مسلمان سراپا احتجاج - لطیف النساء

اسلام ہی وہ قوت ایمانی ہے جو مسلمانوں کی جان ہے اور دین اسلام تو سراسر اخلاق ہے ، امن ہے ، سلامتی ہے تو دنیا بھر کے مسلمان کبھی بھی کسی دوسرے کو تشدد کا نشانہ نہ بنائیں گے اور نہ ہی کسی وسرے مذہب کے خلاف کوئی بات کرینگے کیونکہ مسلمان جانتے ہیں کہ دنیا کے تمام مذاہب بھلائی کی ہی تعلیم دیتے ہیں اور یہی انسانیت ہے ۔بلاوجہ کسی کو تنگ کرنا ، چھیڑنا اور خاص کر مذہبی معاملات میں تو یہ بہت ہی بری بات ہے۔

مسلمان صحیح معنوں میں اللہ کے مومن بندے ، اللہ کی تو حید رسالت اور آخرت پر مکمل یقین رکھنے والے ، ساری زندگی رسول کی سنت پر عمل کرنا ان سے محبت کا حق ان کی اتباع ہے ۔ ہم مسلمان اپنے ضمیر کو جھنجوڑیں ! استغفار کریں! اپنے گناہوں کی معافی شعوری طور پر مانگیں۔ رب کو راضی کریں اور رب کے حبیب رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دم زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر کریں کہ آپؐ کی عزت ہمیں اپنی جان ، مال، عزت ابرو یہا ں تک کہ ہمارے ماں باپ آپؐ پر قربان ان سے بھی زیادہ ہے تو ہم ان کے خلاف کچھ غلط نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں تو پھر ان کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں اور اور ناموس رسالت کیلئے کارٹون جیسی لغو چیزیں بنانے والوں کو دنیا کا کوئی مسلمان کبھی بھی عزت سے نہیں دیکھے گا ۔ ہمیں تو پہلے اپنی ہی صفوں میں ایمانی اتحاد ، اخوت بھائی چارہ عام کرکے ان مخالف قوتوں کے خلاف بنیان مرصوص بن جانا چاہئے۔ہمیں دنیا کے تمام مسلمانوں اور عالمی فلاحی اداروں کو بھی ان گستاخانہ کاروائیوں کیلئے احتجاج کیا ایک بہت ہی بڑا پر عزم اور دبنگ مگر پر امن احتجا ج کرنا چاہئے ۔عالمی طاقتوں کو ان کی اکنامی کو ہلا دینا چاہئے ۔ فرانس کے خلاف سراپائے احتجاج بن کر مستقل کھڑے ہو جانا چاہئے نہ صرف ان کے سفارتکاروں کو واپس بھیجنا چاہئے بلکہ اپنے سفارتکاروں کو فوراً بلوا لینا چاہئے ۔

ایسے لوگوں کی ہر طرح کی مصنوعات کا پوری دنیا میں مشترکہ طور پر بائیکاٹ کرنا چاہئے تاکہ برائی کے خلاف ان کی جڑ کو کاٹ دیا جائے کسی کو حق نہیں کہ وہ دوسرے کے مذہبی مبلغین رہبروں ، علماء ، اساتذہ ، والدین تک کی توہین برداشت نہیں تو رسول اللہ ﷺ کی توہین نعوذ باللہ کبھی بھی کسی کو بھی برداشت نہیں!! ہم کسی بھی پیغمبر کی تو ہین برداشت نہیں کرسکتے یہ بات انہیں اپنے ٹوٹل سوشل بائیکاٹ سے اور مصنوعات سے بھی مکمل بائیکاٹ سے کیا جا سکتا ہے ۔ ان کے خلاف ان کے پر خطر عزا ئم کے خلاف ہمیں سراپائے احتجاج بن کر ہر جگہ ہر ملک ہر گلی کوچے اور ہر ہر لیول پر ۔ پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور انٹرنیٹ ہر جگہ احتجاج احتجاج کرنا ہے ۔ حکومتی سرپرستی اگر نہ ہو تو انکے لئے قابل شرم ہے انکا منصب جو اپنے منصب اعلیٰ کی مقصدیت اور افادیت کو نہ جاننا ہو نہ تحفظ کا حق رکھتا ہو تو ایسی حکومتوں کو اللہ حافظ اللہ کے نیک بندے الحمد للہ بہت ہیں ۔

ہمیں ہر طرح کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف اس غلیظ حرکت کے سدھار کی طرف اتنی بڑی کوشش کرتی ہے کہ کبھی کسی کو دوبارہ جرأت نہ ہو کہ وہ نبیؐ کی شان میں کچھ کہے ہمارا کردار بھی ہمارا ترجمان ہو ہم صرف باتوں سے محبت کا دم بھرنے والے نہ ہوں بلکہ صحیح معنوں میں رسول کے امتی اور ان کی شریعت تا قیامت شعوری طور پر دم بھرنے والے ہوں تو ہماری کوششوں میں بھی اثر ہو گا اور بیرونی طاقتیں بھی سرنگوں ہونگی ورنہ ہمارا ہی دوغلہ پن ہمیں دنیا اور دین دونوں میںرسوا کردے گا اور ہم مسلمان کبھی ایسا نہیں چاہیں گے ۔ اب کرنے کا کام یہ ہے کہ جب زندگی کو خطرہ ہو تو مال لگائو جان بچائو اور جب ایمان کو خطرہ ہو تو مال بھی لگا ئو جان بھی لگائوایمان بچائو کہ اس سے ہی آخرت اور دنیا دونوں بچا لیں ۔ ہمارا رویہ گستاخانہ نہ ہو ، ہمارا عمل پر تشد د اور دوسروں کیلئے تکلیف دہ نہ ہو مگر پر امن طریقے سے برائی اور وہ بھی اتنی بڑی گستاخی کو روکنے کیلئے تمام عالم کو اکٹھا ہو کر کام کرنا ہے اور کسی کو اس معاملے میں آگے بڑھنے کا ذرہ برابر موقع نہیں دینا۔ وہی بات جو اس دن سیرت کے پروگرام میں ہوئی تھی کہ

"رکھ کر نبی کو کو سامنے آرائشِ کردار کر "واقعی

آج بھی ہوجوبراہیم کاا یماں پیدا

آگ کرسکتی ہےاندازِگلستاں پیدا

مطلب ہمیں اپنے ایمان کو بڑھانے کی ضرورت ہے شریعت کے نفاذ کی ضروت ہے ۔آدمی کے احترام ،عزت اور ا خلاق کی ضرو رت ہے ۔ آدمی کے احترام ، عزت اور اخلاق کی ضرورت ہے ۔ دل کو سکون ، اطمینان قلب تو ذکر اللہ سے ہی ہے سی سے مدد چاہتے اس پر نظر رکھتے ہوئے اپنی کوششوں کو صراطِ مستقیم پر رکھکر بڑھتے جائیں ۔ اللہ سے دعائیں کرتے جائیں تو وہ کامیابی عطا فرمانے والے ہیں وہ جسے چاہے عزت دے تمام عزت اسی کے ہاتھ ہے ۔ وہ تمام تعریف و توصیف کے لائق ہے پس اے رب کائنات اس کائنات میں مسلمانوں کا بول بالا کردے اور مسلمانوں کو ہم ناچیزوں کو حقیروں کو دین کی ابھرتی نکھرتی اور دنیا پر چھا جانے والی بہاریں دکھادیں جن سے نہ صرف ہمارے دل جسم جان سرور پائیں بلکہ ہماری روحیں تک پرسکون ہو جا ئیں ۔ آمین یا رب العالمین

یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرمادے جو روح کو تڑپا دے

اگر ہم ابھی بھی نہ تڑپے تو سمجھو ہمارے دل مردہ ہو چکے ہیں اور ہم دنیا میں کھو گئے ہیں ۔ خود کو فریب دے رہے ہیں رب کعبہ ہمیں وہ قوت وہ طاقت ایمانی دے جو اس دنیا کی غلاظت کو جلادے اور تباہی بربادی ، فحاشی ، بے ایمانی کو ، سلامتی اور امن میں بدل دے اور دنیا میں سلامتی ہی سلامتی ہو امن ہی امن ہو مسلمان ہی مسلمان ہوں تیری دین کی سربلندی ہو بے شک اس میں آپکی رہنمائی اور ہماری ہوشمندی ہو۔ اللہ دشمنوں کی چالیں انہیں پر پلٹ دے اور ان ہی شریروں کے شر سے ایسی خیر نکال جو سب کو سلامتی عطا فرمادے۔ آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */