دوسرے خط نے کئی بنیادی سوال اٹھا دیئے - پروفیسر جمیل چودھری

ڈاکٹر جاوید اقبال اب ہم میں نہیں ہیں۔وہ بطور وکیل اور جج قوم کی خدمت کرتے رہے۔سینٹ کے ممبر بھی رہے۔میں نے کئی دفعہ انہیں سنا اور ملاقاتیں بھی رہیں۔وہ مرکز یہ مجلس اقبال کے پروگراموں میں اپنے خیالات کا اظہار بھر پور انداز سے کرتے تھے۔بطورجج سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے تمام وقت علمی اور فکری کاموں میں بسر کیا۔اقبال کی زندگی کے ایسے گوشے جو عوام کے سامنے نہیں آئے تھے۔ان پر ''زندہ رود''کی شکل میں بہت تفصیل سے کام کیا۔خطبات اقبال (انگریزی) کو آسان انداز سے پیش کرنے کا کام بہت سے دوست پہلے بھی کرچکے تھے۔ہر ایک کا اپنا اپنا انداز تھا۔لیکن جب جاوید اقبال نے ادھر توجہ کی تو خطبات کے مفہوم کو بہت ہی آسان بنا دیا۔

اسلامی فلسفیانہ طرز کی یہ کتاب لوگوں کی سمجھ میں کم ہی آتی تھی۔صرف لفظی اردو ترجمعے سے مشکلات حل نہیں ہوتی تھیں۔بہت سے دوسرے دوستوں کے ساتھ ساتھ اب جاوید اقبال نے اس پر غوروحوض کرکے مشکلات کو صاف کردیا ہے۔آج سے کئی سال پہلے انہوں نے اپنی خوبصورت خود نوشت"اپنا گریباں چاک" لکھی۔اس کے باب13میں انہوں نے لکھا کہ جب میں7سال کا تھا تو والد صاحب کو پہلا خط لکھا تھا۔جس میں انگلستان سے گراموفون/باجالانے کو کہاتھا۔اب جبکہ اقبال کو فوت ہوئے ایک عرصہ ہوگیا ہے انہوں نے والد صاحب کو"دوسرا خط"لکھا۔یہ خط کتاب کے10صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔خط میں وہ سوالات بھی ہیں جوتقسیم سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور ایسے مسائل بھی ہیں جو پاکستان کوبعد میں درپیش ہوئے۔اسی خط کا مطالعہ آج کی نشست کا موضوع ہے۔جاوید اقبال نے پہلا سوال خط میں یہ کیا ہے کہ آپ نے مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ قومیت کے موضوع پر بحث کی تھی۔مولانا صاحب کا موقف تھا کہ دورجدید میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔لہذا برصغیر کے مسلمانوں کی قومیت تو ہندی ہے۔

البتہ ملت کے اعتبار سے وہ مسلم ہیں۔آپ نے ان سے شدید اختلاف کیا کہ قوم اور ملت کے ایک ہی معنی ہیں۔مسلم قوم وطن سے نہیں بلکہ اشتراک ایمان سے بنتی ہے۔اس اعتبار سے اسلام ہی مسلمانوں کی قومیت اور وطنیت ہے۔مثال نبی اکرمﷺ کی ہجرت کی دی گئی۔مکہ سے مدینہ ہجرت ۔اگر وہ ہجرت نہ کرتے اور کفار مکہ سے صلح کرلیتے۔صلح کی بنیاد زبان،علاقہ اور عرب کلچر ہی بنتے۔کفار اپنے خداؤں کی پرتش کرتے اور مسلمان اپنے خدا کی۔تو حضور ﷺسب سے پہلے عرب نیشلسٹ قرار پاتے۔وہ پیغمبر اسلام یعنی دین کے پیغمبر نہ کہلاتے۔مدینہ جاکر انہوںنے "مہاجرین وانصار" کو اشتراک ایمان کی بناء پر امت،ملت یا قوم بنایا۔یوں ملت اسلامیہ وطن سے نہیں بلکہ اشتراک ایمان سے وجود میں آئی۔14اگست1947ء سے پہلے ایسی ہی نظر پائی باتیں سنائی گئیں۔لوگوں کو گرمایاگیا۔پاکستان بن گیا۔اب پاکستان ایک متعین جغرافیہ کے اندر ہے۔مشرقی پاکستان تو علیحدہ ہوگیا۔اب باقی ماندہ پاکستان کی بھی سرحدیں طے ہیں۔واہگہ،مناباؤ،چمن اور طورخم مشرقی اور مغربی سرحدیں شمار ہوتی ہیں۔شمال کی طرف خنجراب تک پاکستان ہے۔اب ہم پاکستانی کہلاتے ہیں اورہمارے پاسپورٹ پر ہماری قومیت پاکستانی درج ہے۔جو واضح طورپر ایک متعین علاقہ کو ظاہر کرتی ہے۔ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو،عیسائی اور سکھ بھی رہ رہے ہیں۔انتخاب بھی اب مخلوط طرز کے ہوگئے ہیں۔یہ پوچھا گیا کہ کیا اب ہم ایک قومی ریاست(Nation State)نہیں بن گئے اور یہ قومی ریاست ایک وطن کی بنیاد پر ہے۔

نظریات تو پھیلتے ہیں لیکن ہمارے نظریے نے اردگرد کے علاقوں تک پھیلاؤ نہیں کیا۔صرف اور صرف 55مسلم ملکوں میں سے2کے ناموں کے ساتھ "اسلامیہ"کا سابقہ ہے۔باقی بڑے بڑے مسلم ملک جیسے انڈونیشیاء اور سعودی عرب کے نام میں بھی اسلامی نہیں ہیں۔جاوید اقبال کہتے ہیں کہ کئی باتیں سمجھ میںنہیں آتیں۔جاوید اقبال کہتے ہیں کہ آپ نے فرما رکھا ہے کہ دنیائے اسلام میں قومیں ریاستیں بن سکتی ہیں۔قومی ریاستیںپہلے اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑی ہوںاور بعدازاں اشتراک کرلیں یوں وہ امت کہلائیں گی۔اس بنیاد پر امت بنانے کی جتنی کوشش ہوئیں وہ بری طرح فلاپ ہوئیں۔اب مسلمانوں میں عرب اور نان عرب کے اختلافات اور سنی و شیعوں کے اختلافات بہت واضح ہوچکے ہیں۔لگتا ہے کہ بہت جلد آپس میں ہی جنگ شروع ہوجائے گی۔ایمان کی بناء پر اشتراک امت صرف ایک خواب ہے۔پھر جاوید اقبال نے پاکستان کے ساتھ بیتے دنوں کی حالیہ کہانی اقبال کے سامنے رکھی۔ہمارا ہمسایہ افغانستان بھی صاحب ایمان لوگوں کا ملک ہے۔جب80ء کی دہائی کے شروع میں ایک غیر مسلم طاقت نے افغانستان پر پہلا حملہ کیاتو پاکستان نے افغان قوم کی بھر پور حمایت کی۔لیکن دوسری دفعہ جب ایک غیر مسلم طاقت نے حملہ کا اعلان کیا۔تو پاکستان حکمرانوں نے "سب سے پہلے پاکستان"کا نعرہ لگایا اور مسلم افغانستان پر حملہ کرنے کے لئے اپنے ہوائی اڈے،بندرگاہیں اور زمینی راستے غیر مسلم طاقت کے حوالے کردیئے۔مسلم افغانستان کی تباہی ہمارے ہی ہوائی اڈوں سے ہوتی رہی اور ہم دیکھتے رہے۔

آپ کے بنائے ہوئے پاکستان کے حکمرانوں نے 2علیحدہ موقعوں پر2۔علیحدہ پالیسیاں کیوں اختیار کیں؟۔پاکستانی عوام اور دانشوروں کواسکی آج تک سمجھ نہیں آئی۔دوسری دفعہ ہماری پالیسیوں اور رعائتوں کی وجہ سے افغانستان کے لاکھوں اہل اسلام مارے گئے۔ہماری حمایت کی وجہ سے اب تک امریکہ ایک اسلامی ملک میں ڈیرے جمائے بیٹھا ہے۔اے والد محترم اس صورت حال کی وضاحت کریں۔ہمیں توان پالیسیوں کی ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔اس کے بعد انہوں نے والد صاحب سے سوال پوچھا۔اے پدرمحترم اگر اب ہماری شناخت کے لئے وہ علاقہ مختص ہوگیا ہے۔جسے پاکستان کہتے ہیں اور جس کا مفاد ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے تو پھر مولانا حسین احمد مدنی کا قول کیسے غلط ثابت ہوا؟۔کیا ہمارے عمل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قومی یا وطنی طورپر توہم"پاکستانی"ہیں۔اور ملی طورپر ہم مسلم؟۔اس مسٔلہ پر ذہن میں الجھاؤ ہے کیسے دورکیاجائے؟۔اسلامی یامسلم ریاست کے کئی نمونے آج کے زمانے میں موجود ہیں۔مثلاًترکی ماڈل،سعودی ماڈل،ایرانی ماڈل یاسابقہ طالبان کا افغانستانی ماڈل۔اسی طرح تاریخ اسلام میں خلفائے راشدین سے لیکر ترکی میں خلافت کے خاتمہ تک کئی ماڈل نظر آتے ہیں۔ان مختلف نمونوں(ماڈلز) کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ دراصل اسلامی ریاست کی کوئی حتمی شکل نہیں ہے۔کیا یہ سوچ درست ہے؟ اگر اسلامی جمہوریت کا تصور ہم شوریٰ والی آیت(سورۃ42،آیت38) سے اخذ کرتے ہیں تو اسلامی تاریخ میں شوریٰ کا رول ہمیشہ خلیفہ کو"مشورہ"دینانظر آتا ہے۔

اور خلیفہ اس کے مشورہ کا پابند نہیں ہوتا۔اسکی مرضی ہے کہ وہ مشورہ قبول کرے یا رد کرے۔یوں دورجدید کی پارلیمنٹ کی حیثیت تاریخی روایات کی رو سے ہوا میں اڑجاتی ہے۔اوپر والی آیت کی صحیح معنوں میں"جمہوری تفسیر"ہمیں صرف خوارج کے ہاں ملتی ہے۔لیکن انہیں تو شروع ہی سے دائرہ اسلام سے خارج کردیاگیاتھا۔مسلمانوں کی جدید تاریخ میں سید جمال الدین افغانی پہلی شخصیت تھے جنہوںنے ترکی میں سلطان کو شوریٰ یا اسمبلی کے مشورے کا پابند بنانے کی کوشش کی۔مگر سلطان عبدالحمید نے ان کے خلاف "شیخ الاسلام" سے کفر کا فتویٰ جاری کرادیا۔جاوید اقبال نے اپنے والد محترم سے یہ بھی پوچھا ہے کہ" روحانی جمہوریت "سے آپ کی کیا مراد ہے؟۔کیا اس تصور کی بنیاد آپ میثاق مدینہ پر رکھتے ہیں؟۔یا سورۃ5آیت59پر جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو تلقین کی گئی ہے کہ ایک دوسرے سے نیک کام انجام دینے میں سبقت حاصل کرو۔روحانی جمہوریت کی اصطلاح کی آپ نے وضاحت نہیں کی۔بعض اقبال شناس آپ کے اس تصور کو مختلف مسلم فرقوں میں رواداری تک محدود رکھتے ہیں۔اور اس میں غیر مسلم کو شریک نہیں کرتے۔آپ نے یہ بھی فرمایاتھا کہ جب برصغیر میں مسلم ریاست قائم ہوگی تو آبادیوں کے تبادلے کی ضرورت نہیں ہوگی۔یعنی اس ریاست میں غیر مسلم بھی موجود ہونگے۔اس وقت پاکستان میں عیسائی،ہندو اور قادیانی موجود ہیں۔کیا یہ بھی اول درجے کے شہری ہونگے؟۔یاانکی حیثیت ثانوی ہوگی؟۔

کیاآپ کی روحانی جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ مجوزہ"اسلامی ریاست" میں بلا تفریق مذہب،ذات پات،رنگ ونسل،زبان سب برابر کے شہری ہونگے؟۔ہمارے ہاں اب اقلیتوں کی علیحدہ سیٹیں بھی ہیں۔آپ کی بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔آپ کے ہاں اسلام کے نفاذ کے لئے سب سے زیادہ زور تعلیمی اداروں میں اسلامی اخلاقیات کی تربیت دینے پر ہے۔انسان دوستی،رواداری،حلم وعجز اور سادگی۔ایسی خصوصیات کی ترغیب کے ساتھ طلباء وطالبات میں تجسس کا جذبہ پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اختراع وایجادات کے منقطع سلسلے کو دوبارہ جاری کرسکیں۔آپ کی نگاہ میں طبیعات،ریاضیات یا سائنس کے دیگر موضوعات میں دلچسپی لینا بھی ایک طرح کی عبادت ہے۔آپ نے یہ فرمادیا کی محکمومی کے دور میں اجتہاد کی بجائے تقلید کا راستہ اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔مگر اے پدرمحترم کیا ہم اب بھی صحیح معنوں میں آزاد ہیں یا محکومی کے دور سے ہی گزر رہے ہیں؟۔جاوید اقبال نے والد صاحب سے موجودہ مارکیٹ اکانومی کے بارے میں پوچھا ہے ۔بنکوں کے سود کے بارے پوچھا ۔پاکستان میں سود کے متبادل تلاش کرنے کی جتنی کوششیں کی گئیں۔ابھی تک کامیاب نہیں ہوئیں۔جب متبادلات پر گہرا غوروحوض کیاجاتا ہے تو وہ بھی سود ہی نکلتا ہے۔اگرچہ روایتی مولوی ان متبادلات کو جائز قرار دے رہے ہیں ۔

آپ نے اپنی اسمبلی کی رکنیت کے زمانے میں یہ تجویز دی کہ سرکاری زمین بے زمین کاشت کاروں میں آسان اقساط میں فروخت کردی جائے۔آپ کے خیال میںزمیندار صرف اتنی زمین رکھے جسے وہ خود کاشت کرسکے۔لیکن پاکستان میں تو ابھی تک بڑے بڑے زمیندار ہیں جو ہزاروں ایکٹر کے مالک ہیں۔اور ایسے کئی لاکھ کاشت کار ہیں جو دوسروں کی زمین کاشت کرتے ہیں۔اس مسٔلہ کو کیسے حل کیاجائے؟۔چونکہ آپ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں نظاموں کے خلاف ہیں۔متبادل فلاحی اسلامی ریاست دور جدید میں کیسے بنائی جائے؟۔آپ قانون وراثت کا اطلاق پر صحیح اور بھر پور انداز سے چاہتے تھے؟۔موجودہ پاکستان میں خواتین کو اب بھی حصہ نہیں ملتا۔مسٔلہ بڑا گنجلک ہوگیا ہے۔رہبری فرمائیں؟۔جاوید اقبال نے یہ بھی پوچھا کہ میرے مطالعہ کے مطابق آپ مجوزہ اسلامی ریاست میں اسلامی معاشی برکات سے متعلق قانون سازی کو اسلامی تعزیزرات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

اسلامی معاشی برکات کے لئے ہم ابھی تک بھی کوئی بڑا اور ماثر کام کر نہیں سکے۔آپ ہدایت فرمائیں؟۔آخر میں جاوید اقبال نے موجودہ حکمرانوں کے بارے ایک بات بتائی۔ اور بات ختم کردی۔ایک مرد حق(جناح) نے ہمارے لئے ملک بنا دیا۔بعدازاں جو بھی مردان وزنان حق آئے۔آپ خود ہی بتایئے۔کیا وہ آپ کے قائم کردہ معیار پر پورے اترتے تھے؟۔پھر بھی آپ کے فرمان کے مطابق"ہم شجر سے پیوستہ ہیں اور امید بہار رکھتے ہیں"۔نئی نسل کے لئے اس خط میں پوچھے گئے تمام سوالات بہت اہم ہیں۔باتیں سوچنے والی ہیں۔جاوید اقبال نے دوسرا خط لکھا اور کتاب میں شامل کرکے شائع کردیا۔وہ اسے لیٹر بکس میں تو ڈال نہیں سکتے تھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */