مرد مظلوم ہے یا عورت - عامر خاکوانی

سوشل میڈیا پر جو مردوں عورتوں کی ظالم، مظلومیت والی بحث چل رہی ہے، اس میں نہیں الجھنا چاہ رہا تھا، مگر پھر سوچا کہ اپنی رائے بیان کر دوں۔ آج سارا دن ہی سیاسی پوسٹیں چلتی رہی ہیں تو ایک غیر سیاسی پوسٹ ہی سہی۔ میرا خیال ہے کہ خواتین خاص کر فیمنسٹ حلقے ایک غلطی کرتے ہیں جسے جوابی طور پر مرد حضرات خاص کر اینٹی فیمنسٹ بھی دہراتے ہیں۔
خواتین مرد کے صرف ایک روپ خاوند کو ڈسکس کرتی ہیں جبکہ مرد حضرات عورت کے صرف ایک روپ بیوی پر ہی تنقید کرتے ہیں۔

عورت کے مختلف روپ ہیں، ان میں سے ماں کا روپ ایسا ہے جو تقدس کے ساتھ محبت ، قربانی، ایثار اوربے پناہ خلوص کے جذبوں سے گندھا ہوا ہے۔ شاہد کوئی شخص ایسا ہوگا جسے اپنی ماں سے گلہ یا شکوہ ہو۔ بہت سی مائیں دیکھیں جو بطور بیوی یا بہو شائد تکلیف دہ رہی ہوں، مگر اپنے بچوں پر وہ جان چھڑکتی رہیں۔ بچہ چاہے بڑا ہو جائے، جوان بلکہ ادھیڑ عمر ہوجائے، ماں کی محبت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اسی طرح بیٹی کا رشتہ ہے، بیوی کا رشتہ ہے۔ ساس ، بہو،بھابھی، چچی، ممانی، خالہ، پھوپھو اور دیگر رشتے ہیں، نانی ، دادی کا رشتہ ہے۔ یہ سب عورتیں ہی ہیں۔ مردوں کی بڑی تعداد کا ان میں سے بیشتر رشتوں سے کوئی شکوہ شکایت نہیں بلکہ وہ ان کی محبتوں کے زیربار ہیں۔ ہماری دادی اور نانی پیدائش سے بھی پہلے انتقال کر گئی تھیں، میری امی کی ایک خالہ تھی، ہم انہیں نانی کہتے تھے، انہوں نے بھی نانی ہونے کا حق ادا کیا اورہمیشہ بے پناہ محبت دی۔ آج بھی ان کا چہرہ سامنے آتے ہی دل محبت سے بھر جاتا ہے۔ ایسے ہی اور بھی بہت سے نسوانی روپ اور رشتے ہیں۔ یہی صورتحال مردوں کی ہے۔ مرد بطور خاوند بعض یا بہت سی عورتوں کے لئے پریشان کن ہوگا، مگر بے شمار کیسز میں اپنے والد سے بچیوں کو شکوہ نہیں ہوگا۔ بیٹے سے تو خیر بہت ہی کم شکایت ہوگی، بہت بار بھائیوں نے بھی وفا اور محبت ، قربانی کی انتہا کی ہوتی ہے۔

اس لئے پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ مرد ہو یا عورت اس پر جنرلائز تنقید کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ آپ مرد یا عورت کے جس خاص روپ پر تنقید کر رہے ہیں، اس کا نام لیں۔ عورت ہی عورت کی دشمن ہے والی جنرلائز سٹیٹمنٹ غلط ہے۔ کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن کیسے ہوسکتی ہے؟کوئی بیٹی اپنی ماں، اپنی نانی، اپنی دادی کی دشمن کیوں اور کیسے ہوگی؟ بہنیں تو بہنوں پر جان چھڑکتی ہیں، وہ دشمن کیوں ہوں گی۔ عورتوں کے بعض روپ ایسے ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو بسا اوقات کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ مردوں کا ہے۔ دوسری بنیادی بات یہ کہ جس طرح اچھے لوگ، برے لوگ ہوتے ہیں، اچھے ڈاکٹر، برے ڈاکٹر، اچھے رائٹر برے رائٹر، اچھے فن کار برے فنکار، اچھے کھلاڑی برے کھلاڑی ، اسی طرح بطور جینڈر یا بطور کمیونٹی بھی ہوسکتا ہے۔ اچھے مکینک برے مکینک، اچھے پلمبر برے پلمبر، اچھے ترکھان برے ترکھان وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح اچھے مرد بھی ہوتے ہیں برے مرد بھی۔ اچھی خواتین بھی ہوتی ہیں بری خواتین بھی۔ مردوں یا عورتوں کے کسی روپ کے حوالے سے بھی یہ گڈ بیڈ والی تقسیم موجود ہے۔ اچھی بیویاں ہیں بری بھی ۔ اچھے خاوند ہیں برے بھی ۔ لائق اولاد ہوتی نالائق بھی۔ لائق اور فرماں بردار بیٹا ہوتا ہے اور کبھی بدبخت نافرمان بیٹا بھی۔ یہی معاملہ دوسروں کے لئے بھی برتا جا سکتا ہے۔ اس لئے خاوندوں، بیویوں کے حوالے سے بھی جنرلائز سٹیٹمنٹ احتیاط سے استعمال کرنی چاہیے۔ احتیاط سے کہا ہے، یہ نہیں کہ استعمال کی ہی نہیں جا سکتی۔ اس کی وضاحت آگے آ ئے گی۔ مردوں اور عورتوں کے چونکہ ایک خاص روپ خاوند اور بیوی کے حوالے سے بہت بحث ہوتی ہے، اس لئے ہم ان کی بات کر لیتے ہیں۔

خاوندوں میں اور بیویوں میں کچھ باتیں مشترک ہوتی ہیں، چند ایک ایسے امور ہیں جو بیویوں کی بڑی تعداد میں کامن ہیں، مردوں کی بڑی تعداد میں بھی کامن ہیں۔ انہیں ہم سلیقے کے ساتھ جنرلائزڈ سٹیٹمنٹ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسے عموماً بیویاں پوزیسو ہوتی ہیں۔ اکثر بیویاں اپنے خاوند کے کسی دوسری صنف نازک کے بارے میں جذبات، محسوسات کو جلدی نوٹ کر لیتی ہیں اور پوزیسو بھی ہوجاتی ہیں۔ مرد بھی پوزیسو ہوتے ہیں، مگر ان کا یہ جذبہ حساسیت ان کی انا کے حوالے سے زیادہ ہوتا ہے۔ وہ دوسرے لوگوں کے سامنے اپنی انا کے حوالے سے حساس ہوتے ہیں جلدی بھڑک جاتے ہیں۔اسی طرح کے اور بھی بہت سے عوامل ہیں۔ یہ چیزیں اتنی زیادہ تفصیل سے بیان ہوسکتی ہیں کہ ان پر درجنوں پوسٹیں بھی ناکافی ہوجائیں۔
اہم بات یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں، خاوندوں اور بیویوں کی نفسیات اور بائی ڈیفالٹ خوبیوں خامیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے مسائل ان بنیادی چیزوں سے ناواقفیت سے جنم لیتے ہیں اور کبھی ان سے بڑھ جاتے ہیں۔ ان دونوں اصناف کی نفسیات، خوبیوں خامیوں پر زیادہ لکھا جانا چاہیے، زیادہ بات ہونی چاہیے ۔ ممکن ہے اس سے ایشوز کی تفہیم بھی ہوجائے ۔ مردوں عورتوں کی جانب سے اپنا اپنا مقدمہ لڑنا ایک الگ معاملہ ہے، مگر ایک موٹی سی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ سماج میں عورت نسبتاً کمزور ، مظلوم ہے۔ مرد کو ہمارے سماج میں برتری حاصل ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ عمومی طور پر ہمارے مرد عورتوں کی نفسیات، ان کے محسوسات کو سمجھنے کی زحمت نہیں کرتے، وہ اس کے لئے تیار بھی نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت بنیادی طور پر کائنات کی خوبصورت ترین مخلوق ہے۔ اس کے بغیر مرد بیکار اور فضول ہیں۔

عورت کا کردار بڑا اہم ہے اور بہت سے معاملات میں مردوں سے زیادہ اہم اور حساس۔ مرد عموماً اس کا اعتراف نہیں کرتے اور شائد ایسا کرنا اپنی کمتری پر محمول کرتے ہیں۔ جوکہ بذات خود غلط ہے۔ میرا تجربہ، مشاہدہ اور تجزیہ یہ ہے کہ بیویاں گھر سنبھالتی ہیں، خاوندوں کی راحت کا باعث بنتی ہیں، بیک وقت کئی قسم کے ملازموں کی ذمہ داری نبھاتی ہیں، اپنے مرد کوجسمانی، جذباتی ، ذہنی طور پر آسودہ بھی کرتی ہیں، بچوں کی پرورش ، تربیت ، ان کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری نبھاتی ہیں، اپنی صنف کے دیگر تمام روپ اور رشتے بھی نبھاتی ہیں۔ بوڑھے ساس ،سسر کی خدمت بھی وہی کرتی ہیں، اکثر کیسز میں تھینکس لیس ریسپانس کے باوجود۔ میرا دیانت دارانہ احساس ہے کہ خاوندوں کو اپنی بیویوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اچھی بیوی اللہ کی بہترین رحمت، نعمت اور انعام ہے۔ اس کی دعا مانگنی چاہیے اور مل جانے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔ اللہ کی اس نعمت کی ناشکری بھی نہیں کرنی چاہیے۔

بری اور تکلیف دہ بیویاں بھی ہوتی ہیں۔ اللہ ان سے محفوظ رکھے ۔ جس کے مقدرمیں ایسی بیوی ہے اس سے ہمدردی ہے ، مگر بری بیویوں کا تناسب برے خاوندوں کی نسبت بہت کم ہے۔ خاوند عمومی طور پر زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہین۔ اگر برداشت کا ایوارڈ دیا جائے تو ہمارے ہاں میٹرک ، انٹر کے بورڈ نتائج کی طرح بیویاں ہی بیشتر میڈلز اور ایوارڈ سمیٹ کر لے جائیں گی، خاوند حضرات پیچھے رہ جائیں گے۔ اس لئے بھائی لوگو باتیں کم کرو، عمل زیادہ کرو۔ بیویوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرو، وہ خوش ہوں گی تو آپ کا گھر امن اور سکون کا گہوارہ بنے گا۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ بیویوں کو خوش رکھنا اتنا مشکل کام نہیں۔ عمومی طور پر محبت، نرمی، پیار اور کچھ خیال رکھنے سے بیوی خوش ہوجاتی ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */