دل وجان سے تسلیم کریں۔اجتماعی طور پہ ما نگتے ہوئے امت کو اپنا ''گمشدہ بچہ'' تصور کریں۔بلکتی ماں کی آہ و زاری،تڑپ،بے چینی اور اضطراب خود بخود پیدا ہو جائے گا۔اپنے گناہوں، سرکشیوں،سے توبہ کریں۔
سلامتی مانگیں، ساری امت کے ایمان، جان،مال، عزت آبرو کی! ملک وملت کی، ایٹمی اثاثوں کی، وطن کے محافظوں کی آئیے اپنے رب ''سے مانگیں وہ ''سب ''سے بے نیاز کردے گا۔ ان شاء اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */