خاندان سائبان - ثمرین شاہد

ارج جب سے درس سن کر آئی تھی خاموشی سی بیٹھی تھی سوچ میں گم تھی کیونکہ بات ہی کچھ ایسی تھی د رس میں آنٹی نے کہا کہ ہمارے نبی نے فرمایا ہے "جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو " بس یہ بات اس کے دل پر لگ گئی تھی اور وہ سوچ میں آج سے کئی سال پیچھے چلی گئی ۔ارج شادی ہو کر جب اپنے سسرال میں آئی تھی تو اس کی ساس کا انتقال ہو چکا تھا اس کی بڑی جٹھانی ساتھ ہی رہتی تھی جٹھانی نے کچھ دن تک تو صحیح رویہ اختیار کیے رکھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا لہجہ کرخت ہوتا گیا ہر وقت ارج کو نشانہ بنا کر کچھ نہ کچھ کہتی رہتی ارج خون کے گھونٹ پی کر خاموش رہتی۔

جنٹھانی کے چار بچے تھے دو ذرا بڑے اور دو چھوٹے کبھی کبھی خود روٹی پکاتی اور پھر جب سب کھانے بیٹھ جاتے اس وقت کہتیں ارے ارج روٹی کم پڑ گئی ہیں ذرا اور روٹی تو ڈال دو کبھی سب کے سامنے کہتی تم کو کھانا پکانا نہیں آتا مرچیں تیز کر دی ہیں گھر کو ڈھنگ سے صاف کرنا نہیں آتا غرض ان کی ساری توانائی صرف اس بات پر خرچ ہوتی کہ کسی نہ کسی طرح اسے نیچا دکھا دیں اور اس کی قدر کم ہو جائے اس وقت ارج بھی دین سے بہت دور تھی ان کی سب باتوں بر جلتی کڑھتی رہتی اور ان کی ذرا سی خا می کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور بڑھ چڑھ کر ان سے بدلہ لیتی وقت گزرتا گیا پھر ارج کے بھی بچے ہوگئے اور دیورانی آ گئی بس پھر کیا تھا ان دونوں کی ٹیم بن گئی اور گھر میں عجیب سا ماحول رہنے لگا ہر کوئی ایک دوسرے کی کاٹ میں لگا رہتا، وہ دونوں بھی بڑی بھابھی سے جلتےرہتے اور خون کے گھونٹ پیتے چند سالوں بعد جب گھر چھوٹا پڑھنے لگا تو سب الگ ہوگئے بڑی جٹھانی بھی الگ ہو گئیں ان کے سارے بچے باہر چلے گئے پڑھنے کے لئے وہ اکیلی رہ گئی میاں کاانتقال ہوگیا چھوٹی دیورانی ڈیفنس میں شفٹ ہو گئی اور پھر ارج نے بھی فلیٹ خرید لیا بظاہر تو ایسا لگا جیسے سب برے دنوں سے چھٹکارا مل گیا لیکن دل میں ادا سی سی تھی پتہ نہیں کیا بات تھی پر جب سے برابر والی نے درس میں بلانا شروع کیا تو آنکھیں کھل گئیں کہ ہائے اللہ اتنے سال سے وہ کیا کر رہی تھی سب کو برا سمجھ کر اپنے آپ کو مظلوم ثابت کر رہی تھی اور آج کے درس نے تو ہلا کر رکھ دیا پھر ایک ارادہ باندھا اور پھر دیورانی کے گھر پہنچ گئی۔

دیورانی نے کہا کیا ہوا خیریت تو ہے؟ ارج نے کہا نائلہ چلو بھابھی کے گھر چلتے ہیں دل بہت اداس ہے ان سے معافی مانگیں گے نائلہ نے کہا ہاں تم ٹھیک کہتی ہو میرے دل میں بھی یہی بات تھی لیکن ہمت نہیں تھی چلو پھر اس نے کہا! ارے ان کا بیٹا آنے والا ہے اس کی شادی ہے اسی بہانے مبارکباد دینے چلتے ہیں پھر دونوں نے پھولوں کا گلدستہ اور مٹھائی خریدی اور جٹھانی کے گھر چل پڑےاللہ کا نام لے کر گھر کی بیل بجائی جیٹھانی نے دروازہ کھولا اور کہا! ارے تم دونوں خیریت تو ہے آج کیسے راستہ بھول گئی کوئی کام پڑ گیا تھا کیا؟یہ سن کر ارج نے کہا ہم آپ کو آپ کے بیٹے کی شادی کی مبارکباد دینے آئے تھے یہ پھول اور مٹھائی لائے تھےجٹھانی نے حیرت سے کہا! اتنے سال بعد مجھ اکیلی کا خیال آگیاتم لوگوں کوبس یہ سننا تھا کہ ارج کی آنکھوں میں آنسوں آگے وہ جھٹ اںکے گلے لگ گئی اور کہا ہمیں معاف کر دیں اپنا دل صاف کر لیں پلیز ہم بڑی امید سے آپ کے پاس آئے ہیں اگر آپ نے معاف نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے خدا کے لیے اپنا دل صاف کر لیں جٹھانی نے اندر بلایا بٹھایا اور پانی پلایا اور کہا کہ میں پہلے ہی تم لوگوں کو معاف کر چکی تھی کیونکہ مجھے بھی اللہ نے سزا دی بچوں کے ہوتے ہوئے بھی میں تنہا رہ گئی ہوں مگر تمہارے گھر آنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی ارج کو ایسا لگا کہ بہت سارے جگنو اس کے گرد منڈلا رہے ہو ں اور اللہ نے معاف کر دیا ہو.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */