مضبوط خاندان، ذمہ داریوں میں توازن - کرن وسیم

ڈیڑھ سال ہونیوالا تھا عدنان کی امی کو اس کے لیئے لڑکیاں ڈھونڈتے ہوئے .. مگر اب تک کوئ لڑکی انکے مطلوبہ فریم میں فٹ نہیں ہوسکی ... وجوہات وہی تھیں جو عموماََ لڑکوں کی ماؤں کی طرف سے ہوتی ہیں.. کامل صورت و سیرت کا نمونہ لڑکی چاہیئے تھی جس میں ایک اضافی خوبی یہ بھی ہو کہ اچھا کماتی ہو ..یعنی کہ لڑکی کی پروفیشنل اور فنانشل اسٹرینتھ بھی اچھی خاصی ہو .. یہ ایک ایسی خوبی ہوا کرتی تھی جو بھلے وقتوں میں لڑکی والے , لڑکوں میں ڈھونڈا کرتے تھے .. بحرالحال ایک عدد کماؤ , خوبصورت , خوب سیرت , چھوٹی فیملی والی ڈاکٹر , انجینیئر , بینکر یا بزنس گریجویٹ کا رشتہ درکار تھا جو اب تک میسر نہ ہوسکا تھا.

یہ سب تحریر کرنے کا میرا مقصد یہ نہیں کہ میں اب انکے فرمائشی خاکے پر تنقید کا ارادہ رکھتی ہوں .نہ جی نہ . میرا ایسا کوئ ارادہ نہیں .. میری دلچسپی کا محور تو وہ ویل اسٹیبل , پروفیشنل لڑکی ہے جو کسی بھی طور اپنے شوہر پر انحصار ہی نہ کرتی ہو بلکہ الٹا اس ہی کو سپورٹ کرے . کبھی میں خود کو ( ہنسنا منع ہے ) اس خیالی خاکے میں فٹ کرکے سوچتی ہوں کہ اتنی زبردست لائف سیٹلمنٹ کے بعد مجھے شوہر کی صورت ایک سپورٹر ملے بھی تو میری زندگی میں اسکی " قوام " والی حیثیت ہوگی کہ نہیں??? کیا میں اپنی معصوم فرمائشیں خود ہی پوری کرتی رہونگی???یا پھر گھر اور دفتر کے درمیان گھن چکر . افففففوہ .میں بھی کیا اوٹ پٹانگ سوچنے لگتی ہوں.

اصل میں فکرمندی کی حالت اسوقت زیادہ ہوجاتی ہے جب ماڈرنزم کا شکار لبرل خواتین ہمارے فیملی سسٹم کو ہدف بناکر نت نئے فتنے اٹھاتی ہیں.. عورت کو اسکی فطری ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے اس عمل نے ہی فیمینیزم کی دلدادہ خواتین کو یہ مواقع فراہم کیئے کہ وہ شادی , مشترکہ خاندانی نظام اور گھرداری کو عورت پر بوجھ کے طور پر پیش کرتی ہیں.یہی بدلتی ہوئ خاندانی اور معاشرتی اقدار مغرب پسندوں کو مواقع فراہم کررہی ہیں کہ وہ مرد کو خاندان کے سربراہ کے منصب سے ہٹا کر , عورت اور مرد کے درمیان سماجی حیثیت کی کھینچا تانی شروع کرواسکیں...جو تباہی آج کے مغربی معاشروں میں اس صنفی اختلاف نے پیدا کی ہے کہ اب مغرب کی عورت اپنے اصل کی طرف لوٹنا چاہے بھی تو کامیاب نہیں ہوسکتی... اسی تباہی کا شکار ہمارے معاشرے کو بھی کیا جارہا ہے.. حالانکہ خواتین کو تعلیم و تربیت , پروفیشنل اسکلز اور بوقت ضرورت نوکری کی بھرپور اجازت اور مواقع ہمارے دین اور ملکی قوانین میں حاصل ہیں .. مگر عورت کو اسکی فطرت سے منحرف کرکے مادی ترقی کے زینے چڑھانا کسی طور پر خود عورت کیلیئے بھی فائدہ مند نہیں.

اللہ نے عورت اور مرد کے دائرہ اختیار انتہائ متوازن زندگی کیلیئے فطرت سے ہم آہنگ ہی بنائے ہیں.. ہر وہ بنیادی حق عورت کو حاصل ہے جو مرد کو عطا کیا گیا... لیکن اب ہم خود ہی ایک کو دوسرے کے دائرے میں فٹ کرنا چاہ رہے ہیں تو خلاف فطرت زندگی کی تباہیوں کا رونا ہی ہمارا نصیب نہ بن جائے.پہلے جو خصوصیات مرد میں دیکھی جاتی تھیں اب وہی خوبیاں عورت میں تلاشنے کا رجحان ہماری ذہنی حالت کو نمایاں کررہا ہے کہ ہم بھی فیمیلی ازم کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں.. ذمہ داریوں میں یہی عدم توازن خاندان کی اہمیت کو کم کررہا ہے .. بہت غیر محسوس طریقے سے .. ہم تباہیاں اور فطرت کی ناراضگیاں خود پر مسلط کررہے ہیں.. خدارا ! اب بھی سوچیئے تو .

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */